فضائل نوافل

 

فضائل نوافل

وضاحت :

جن سنتوں اور نوافل پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے بظاہر ان کی یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ فرض نماز کی ادائیگی میں جو قصور رہ گیا ہو اس کا کچھ تدارک ان سے کردیا جائے۔نیز یہ کہ ان کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرسکے۔

سنن اور نوافل کے متعلق احادیث درج ذیل ہیں

-1

اُم ّ المومنین

حضر ت اُمِّ حبیبہرضی اللہ تعالی عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جو شخص دن رات میں بارہ رکعتیں (علاوہ فرض نمازوں کے )پڑھے اس کے لئے جنت میں ایک گھر تیار کیا جائے گا (ان بارہ  کی تفصیل یہ ہے )۴ ظہر سے پہلے،۲ ظہر کے بعد اور ۲ مغرب کے بعد اور ۲ عشاء کے بعد اور ۲ فجر سے پہلے۔‘‘ (ترمذی

-2

حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’فجر کی دوسنتیں دنیا ومافیہا سے بہتر ہیں َ‘‘(مسلم

-3

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فجرکی دورکعت سنت نہ چھوڑواگر چہ دشمن کے گھوڑے تم کوروندرہے ہوں۔(ابو داؤد

-4

حضر ت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنتوںاور نفلوں میں سے کسی نماز کا بھی اتنااہتمام نہیں فرماتے تھے جتنا کہ فجر سے پہلے کی دورکعتوں کا فرماتے تھے۔ (متفق علیہ

-5

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’جس نے فجر کی سنتیں نہ پڑھی ہوں اس کو چاہیے کہ وہ سورج نکلنے کے بعد ان کوپڑھے ‘‘۔(ترمذی

-6

حضر ت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ظہر سے پہلے چار رکعتیں …جن کے درمیان میں سلام نہ پھیراجائے یعنی چارمسلسل پڑھی جائیں …ان کی وجہ سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔‘‘(سنن ابی داوٗد ،سنن ابن ماجہ

-7

حضر ت اُمِّ حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جو کوئی ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں برابر پڑھا کرے اللہ تعالیٰ اس کو دوز خ کی آگ پر حرام کردے گا۔(ابوداوٗد، نسائی، ابن ماجہ، ترمذی

فائدہ :

ہمارے دیا رمیں ظہر کی دوسنتوں کے بعد مزید دونفل پڑھنے کاکا فی رواج ہے ،لیکن اکثر عوام ان نفلوں کو (بلکہ عام طورپر ہر وقت کے نوافل کو )بیٹھ کر پڑھتے ہیں اور اعتقاد رکھتے ہیں کہ نوافل بیٹھ کر ہی پڑھے جاتے ہیں، حالانکہ یہ سراسر غلط ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح حدیث ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہوکر پڑھنے کے مقابلے میں آدھا ملے گا۔

-8

حضر ت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو اس بندے پر جو عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے۔‘‘

(مسند احمد ،جامع ترمذی ،سنن ابی داؤد )

تہجد کی فضیلت اور اہمیت

-1

رات میں نماز کے لئے کھڑا ہونا نفس کو بہت زیادہ دبانے والا عمل ہے اور اس وقت (دعایا قرأت میں) جو زبان سے نکلتا ہے وہ بالکل ٹھیک اور  دل کے مطابق یعنی دل سے نکلتا ہے۔

(سورہ مزمل)

قرآن مجید میں ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کا حکم دینے کے ساتھ آپ کو ’’مقام محمود‘‘کی امید دلائی گئی ہے فرمایاگیا: ’’اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس قرآن کے ساتھ تہجد پڑھئے (یعنی تہجد میں خوب قرآن پڑھا کیجئے )یہ حکم آپ کے لئے زائد اور مخصوص ہے ،امید رکھنا چاہئے  کہ آپ کو آپ کا رب ’’مقام محمود‘‘پر فائز کرے گا۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل)احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ رات کے آخری حصے میں  اللہ تعالیٰ اپنے پورے لطف وکرم اور اپنی خاص شان رحمت کے ساتھ اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور جن بندوں کو ان باتوں کا  کچھ احساس وشعور بخشاگیا ہے وہ اس مبارک وقت کی خاص برکات کو محسوس بھی کرتے ہیں۔

’’حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارامالک اور رب تبارک وتعالیٰ ہر رات کو جس وقت تہائی رات  باقی رہ جاتی ہے آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں :کون ہے جو مجھ سے دعا کرے اورمیں اس کی دعاقبول کرو ں،کون ہے جو مجھ سے مانگے اور میں اس کو عطاکروں ،کون ہے جو مجھ سے مغفرت اور بخشش چاہے میں اس کو بخش دوں۔(صحیح بخاری ومسلم

-2

حضرت  جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے وصال کے بعد بعض حضرات نے ان کو خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ  کیا گزری اور آپ کے پروردگار نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟…جواب فرمایا:’’حقائق ومعارف کی جو اونچی اونچی باتیں ہم  عبارات واشارات میں کیا کرتے تھے وہ سب وہاں ہوا ہوگئیں اور بس وہ چندرکعتیں کام آئیں جو رات میں ہم پڑھا کرتے تھے ۔‘‘

اشراق وچاشت کے  نوافل

-1

حضرت ابوہریر ہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے دوگانہ چاشت کا اہتمام کیا اس کے سارے گناہ بخش  دیئے جائیں گے،اگر چہ وہ کثرت میں سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔ (مسنداحمد ،جامع ترمذی ،سنن ابن ماجہ

-2

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی خاص وصیت فرمائی ہے

ہر مہینے تین دن کے روزے

چاشت کی دورکعتیں

یہ کہ سونے سے پہلے ہی وتر پڑھ لیا کروں۔(صحیح مسلم

خاص اوقات و حالات کے نوافل

-1

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا (جو بلاشبھہ وہ صادق وصدیق ہیں )کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے :جس شخص سے کوئی گناہ ہوجائے پھر وہ اٹھ کر وضو کرے ،پھر نماز پڑھے،پھر اللہ تعالیٰ سے مغفرت اور معافی طلب کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرماہی دیتے ہیں۔

-2

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص کو کوئی حاجت اور ضرورت ہو اللہ تعالیٰ سے متعلق یا کسی آدمی سے متعلق (یعنی خواہ وہ حاجت ایسی ہو جس کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ ہی سے ہو کسی بندے سے اس کا واسطہ ہی نہ ہو، یا ایسا معاملہ ہو کہ بظاہر اس کا تعلق بندے سے ہو ، بہرصورت) اس کو چاہئے کہ وہ وضو کرے اور خوب اچھا وضو کرے، اس کے بعد دورکعت نماز پڑھے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی کچھ حمد وثنا کرے اور اس کے نبی علیہ السلام پر درود پڑھے ،پھر اللہ تعالیٰ کے حضور میں نہایت عاجزی  اور انکساری کے ساتھ اپنی ضرورت وحاجت پیش کرے۔(جامع ترمذی ،سنن ابن ماجہ

فائدہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں ان حاجتوں کے لئے بھی صلوٰۃ حاجت تعلیم فرمائی ہے جن کا تعلق بظاہر کسی بندے سے ہو ،اس کا ایک خاص فائدہ یہ بھی ہے کہ جب بندہ ایسی حاجات کے لئے بھی صلوٰ ۃ حاجت پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے اس طرح دعا کرے گا تو اس کا عقیدہ اور یقین اورزیادہ مستحکم ہوجائے گا کہ کام کرنے اور بنانے والا دراصل وہ بندہ نہیں ہے ،نہ اس کے کچھ اختیار میں ہے بلکہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ بندہ اللہ تعالیٰ کا صرف آلہ کار ہے اس کے بعد جب وہ کسی بندے کے ہاتھ سے کام ہوتا ہوا بھی دیکھے گا تواس کے عقیدۂ توحید میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔

 

Facebook Comments