بدنظری پر وارد وعیدیں

 

بدنظری پر وارد وعیدیں

آیات

-1

آپ مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں (یعنی جس عضو کی طرف بالکل دیکھنا ناجائز ہے اس کو بالکل نہ دیکھیں اورجس کو ویسے تو دیکھنا جائزہے مگر شہوت سے دیکھنا جائز نہیں اس کو شہوت سے نہ دیکھیں ) اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں (یعنی ناجائز جگہ میں شہوت پوری نہ کریں جس میں اغلام بازی اور زنا سب داخل ہیں )یہ ان کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے (اس کے خلاف زنا یا زنا کے سبب بدنظری وغیرہ میںگندگی ہے)بے شک اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے جو کچھ لوگ کیا کرتے ہیں (پس اس کے خلاف کرنے والے سزا کے حقدار ہوں گے

(بیان القرآن )

-2

اللہ تعالیٰ آنکھوں کی خیانت کو جانتے ہیں اور جس چیز کو سینہ میں چھپاتے ہیں اس کو بھی جانتے ہیں۔‘‘

حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے دوگناہوں کا ذکر فرمایا ہے ،آنکھوں کے گناہ اور دل کے گناہ کو۔نیز فرماتے ہیں کہ دل کا گناہ آنکھوں کے گناہ سے زیادہ سخت ہے یعنی گناہ صرف نگاہ ہی سے نہیں بلکہ دل سے بھی ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ دل سے سوچا کرتے ہیں اور عورتوں اور مردوں کا تصورکرتے ہیں اور خیال سے مزے لیتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ ہم متقی ہیں، خوب سمجھ لو کہ یہ شیطان کا دھوکہ ہے۔

احادیث

-1

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ نگاہ شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر ہے جو شخص اس سے اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے بچے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسا نور ایمانی عطا فرماتے ہیں جس کی مٹھاس اور لذت دل میں محسوس کرتا ہے۔

-2

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس کی نظر کسی عورت کے حسن وجمال پر پڑجائے پھر وہ اپنی نگاہ ہٹالے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں ایک ایسی عبادت اسے عطا فرماتے ہیں جس کی لذت وہ اپنے دل میں محسوس کرتا ہے۔

-3

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاارشاد ہے کہ یا تو تم اپنی نگاہ نیچی رکھو اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ورنہ پھر اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دیں گے۔

-4

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ اللہ تعالیٰ بد نظری کرنے والے مرد اور اس عورت پر جس کو وہ مرد بری نگاہ سے دیکھتا ہے ، لعنت کرتے ہیں۔

تنبیہ

عورت پر یہ لعنت اس وقت ہے جبکہ اس کی طرف سے بے پردگی اور بدنظری کے اسباب ہوں۔

-5

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے اور کان زنا کرتے ہیں اور ان کازنا سننا ہے اور زبان بھی زناکرتی ہے اور اس کا زنابولنا ہے اور ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا غیرمحرم کو پکڑنا ہے۔

-6

رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ میں غیرت مند ہوں اور اللہ تعالیٰ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والے ہیں اور غیرت ہی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور باطنی بے حیائیوں کو حرام کردیا ہے۔

-7

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ ہر آنکھ قیامت کے دن روئے گی مگر وہ آ نکھ جو اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کے دیکھنے سے بند رہے اور وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کی راہ (جہاد)میں جاگتی رہے اور وہ آنکھ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے روئے گو آنسو صرف مکھی کے سر کے برابر ہی نکلا ہو۔

-8

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منع فرمایا کہ آدمی کسی امرد (نو عمر بغیر ڈاڑھی والے لڑکے) کو نظر جما کردیکھے۔

-9

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم شہزادوں کے ساتھ نہ بیٹھوکیونکہ ان کا فتنہ دوشیزہ لڑکیوں کے فتنہ سے بھی زیادہ ہے۔

-10

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ نامحرم عورتوں کے پاس آنے جانے سے بچاکرو۔ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیور کے حق میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’دیورتو موت ہے ‘‘۔

تنبیہ

موت اس لئے ارشاد فرمایا کہ دیور ہمیشہ گھر میں رہتا ہے ،اگر خدانخواستہ آنکھ لڑگئی تو اس سے جو نتائج بد پیداہوں گے وہ کسی صاحبِ عقل سے پوشیدہ نہیں۔

مزید تفصیل وعظ ’’حفاظت نظر ‘‘میں ملاحظہ فرمائیں

قابلِ ذکر

-1

ابو القاسم قشیری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :جو شخص دیندار ہونا چاہے اس کے لئے عورتوں اور لڑکوں کے ساتھ ملا جلا رہنا نہایت نقصان دہ ہے اور اس کے حق میں یہ ڈاکو ہے کہ اس کو اس کے مطلب تک ہرگز پہنچنے نہ دے گا۔

-2

ایک بزرگ فرماتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ اپنے دربار سے نکالنا چاہتے ہیں اس کو لڑکوں کی محبت دے دیتے ہیں۔

-3

دوسرے بزرگ فرماتے ہیں :بدنظری سے سب سے پہلے عبادت کی حلاوت اور لذت فنا ہوتی ہے اور اس کے بعد رفتہ رفتہ بد نظری عبادات (نوافل فرائض وواجبات )کے چھوٹنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

 

Facebook Comments