بیوی کو حالت حمل میں طلاق دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں:

اگر کسی نے غصے میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دیدی جب کہ وہ حاملہ بھی ہے، تو کیا ایک طلاق ہوگئی ہے؟ اگر ہو گئی ہے تو اس کا کفارہ کیا ہوگا۔

الجواب حامدا ومصلیا

صورت مسئولہ میں اگر شوہر نے واقعتا اپنی  حاملہ بیوی کو ایک طلاق دی ہے تو طلاق واقع ہوگئی۔ دورانِ حمل دی جانے والی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور  اس کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) ہے۔

طلاق کا کفارہ نہیں ہوتا، صرف توبہ استغفار کرے۔ نیزاگر شوہر چاہے تو  وضع حمل سے قبل بغیر نکاح کے رجوع کر سکتا ہے۔ اگر بچہ

پیدا ہو گیا تو رجوع کے لیے تجدیدِ نکاح (دوبارہ نکاح) کرنا لازم ہے۔ دونوں صورتوں میں شوہر کےپاس آئندہ کےلئے دوطلاق کااختیار رہ جائے گا ۔

حوالہ جات

قال اللّٰه سبحانه وتعالیٰ :

وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۔ الطلاق 4

الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان۔ البقرۃ 229

المصنف لابن أبي شیبة ، کتاب الطلاق،  ما قالوا في الحامل کیف تطلق،رقم 17748، ج4 ص 57

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ:نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدٍ،قَالَا : إذا کانت حاملاً طلّقها متی شاء

وفی ردالمختار علی الدر المختار، ط دارعالم الکتب ریاض، کتاب الطلاق،مطلب فی طلاق الدور، ج4 ص 434

قال فی الدرالمختار: (وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل

وفی ردالمختار علی الدر المختار، ط دارعالم الکتب ریاض، کتاب الطلاق، مطلب فی طلاق المدھوش، ج4، ص 452

قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها:

إنه على ثلاثة أقسام:أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه۔ الثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله۔ الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اهـ  ملخصاً من شرح الغاية الحنبلية۔ لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافاً لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش۔۔۔ الخ

اللباب فی شرح الکتاب ،ج3 ص39

قولہ: وطلاق الحامل یجوز عقیب الجماع: لانہ لا یؤدی الی اشباہ وجہ العدۃ، وزمان الحبل زمان الرجعۃ فی الوطء۔ (ویطلقھا) ای للحامل (للسنۃ) ثلاثا  فی ثلاثۃ اشھر

العنایۃ شرح الھدایہ، کتاب الطلاق، باب طلاق الحامل، ج3، ص 478

(وَطَلَاقُ الْحَامِلِ يَجُوزُ عَقِيبَ الْجِمَاعِ)؛ لِأَنَّهُ لَا يُؤَدِّي إلَى اشْتِبَاهِ وَجْهِ الْعِدَّةِ، وَزَمَانُ الْحَبَلِ زَمَانُ الرَّغْبَةِ فِي الْوَطْءِ لِكَوْنِهِ غَيْرَ مُعَلَّقٍ أَوْ يَرْغَبُ فِيهَا لِمَكَانِ وَلَدِهِ مِنْهَا فَلَا تَقِلُّ الرَّغْبَةُ بِالْجِمَاعِ

البنایہ شرح الھدایۃ، ط دارالکتب العلمیۃ بیروت، کتاب الطلاق، باب طلاق السنۃ،ج5 ص 291

قال فی الھدایۃ

وطلاق الحامل يجوز عقيب الجماع، لأنه لا يؤدي إلى اشتباه وجه العدة، وزمان الحبل زمان الرغبة في الوطء لكونه غير معلق، أو يرغب فيها لمكان ولده منها، فلا تقل الرغبة بالجماع.

الاختیار لتعلیل المختار، ط دارالکتب العلمیۃ بیروت، کتاب الطلاق ج3، ص 121

وَحَسَنُهُ:أَنْ يُطَلِّقَهَا ثَلَاثًا فِي ثَلَاثَةِ أَطْهَارٍ وَلَا جِمَاعَ فِيهَا، وَالشَّهْرُ لِلْآيِسَةِ وَالصَّغِيرَةِ وَالْحَامِلِ كَالْحَيْضَةِ، وَيَجُوزُ طَلَاقُهُنَّ عَقِيبَ الْجِمَاعِ

فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم

Facebook Comments