زکوۃ کی ادائیگی میں نیت کاطریقہ

سوال :   مولانا صاحب میں اپنے کچھ عزیزوں رشتہ داروں کی مدد کرتا رہتا ہوں. میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں ان کو جو رقم دیتا ہوں اس کو اپنی واجب الادا زکوٰۃ میں سے منہا کر سکتا ہوں اور دوسرا سوال یہ ہے کہ میں ان کو بتانا نہیں چاہتا کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے تو کیا بتائے بغیر دینے سے زکوٰۃ ادا ہو جائے ؟
الجواب حامداًومصلیاً:

جو شخص  زکوٰۃ  کا مستحق ہے اس کو  دی ہوئی  رقم میں  زکوۃ کی نیت اس وقت تک درست ہے جب تک وہ رقم   اس کے پاس موجود ہو  ۔زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یا زکوٰۃ کی رقم کو علیحدہ کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت کرنا ضروری ہے

جس شخص کو زکوٰۃ کی رقم دیں اس کو یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے ۔ بغیر بتائے بھی زکوۃ ادا ہو جائے گی۔

حوالہ جات

فی  البحر الرائق شرح كنز الدقائق  کتاب الزکاۃ  ج 2 ص368

(قوله وشرط أدائها نية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب أو تصدق بكله)

إذا دفع بلا نية ثم حضرته النية والمال قائم في يد الفقير فإنه يجزئه، وهو بخلاف ما إذا نوى بعد هلاكه۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق    کتاب الزکاۃ  ج 2  ص  370    ط ۔دار الکتب العلمیہ بروت لبنان

والأصح كما في المبتغى والقنية أن من أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزئه

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح      کتاب الزکاۃ ص  715     ط  ۔  دار الکتب العلمیہ بروت لبنان

ولا يشترط علم الفقير أنها زكاة على الأصح حتى لو أعطاه شيئا وسماه هبة أو قرضا ونوى به الزكاة صحت

Facebook Comments