آپ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی ہی تقلید کیوں کرتے ہیں، باقی تین ا ئمہ میں سے کسی کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟

 

سوال

آپ امام ابو حنیفہ  رحمہ اللہ کی ہی تقلید کیوں کرتے ہیں،

باقی تین ا ئمہ میں سے کسی کی تقلید کیوں نہیں کرتے؟

جواب

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کا ارشاد گذر چکا ہے کہ برصغیر میں صرف امام صاحبؒ کے مذھب ہی پر عمل لازم ہے اور وجہ بھی بتائی کہ یہاں دوسرے مذاھب کے علماء موجود نہیں ہیں کہ ہر مسئلہ کا جواب دے سکیں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ امام صاحب کا مذھب کتاب و سنت کے مطابق ہے، اس بارے میں دلائل اور اہلحدیثوں کی گواہی نقل کر رہا ہوں۔

تقلید کے بارے میں حضرت شاہ صاحبؒ کا نظریہ یہ تھا کہ اگر بالفرض کوئی شخص کسی ایسے ملک میں قیام پذیر ہو جہاں کسی دوسرے مذہب کا کوئی عالم یا اس کی کتابیں موجود نہ ہوں تو اس کو مروجہ مذہب حنفیہ کی تقلید کرنا ضروری ہے اسی میں خیر ہے۔ فرماتے ہیں:۔

جب کوئی شخص ہندوستان یا ماوراء النہر میں سکونت پذیر ہو جہاں کوئی شافعی ٗ مالکی اور حنبلی عا لم نہ ہو اور نہ ان مذاہب کی کتابیں ہی میسر آسکتی ہوں تو اس عامی شخص پر واجب ہے کہ وہ صرف امام ابوحنیفہؒ کی تقلید کرے ٗ ان کے مذہب  سے علیحدہ ہونا اس کے لئے حرام ہے۔ کیونکہ اس سے علیحدگی کی صورت میں وہ شریعت کی رسی اپنی گردن سے اُتار پھینکے گا اور پھر یونہی آزاد  پھرتا پھرے گا۔

غیر مقلدوں کے سب سے بڑے عالم اور محقق نواب صدیق حسن خان صاحبؒ اپنی مشہور کتاب ’’ابجد العلوم‘ ( ج ۲ ص ۴۰۲)‘ میں رقمطراز ہیں:۔

مذاہب مشہور میں جن کو امتِ مسلمہ میں قبولیت کا شرف حاصل ہے۔ اور جن کو اہل اسلام  نے صحت کے ساتھ قبول کیا ہے  ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہ امام مالک  امام شافعی  امام احمد بن حنبل (رحمہم اللہ تعالیٰ) کے مذاہب اربعہ ہیں۔ پھر ا ن میں سب سے زیادہ صحیح ٗ زیادہ حق بہتر وبرتر اور اولیٰ و اعلیٰ مذہب امام اعظم رحمہ اللہ کا مذہب ہے۔  اس لئے کہ امام ابوحنیفہؒ  علم کی پختگی  طبیعت کی عمدگی ٗ احکام کے استنباط میں رائے کی قوت ٗ کتاب و سنت کی معرفت کی کثرت اور علم احکام میں رائے کی صحت کے لحاظ سے سب  ائمہ کرامؒ سے فائق و برتر ہیں۔

یعنی غیر مقلدوں کے امام ومجددنواب صدیق حسن خان صاحب ؒ کی نظر میں مذاہب اربعہ میں سب سے زیادہ  صحیح ٗ سب سے اولیٰ واعلیٰ اور سب سے بہتر و برتر امام اعظم ابوحنیفہؒ کا مذہب ہے۔(شعر پڑھ لیں)

مولانا علامہ عبدالکافی القرشی م ۱۹۶۰ء اہلحدیث  مسلک کے امام اور جماعت عاملین بالحدیث بنگال وآسام کے مسلمہ قائدو صدر جمیعت اہلحدیث مشرقی پاکستان کی رائے امام اعظمؒ اور ان کی فقہ کے انضباط واستحکا م اور اس کی جامعیت و کاملیت کے بارے میں پیش کی جاتی ہے۔  مولانا موصوف کی رائے گرامی نہایت وقیع وجاندار ہے اور اس قابل ہے کہ اس کو آب زر سے  لکھا جائے۔موصوف فرماتے ہیں

امام ابوحنیفہؒ کا ملت پر احسان عظیم ہے  کہ ان کی اسلامی فقہ کے ذریعہ وسیع و عظیم اسلامی سلطنتوں کے نظامِ حکومت کے اندر مضبوط و مستحکم نظامِ شریعت قائم ہوا۔ بلاشبہ امام اعظمؒ امت محمد یہ  ﷺ کے سب سے بڑے قانونی دماغ اور فقیہ اعظم ہیں اور کوئی ان کا ثانی نہیں۔ امت ہمیشہ ان کی مرحون منت رہے گی

اہلحدیث حضرات کو ماننا پڑ ے گا کہ امام ابوحنیفہ ؒ بلاشبہ تاریخ  امت کے سب سے بڑے قانونی دماغ ہیں۔ وسیع وعظیم ریاستوں اور بین الاقوامی تمدن کی تنظیم اور اخلا قی وشرعی ہدایت و رہنمائی کے لئے قوانین اسلام کی آئینی تدوین (کوڈی فیکشن) ایک اہم اور بنیادی ضرورت ہے اور بغیر اس کے ریاست و تمدن کا نظام قائم کرنا اور چلانا محال ہے۔

امام اعظم علیہ الرحمتہ نے بیشک اپنے زمانے کے مقتضیات تمدن کے لئے قرآن وسنن کو سامنے رکھ کر قرآنی طریقہ شوریٰ کے ذریعہ اسلامی قوانین اور فقہ کی تدوین فرمائی اور حقیقت میں یہ عظیم الشان کا م تھا۔     (الاعتصام ص ۵     ۸ جولائی۱۹۶۰ء     جلد ۱۱ ش ۴۹

؂

زباں جل جائے گر میں نے کچھ کہا ہو

تمہاری تیغ کے چھینٹے تمہارا نام لیتے ہیں

مشہور اہلحدیث مؤرخ  ’’محمد اسحاق بھٹی‘‘  اپنی کتاب  ’’برصغیر میں اہلحدیث کی آمد‘‘ کے ص ۲۲۲۔ ۲۲۳ پر لکھتے ہیں۔

تدوین فقہ کے سلسلے میں امام ابوحنیفہ ؒ کا نام نامی سرفہرست نظر آتا ہے۔ وہ پہلے جلیل القدر بزرگ ہیں جو اقتدار بنوامیہ کے خاتمے کے بعداپنے تلامذہ کی ایک جمات کے ساتھ اس میدان میں اترے ۔۔۔۔۔ الخ

’’طریقِ استنباط:امام ابوحنیفہؒ  کا مسائلِ دینی میں طریق استنباط یہ تھا کہ پہلے جواب مسئلہ کتاب اللہ سے تلاش کرتے۔ اگر اس کا کتاب اللہ سے سراغ نہ ملتا یا کتاب اللہ کی روشنی میں بات کا فیصلہ نہ ہو سکتا تو سنتِ مشہورہ کی طرف رجوع کرتے۔ اگر سنتِ مشہورہ کے ذریعہ سے کسی نتیجے پر نہ پہنچ پاتے تو اہل فتوی صحابہ اور تابعین کے اقوال اور قضا یا میں اس کی تلاش شروع کرتے۔ (پھر) اجماع کی طرف آتے اور اہل عراق صحابہ اور اہل عراق تابعین کے مسلک و مذہب کو محل فکر ٹھہراتے۔ اگر یہاں سے بھی جواب نہ ملتا تو قیاس اور استحسان سے مسئلے کا حل ڈھونڈتے،احادیث کے متعلق یہ بات ان کے پیشِ نظر رہتی کہ اگرحجازی اور عراقی صحابہ سے مروی مرفوع احادیث میں اختلاف ہوتا تو بر بنائے فقہ راوی ٗ روایتِ فقیہہ کو ترجیح دیتے۔

قبل از وقوع واقعہ پر غور:

یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ امام ابوحنیفہؒ سے قبل اصحاب فتویٰ قضاۃ میں یہ دستور چلا آرہا تھا کہ جب تک کوئی نئی صورت حال ابھر کر سامنے نہ آتی ٗ مسئلے پر غور نہ کرتے۔ لیکن امام صاحب کا نقطہ نظر اس کے برعکس یہ تھا کہ جن امور میں لوگوں کے مبتلا ہونے کا اندیشہ یا امکان ہے ٗ ان پر اہل علم کو پہلے ہی غور کر لینا چاہیے تاکہ نئی صورت حال پیش آجانے کی صورت میں اور عندالنوازل انہیں کوئی حیرانی نہ ہو اور وہ اسے ایسی بات نہ سمجھیں جس سے وہ پہلے سے آگاہ نہ تھے۔

اس سے ثابت ہوا کہ فقہ حنفی کے مسائل خیر القرون میں مرتب ہوئے، نیز امام صاحب کا طریق استنباط کتاب و سنت کے مطابق تھا۔

؂

زباں جل جائے گر میں نے کچھ کہا ہو

تمہاری تیغ کے چھینٹے تمہارا نام لیتے ہیں

امام اعظم رحمہ اللہ کے بارے میں حضور  ﷺ کی بشارت

امام اعظمؒ کے بارے میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسّلام کی پیش گوئی اور بشارت بخاری ومسلم میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ہم حضور  ﷺ کی خدمت عالیہ میں حاضر تھے کہ سورۃ جمعہ کی یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔’’آخرین      مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقٔوْ ابِھِمْ‘‘حاضرین میں سے ایک شخص نے بار بار اس آیت کریمہ کا مصداق دریافت کیا تو حضور  ﷺ نے حضرت سلمان فارسی ؓ کے کندھے پر دست مبارک رکھ کر فرمایا۔

لو   کان الدین عند الثریا لنا لہ رجالٌ اورجل ٗ من ھولآء (بخاری شریف ص ۷۲۷ ج ۲ مسلم شریف ص ۳۱۲ ج ۲

اگر ایمان کہکشاں کی رفعتوں اور بلندیوں پر ہوگا توبھی فارس کے کچھ لوگ یا فارس کا ایک آدمی اس کو ضرور پا لے گا۔

مسلم شریف کی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں۔

لوکان الدین عند الثریا لذھب بہ ر   جلٌ من ابنا ء فارس حتی یتنا و لہٰ   (مسلم شریف   ج۲ ص ۳۱۲

اگر دین ثریا کے پاس بھی ہو تو فارس کا ایک آدمی اس کو ضرور حاصل کر لے گا۔

حافظ ابن حجر مکیؒ ایک مستقل عوان کے تحت امام اعظمؒ کی بشارت والی حدیث امام بخاری امام مسلم ؒ    ابونعیمؒ    اصفہانی اور طبرانی  کے حوالہ سے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل کرنے کے بعد رقمطراز ہیں کہ

حافظ سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ کی بشارت اور فضیلتِ تامہ کے لئے یہ حدیث ایک صحیح اور قابل اعتماد اصل ہے۔ پھر فرمایا کہ حافظ سیوطیؒ کے بعض شاگرد فرماتے ہیں کہ ہمارے استاد اور شیخ نے یقین واذعان اور جزم ووثوق سے فرمایا کہ اس حدیث شریف سے امام اعظمؒ کی ذات گرامی ہی مراد ہے کیونکہ یہ بات واضح اور عیاں ہے کہ اہل فارس میں سے کوئی بھی امام اعظمؒ کے علمی اور فقہی مقام کو نہیں پہنچ سکا۔ آپ تو آپ ہیں آپ کے شاگردوں کے مقام رفیع تک بھی کوئی رسائی حاصل نہیں کر سکا۔(الخیرات  الحسان ص ۱۴

یہ حدیث مختلف الفاظ سے مروی ہے بعض روایات میں رجلٌ بلفظ مفرد آیا ہے اور بعض میں ’’رجال‘‘ لفظ مجمع آیا ہے۔ رجلٌ بلفظ مفردبلحاظ متبوع (امام اعظمؒ) آیا ہے۔ اور رجالٌ بلفظ جمع آپ کے اصحاب و تلامذہ کے اعتبار سے وارد ہوا ہے۔اس حدیث شریف کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ مجتہدین اور فقہاء کو امام اعظمؒ اور آپ کے شاگردوں سے وہ نسبت ہوگی جو زمین کو کہکشاں سے ہے۔کہکشاں تک پہنچنے سے مراد یہ ہے کہ مرد فارسی (امام ابوحنیفہؒ) علم وعرفان اور فضل وکمال میں ایسے بلند و برتر مقام کا حامل ہو گا اور فقہ وا ستنباط کے ایسے وقائق و اسرار تک رسائی کرے گا کہ دوسرے مجتہدین کے اذہان وہاں تک پہنچنے سے قاصر ہوں گے۔

حکیم الامت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب  محدث دہلویؒ نے بھی اس حدیث کا مصداق امام اعظمؒ کی ذاتِ بابرکات کو قرار دیا ہے۔چنانچہ حضرت شاہ صاحب نوراللہ مرقدہ اپنے مکتوبات میں رقمطراز ہیں۔

ایک روز ہم نے اس حدیث  پر گفتگو کی کہ ایمان اگر ثریا کے پاس ہوتا تو اہل فارس کے کچھ لوگ یا ان میں کاایک شخص اس کو ضرور حاصل کر لیتا میں نے کہا کہ امام ابوحنیفہؒ ا س حکم میں داخل ہیں۔ کیونکہ حق تعالیٰ سبحانہ نے عِلم فقہ کی اشاعت اِن ہی کے ذریعہ کرائی۔ اور اہل اسلام کی ایک جماعت کو اس کے ذریعہ  مہذب فرمایا  بامخصوص اس آخری دور میں کہ دولت دین کا سرمایہ بس یہی مذہب ہے ٗ سارے ملک اور سارے شہروں میں بادشاہ حنفی ہیں ٗ قاضی  حنفی ہیں اور اکثر علوم دینیہ کا درس دینے والے علماء اور اکثر عوام حنفی ہیں۔(کلمات طیبات ص ۱۶۸

فرمان امام شعرانی  (امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ او ر آپ کے شاگردوں کے تمام اقوال۔ قرآن وحدیث ٗ اقوال صحابہ کرام ؓ اور قیاس صحیح پر مبنی ہیں ۔ ان سے باہر نہیں۔ یہ بات میں اپنے عمیق اور گہرے مطالعہ کی بنا پر  کہہ رہا ہوں۔)امام العافین حضرت امام شعرانی   تحریر فرماتے ہیں۔

میں نے بحمداللہ ’’ادلۃ المذاہب‘‘ نامی کتاب کی تالیف کے وقت امام اعظمؒ اور آپ کے تلامذہ کے اقوال کا تتبع کیا ٗ تو معلوم ہوا کہ امام صاحب ٗ اور آپ کے تلامذہ کا ہر قول کسی آیت کریمہ یا حدیث نبویہ یاا قوالِ صحابہ ؓ یا ان کے مفہوم یا حدیثِ حسن یا اصلِ صحیح پر مبنی قیاس کی طرف مستند ہے۔   (المیزان الکبریٰ  ص ۶۴

مذہب حنفی اور امام اعظمؒ سرور کائنات فخر موجودات سید الاولین والاخرین شفیع المذنبین محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وعلیٰ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی نظر میں :

مذہب حنفی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظرِ اقدس میں دوسرے مذاہب کی نسبت حدیث شریف کے زیادہ قریب ہے۔

حکیم الامت ٗ مجددملت حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلویؒ   اپنی مشہورد معروف کتاب  ’’فیوض الحرمین‘‘  میں رقمطراز ہیں:۔

عرّفنی        رسول اللّہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان فی المذاھب الحنفی طریقۃٌ انیقۃٌ وھی اوفق الطرق بالسنۃ المعروفۃ التی        جمعت ونقحت فی زمان البخاری وا صحابہٖ   (فیوض الحرمین   ص ۴۸

رسول اللہ  ﷺ نے مجھ کو بتلایا کہ مذہب حنفی ہی میں وہ عمدہ طریقہ ہے ۔ جو دوسرے سب طریقوں سے زیادہ اس سنت نبویہ معروفہ کے مطابق ہے جو بخاریؒ اور دوسرے اصحاب صحاح کے دور میں مرتب و منقح ہو کر مدون ہو گئی ہے۔

غیر مقلدوں کے امام و مجدد نواب صدیق حسن خان صاحب لکھتے ہیں کہ

خاص مذھب حنفی میں ہر مسئلہ مطابق مذھب اہلحدیث موجود ہے۔۔۔۔ اسی لئے شاہ ولی اللہ صاحب نے فرمایا کی تمام مذاہب میں حدیث سے سب سے زیادہ موافق مذھب حنفی ہے ۔ (مآثر صدیقی ص ۶

دوست دشمن سب تیرے مجذوب قائل ہیں مگر

کوئی قائل ہے زباں سے کوئی قائل دل میں ہے

ان وجوھات کی بناء پر ھم امام اعظم رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ھیں

 

Facebook Comments