درمیان سال میں مال اگر نصاب زکوة سے کم ہو جائے تو کیا دوبارہ سال شروع ہو گا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں

حولان حول کے درمیان مال اگر نصاب زکوة سے کم ہو جائے تو کیا دوبارہ سال شروع ہو گا

الجواب حامدا ومصلیا

            زکوٰۃ کے واجب ہونے کے لیے حولانِ حول شرط ہے  یعنی نصابِ زکوٰۃ پر سال گزرنا ضروری ہے۔ لیکن یاد رہے کہ کل مال پر سال گزرنا ضروری نہیں بلکہ صرف نصاب پرسال گزرنا ضروری ہے۔ نصاب پر سال گزرنے کامطلب یہ ہے کہ سال کے شروع اور آخر میں اتنا مال موجود ہو جو نصاب کو پہنچ جائے۔ سال کے درمیان میں مال کے  نصاب سے کم یا زائد ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ البتہ اگر سال کے دوران کسی وقت  مال بالکل ہلاک یا ختم ہوجائے، توزکوۃ ساقط ہوجائے گی  اور زکوۃ کا نصاب پورا ہونے پر  سال کی گنتی  از سر نو  شروع ہوگی۔

حوالہ جات

   قال في الدر المختار ،كتاب الزكاة.باب زكاة الغنم، ج 3 ص 214     ط دارعالم الکتب الریاض

( والمستفاد) ولو بهبة أو إرث ( وسط الحصول يُضم إلى نصاب من جنسه) فيزكيه بحول الأصل.

وقال في الدر المختار، كتاب الزكاة. باب زكاة المال.ج3ص233

( و شرط كمال النصاب ) ولو سائمة ( في طرفي الحول) في الإبتداء للإنعقاد و في الإنتهاء للوجوب ( فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول

قال فی الشامیۃ تحت  قوله: ( فلو هلك كله) أي : في أثناء الحول بطل الحول ، حتى لو إستفاد فيه غيره إستأنف له حولا جديدا.

وفي تبيين الحقائق شرح کنزالدقائق، ط مكتبة إمدادية ملتان، ج1 ص 280، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال

     قال رحمہ اللہ: (و نقصان النصاب في الحول لا يضر ان كمل في طرفيه) أي إذا كان النصاب كاملا في إبتداء الحول و إنتهائه فنقصانه فيما بين ذلك لا  يُسقط  الزكاة۔۔۔۔۔۔۔۔ إلا أنه لا بد من بقاء شيء من النصاب الذي إنعقد عليه الحول لِيُضم المستفاد إليه؛ لأن هلاك الكل يبطل إنعقاد الحول ؛ إذ لا يمكن إعتباره بدون المال.

وفی التاتارخانیہ، ط دائرۃ المعارف العثمانیہ الھند،ج 2 ص 251کتاب الزکاۃ، الفصل الخامس فی انقطاع حکم  الحول وعدم انقطاعہ:ج۔2 ص251.252

وفی عروض التجارۃ والدراھم والدنانیر نقصان النصاب فی اثناء الحول لایمنع وجوب الزکوۃ بلا خلاف۔ وفی السراجیۃ: وان عاد الی شیٔ قلیل،۔۔۔۔شرح           الطحاوی:ولو کان النصاب کاملا فی اول الحول وکاملا فی آخر الحول وفیما بینھما ھلک کلہ ولم یبق منہ شیٔ لاتجب الزکاۃ۔ وفی السغنا قی بالاتفاق۔

وفی الھندیۃ، ط دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان، ج1،ص۔193، کتاب الزکاۃ، الباب الاول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا۔

  ومنھا حولان الحول علی المال : ۔۔۔۔۔ واذا کان النصاب کاملاً فی طرفی الحول فنقصانہ فیما بین ذلک لا یسقط الزکاۃ

فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم

Facebook Comments