چودھواں لمعہ

تجوید
293
0

 

چودھواں لمعہ

فوائد متفرقہ ضروریہ

(۱)

لَئِنْ  بَسَطْتَّ ۔ اَحَطْتُّ ۔ مَا فَرَّ طْتُّمْ ۔ مَا فَرَّ طْتُ ۔ ان الفاظ میں ادغام نا تمام ہوتاہے۔ یعنی طاء کو تاء کے ساتھ ملا کر مشدد کرکے اس طرح پڑھا جائے گا کہ طاء اپنی صفات کے ساتھ بغیر قلقلہ کے موٹا ادا ہو اور تاء باریک ادا ہو۔

(۲)

اَلَمْ نَخْلُقْکُمْ میں بہتر یہی ہے کہ پورا ادغام کیا جائے یعنی قاف بالکل نہ پڑھا جائے بلکہ قاف کو کاف سے بدل کر اور دونوں کو ملا کر مشدد کرکے پڑھا جائے۔

(۳)

نٓ  وَ الْقَلَمِ اور یٰسٓ وَالْقُرْآ نِ الْحَکِیْمِ میں ’ن ‘اور سین کے بعد جو وائو ہے اس پر یَرْ مَلُوْنَ کے قاعدہ کے موافق ادغام ہونا چاہئے مگر ادغام نہیں کیا جاتا۔

(۴)

قرآن مجید میں کہیں کہیں’سکتہ‘ لکھا پائو گے۔ اس کا مطلب ہے کہ وہاں ذرا ٹھہرجائو مگر سانس مت توڑو۔ باقی سب قاعدے اس میں وقف کے جاری ہوں گے۔

(۵)

قرآن میں جہاں پیش یا زبر آئے اسے معروف پڑھو مجہول نہیں (اس کو کسی مشاق قاری صاحب سے سیکھنا ضروری ہے)۔

(۶)

جب وائو مشدد اور یاء مشدد پر وقف ہو تو ذرا سختی سے تشدید کو بڑھانا چاہئے تاکہ تشدید باقی رہے جیسے عَدُوّ اور عَلَی النّبِیِّ

(۷)

سورۃ یوسف میں ہے وَلَیَکُوْنًا مِّنَ الصَّا غِرِیْنَ اور سورۃ اقراء میں ہے لَنَسْفَعًا بِالنَّا صِیَۃِ ۔ اگر وَلَیَکُوْنًا اور لَنَسْفَعَعًا پروقف کرو تو الف سے پڑھو یعنی تنوین مت پڑھو۔

اصل میں نون ساکن تھا مگر چونکہ لکھنے میں تنوین ہے اس لئے جب وقف کریں گے تو الف پڑھیں گے کیونکہ وقف رسم الخط کے تابع ہوتاہے۔

(۸)

قرآن میں چار الفاظ لکھے تو صاد سے جاتے ہیں مگر اس صاد پر چھوٹا سا سین بھی لکھ دیتے ہیں۔

اوّل یَقْبِضْ وَیَبْصطْ (سورۃ البقرۃ) ۔ دوم فِیْ الْخَلْقِ بَصطَۃً (سورۃ اعراف ) سوم اَمْ ھُم الْمُصیْطِرُوْنَ (سورۃ طور) ۔ چہارم بِمُصَیْطِرٍ (سورۃ غاشیہ)

اول اور دوم میں سین پڑھو سوم میں اختیار ہے چہارم میں صاد پڑھو۔

(۹)

کئی مواقع قرآن پاک میں ایسے ہیں کہ لکھا ہوا تو ہے لَا اور پڑھا جاتاہے لَ ۔ پڑھتے وقت ان کا بہت دھیان رکھو ایک سورۃ اٰل عمران میں لَاِ الَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ ۔  دوسرا سورۃ توبہ میں وَلَاَاَوْ ضَعُوْا ۔  تیسرا سورۃ نحل میں اَوْلَاَ اذْبَحَنَّہ ۔ چوتھا وَالصّٰفٰتْ میں لَاِ الَی الْجَحِیْمِ ۔  پانچواں سورۃ حشر میں لَاَ انْتُمْ اَشَدُّ ّ۔

اسی طرح اٰ ل عمران کے پندرویں رکوع میں لکھا ہوا ہے اَفَا ئِنْ اور پڑھا جاتاہے اَفَئِنْ ۔ بعض مقامات پر لکھا ہوا ہے مَلَائِہٖ اور پڑھاجاتا ہے مَلَئِہٖ اور سورۃ کہف کے چوتھے رکوع میں لکھا ہواتو ہے لِشَایٍٔ اور پڑھا جاتاہے لِشَیٍٔ ۔ اور بعض جگہ لکھا ہو اہے نَبَا یِ ٔ اور پڑھا جاتا ہے نَبَیِٔ

(۱۰)

تشدید والا حرف دوبار پڑھاجاتاہے۔ ایک مرتبہ پہلے والے حرف سے مل کر دوسری مرتبہ خود۔ مشدد کو سختی کے ساتھ ذرا رک کر پڑھتے ہیں۔

اس کے بعد نورانی قاعدہ  پڑھیں۔

 

Facebook Comments