افغانستان

 

افغانستان

شاہ افغانستان امیر امان اللہ خاں کے عہد حکومت میں نعمت اللہ خان مرزائی کو مرزائی عقائد رکھنے کی وجہ سے علماء افغانستان کے فتویٰ سے مرتد قرار دیدیا گیا تھا اور شریعت مطہرہ کے قانون کے مطابق اس جرم ارتداد میں اس کو بتاریج ۳۱/ اگست ۱۹۲۴ء بعد نماز ظہر بروز اتوار بمقام شیر پور (چھائونی کابل) سنگسار کرکے قتل کیا گیا۔ اس پر ہندوستان کے مرزائیوں نے شوروغل مچایا اور اس فعل کو خلاف اسلام قرار دینے کی کوشش کی۔ اس پر اس وقت کے حضرات علماء کرام نے تحقیقی مقالات اور اخبارات میں مضامین لکھے۔ اسی موضوع پر شیخ الاسلام پاکستان حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ نے اپنا رسالہ الشہاب لرجم الخاطف المرتاب لکھا جس نے مسئلہ ارتداد کو شرعی نقطہ نظر سے حل کرتے ہوئے فرقہ مرزائیہ کو ہمیشہ کے لئے لاجواب اور خاموش کر دیا۔

عبداللطیف مرزائی جہاد کی مخالفت کی وجہ سے قتل کیا گیا

ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کی وجہ کیا تھی؟۔ اس کے متعلق ہم نے مختلف افواہیں سنیں مگر کوئی یقینی اطلاع نہ ملی تھی۔ ایک عرصہ دراز کے بعد اتفاقاً ایک لائبریری میں ایک کتاب ملی جو چھپ کر نایاب ہو گئی تھی۔ اس کتاب کا مصنف ایک اطالوی انجینئر ہے۔ جو افغانستان میں ایک ذمہ دار عہدہ پر فائز تھا۔ لکھتا ہے کہ صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد… کے خلاف… تعلیم دیتے تھے… اور حکومت افغانستان کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ اس سے افغانوں کا جذبہ حریت کمزور ہو جائے گا… اور ان پر انگریزوں کا اقتدار چھا جائے گا۔ اس کتاب کے مصنف کی یہ بات اس لئے بھی یقینی ہے کہ وہ شاہ افغانستان کا درباری تھا… اور اس لئے بھی کہ وہ اکثر باتیں خود وزراء اور شہزادوں سے سن کر لکھتا ہے اور ایسے معتبر راوی کی روایت سے یہ امر پایہ ثبوت تک پہنچتا ہے کہ اگر صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید خاموشی سے بیٹھے رہتے اور جہاد کے خلاف… کوئی لفظ بھی نہ کہتے تو حکومت افغانستان کو انہیں شہید کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔

میاں محمود احمد کا خطبہ جو مندرجہ اخبار الفضل قادیان جلد ۲۳ نمبر ۲۱ ص ۲‘ ۶ اگست ۱۹۳۵ئ

جماعت احمدیہ کا مسلک جہاد کی مخالفت ہے

اگر ہمارے آدمی افغانستان میں خاموش رہتے اور جہاد کے باب میں جماعت احمدیہ کے مسلک کو بیان نہ کرتے تو شرعی طو رپر ان پر کوئی اعتراض نہ تھا۔ مگر وہ اس بڑھتے ہوئے جوش کاشکار ہو گئے جو انہیں حکومت برطانیہ کے متعلق تھا… اور وہ اس ہمدردی کی وجہ سے سزا کے مستحق ہو گئے جو قادیان سے لے کر گئے تھے

الفضل قادیان ج ۲۳ ش ۳۱ ص ۲ ‘ ۶ اگست ۱۹۳۵ئ

گورنمنٹ افغانستان کے خلاف سازشی خطوط

افغان گورنمنٹ کے وزیر داخلہ نے مندرجہ ذیل اعلان شائع کیا ہے۔ کابل کے دو اشخاص ملا عبدالحکیم چہار آسیائی و ملا نور علی دکان دار قادیانی عقائد کے گرویدہ ہو چکے تھے اور لوگوں کو اس عقیدہ کی تلقین کرکے انہیں صلاح کی راہ سے بھٹکا رہے تھے۔ جمہوریہ نے ان کی اس حرکت سے مشتعل ہو کر ان کے خلاف دعویٰ دائر کر دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجرم ثابت ہو کر عوام کے ہاتھوں پنجشنبہ ۱۱ رجب کو عدم آباد پہنچائے گئے۔ ان کے خلاف مدت سے ایک اور دعویٰ دائر ہو چکا تھا اور مملکت افغانیہ کے مصالح کے خلاف غیرملکی لوگوں کے سازشی خطوط انکے قبضے سے پائے گئے… جن سے پایا جاتا ہے کہ وہ افغانستان کے دشمنوں کے ہاتھوں بک چکے تھے۔

الفضل قادیان ج ۱۲ ش ۹۶ ص آخری ۳/ مارچ ۱۹۲۵ئ

لیگ اقوام سے افغانستان کیخلاف مداخلت کی اپیل

جماعت احمدیہ کے امام میرزابشیر الدین محمود صاحب خلیفۃ المسیح الثانی نے لیگ اقوام سے پر زور اپیل کی ہے کہ حال میں پندرہ پولیس کانسٹیبلوں اور سپرنٹنڈنٹ کے روبرو دو احمدی مسلمانوں کو محص مذہبی اختلاف کی وجہ سے حکومت کابل نے سنگسار کر دیا ہے۔ اس کے لئے دربار افغانستان سے باز پرس کے لئے مداخلت کی جائے۔ کم از کم ایسی وحشیانہ حکومت اس قابل نہیں کہ مہذب سلطنتوں کے ساتھ ہمدردانہ تعلقات رکھنے کے قابل سمجھی جائے۔

الفضل قادیان ج ۱۲ ش ۹۵ …۲۸ فروری ۱۹۲۵ئ

قسطنطنیہ فتح ہو گیا اور کابل کو فتح کیا جائے گا

اب دیکھ لو قسطنطنیہ بھی مفتوح ہو گیا۔ پھر حضرت مسیح موعود کے مخالف آپ کو اکثر کہا کرتے تھے۔ کابل میں چلو پھر دیکھو تمہارے ساتھ کیا سلوک ہونا ہے۔ اب ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں کہ عنقریب انشاء اللہ ہم کابل میں جائیں گے اور ان کو دکھائیں گے کہ جن کو وہ قتل کرنا چاہتے تھے اس کے (مرزا قادیانی کے) خدام خدا کے فضل سے صحیح سلامت رہیں گے۔

اخبار الفضل مورخہ ۲۷ مئی ۱۹۱۹ء ج ۶ ص ۷ نمبر ۹۰

امیر امان اللہ خاں نے نادانی سے انگریزوں سے جنگ شروع کی

اس وقت ( بعہد شاہ امان اللہ خاں،جو کابل نے گورنمنٹ انگریزی سے نادانی سے جنگ شروع کر دی ہے۔ احمدیوں کا فرض ہے کہ گورنمنٹ کی خدمت کریں کیونکہ گورنمنٹ کی اطاعت ہمارا فرض ہے… لیکن افغانستان کی جنگ احمدیوں کے لئے ایک نئی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ کابل وہ زمین ہے جہاں ہمارے نہایت قیمتی وجود مارے گئے اور ظلم سے مارے گئے اور بے سبب اور بلا وجہ مارے گئے۔ پس کابل وہ جگہ ہے جہاں احمدیت کی تبلیغ منع ہے اور اس پر صداقت کے دروازے بند ہیں۔ اس لئے صداقت کے قیام کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی فوج میں شامل ہو کر ان ظالمانہ روکوں کو دفع کرنے کے لئے گورنمنٹ برطانیہ کی مدد کرنا احمدیوں کا مذہبی فرض ہے۔ پس کوشش کرو۔ تاکہ تمہارے ذریعے وہ شاخیں پیدا ہوں۔ جن کی حضرت مسیح موعود نے اطلاع دی ہے۔

الفضل قادیان ج ۶ ش ۹۰ ص ۸…۲۷ مئی ۱۹۱۹ئ

جنگ کابل میں مرزائیوں کی انگریزوں کو معقول امداد

قادیانی جماعت کا ایڈریس بخدمت ہزا کسی لینسی لارڈ ریڈنگ وائسرائے ہند‘

جب کابل کے ساتھ جنگ ہوئی تب بھی ہماری جماعت نے اپنی طاقت سے بڑ ھ کر مدد دی۔ اور علاوہ اور کئی قسم کی خدمات کے ایک ڈبل کمپنی پیش کی جس کی بھرتی بوجہ جنگ ہو جانے کے رک گئی۔ ورنہ ایک ہزار سے زائد آدمی اس کے لئے نام لکھوا چکے تھے… اور خود ہمارے سلسلہ کے بانی کے چھوٹے صاحبزادے اور ہمارے موجودہ امام کے چھوٹے بھائی نے اپنی خدمات پیش کیں اور چھ ماہ تک ٹرانسپورٹ کور میں آنریری کے طور پر کام کرتے رہے۔

الفضل قادیان ۴ جولائی ۱۹۲۱ء ج۹ش۱

عبداللطیف مرزائی کو امیر امان اللہ خان نے کیوں قتل کروایا

ہمارے آدمی کابل میں مارے گئے۔ محض اس لئے کہ وہ جہاد کرنے کے مخالف تھے۔ اٹلی کے ایک انجینئر نے جو حکومت افغانستان کا ملازم تھا لکھا ہے کہ امیر حبیب اللہ خان نے صاحبزادے عبداللطیف کو اسی لئے مروایا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دے کر مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرتا تھا۔ پس ہم نے اپنی جانیں اس لئے قربان کیں۔ انگریزوں کی جانیں بچیں… مگر آج ہمیں بعض حکام سے یہ بدلہ ملا ہے کہ ہم سب سے باغی اور شورش پسند والا سلوک روا رکھا گیا ہے۔ الفضل قادیان یکم نومبر ۱۹۳۴ء ج ۲۲ ش۵۴ ص۱۲

حضرات! جنگ کابل کا مختصر واقعہ ہے کہ ۱۹۱۹ء میں افغانستان کے ترقی پسند برطانیہ دوست حکمراں حبیب اللہ کو شہید کر دینے کے بعد اس ملک کے قدامت پسندوں نے ان کے بھائی نصر اللہ خان کو بادشاہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ لیکن امیر شہید کے خلف الرشید امان اللہ خان نے اپنے چچا کو قید کرکے خود تخت حکومت پر متمکن ہو گئے۔ افغانستان کی عنان حکومت ہاتھ میں لینے کے بعد امیر امان اللہ خان نے برطانیہ کے خلاف اعلان جہاد کر دیا۔…اور افغانستان کی فوجیں درہ خیبر سے گزر کر آزاد سرحدی قبائل سے مل گئیں

بہر حال اس جنگ کے نتیجہ میں پہلے تو عارضی صلح ہوئی اور اس کے بعد ۱۹۲۱ ء میں مستقل صلح نامہ ہو گیا۔ جس کی رو سے افغانستان کی کامل آزادی کو تسلیم کر لیا گیا۔ امیر امان اللہ خان نے روس کے ساتھ بھی تعلقات خوشگوار قائم رکھے اور ہر دور حکومت کے درمیان ایک معاہدہ کر کے روس کے ساتھ تعلقات کو استوار بنا لیا… ایسے حضرات بہت کم ہیں جو اس حقیقت سے آگاہ ہوں کہ اس آزادی میں بہت کچھ محمودی اور عبیدی اور دیوبندی سیاست کا بھی؟۔ حسب الحکم مولانا شیخ الہندمرحوم مولانا عبید اللہ سندھی مرحوم کئی برس تک کابل میں قیام پذیر رہے اورجلوت وخلوت میں ثمر حریت کی تخم ریزی کرتے رہے جس کا نتیجہ امیر امان اللہ خان کا اعلان جہا د اور حصول حریت افغانیہ تھی۔ تب ہی تو ایک انگریز نے جو برطانیہ کی طرف سنی نمائندہ تھا کہا تھا کہ یہ صلح درحقیقت برطانیہ اور مولانا عبیداللہ کے درمیان ہے۔ حضرات متذکرہ عنہا عبارت سے اچھی طرح اس بات کا اندازہ ہو چکا ہو گا کہ امیر امان اللہ خان نے جہاد کر کے اپنے ملک کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلا کر دولت حریت سے بہرہ ورکیا… اس جنگ  میں مرزائیوں نے انگریزوں کی فوج میں شامل ہو کر ایک اسلامی ملک کو کس طرح نیست و نابود کرنے کے لئے ’’اپنی قوت و طاقت سے زیادہ ہمدردی‘‘ اور اسی ملک میں بیٹھ کر جہاد کی مخالفت کرنا کیا اسلام اور اسلامی اسٹیٹ سے کھلی ہوئی غداری نہیں؟۔ دنیا کی کوئی باخبر حکومت ایسی منافقت اور غداری برداشت نہیںکر سکتی۔ ہمیں خوف ہے کہ خدا نخواستہ کسی وقت میں ہمارے ملک کے ساتھ بھی ایسی ہی غداری کریں گے۔ مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہیے۔

 

Facebook Comments