علاماتِ شیخ

 

علاماتِ شیخ

صالح، مرشد اور شیخِ طریقت کی تلاش اور جستجو ضروری ہے، جس کے ساتھ اصلاحی تعلق رکھا جائے اور جس کی خدمت میں رہ کر خالق ومالک کو راضی کرنے کا ڈھنگ سیکھا جائے۔ حضرت حکیم الامہ تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بہشتی زیور حصہ ہفتم بعنوان ’’پیری مریدی کا بیان‘‘ میں علامات تحریر فرمادی ہیں، اسی طرح اپنے رسالہ ’’قصدالسبیل‘‘ میں بھی لکھ دی ہیں، حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری رحمہ اللہ تعالیٰ نے رسالہ ’’اصول تصوف‘‘ میں اور حضرت اقدس سیدی وسندی حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعظ ’’بیعت کی حقیقت‘‘ میں بھی علامات شیخ بیان فرمادی ہیں، اپنے اپنے مواقع پر ان کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔

غوروفکر کے بعد سوچ سمجھ کر، استخاروں اور باصلاح احباب سے مشاورت کے بعد اپنا دین کسی کے حوالہ کیا جائے، محض شہرت پر، لمبا جبہ اور بڑی دستار دیکھ کر اپنی جمع پونجی اور متاع عزیز اس کے حوالے نہ کردی جائے ورنہ بقول حضرت رومی رحمہ اللہ تعالیٰ

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست

پس بہر دستے نبا ید داد دست

کسی رہزن اور ابلیس کے ہاتھ لگ گئے تو دین بھی تباہ اور دنیا بھی تباہ خسرا  لدنیا والآخرۃ۔

صالح اور شیخ کامل کی علامات اور اس کی پہچان درج ذیل ہے

-1

بقدرِ ضرورت دین کا علم رکھتا ہو خواہ تحصیلِ علم سے یا صحبتِ علماء محققین سے۔

-2

کسی شیخ ِکامل، صحیح السلسلہ سے مجاز ہو۔

-3

خود متقی اور پرہیز گار ہو یعنی کبائر سے اجتناب کرتا ہو اور صغائر پر اصرار نہ کرتا ہو۔

-4

طویل مدت تک شیخ کی خدمت سے مستفیض ہوا ہو خواہ بمجالست خواہ بمکاتبت

-5

اہل علم وفہم اس کو اچھا سمجھتے ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتے ہوں۔

-6

اس کی صحبت سے آخرت کی رغبت، محبت الہیہ میں زیادت اور دنیا سے نفرت محسوس ہوتی ہو۔

-7

اس کے مریدین میں اکثر کی حالت شریعت کے مطابق ہو۔

-8

اس میں حرص وطمعِ دنیا نہ ہو۔

-9

خود بھی ذاکر وشاغل ہو۔

-10

مریدین کو آزاد نہ چھوڑتا ہو بلکہ جب بھی کوئی بات نامناسب ان سے دیکھے یا معتبر ذریعہ سے معلوم ہو تو روک ٹوک اور ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہو۔

جس میں یہ علامات پائی جائیں خواہ چاروں سلسلوں میں سے کسی بھی سلسلے سے تعلق رکھتا ہو وہ اس قابل ہے کہ اس کو شیخ بنایا جائے اور یکے گیرو محکم گیر کی بنا پر اس کی زیارت وخدمت کو کبریتِ احمر جانا جائے۔ شریعت وتصوف :36

ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے دے اور مردہ بدستِ زندہ کا مصداق بن جائے، اس کے حقوق ادا کرتا رہے، دین ودنیا میں ترقی ہوگی۔

 

Facebook Comments