فقہ اور فتویٰ میں امام احمد بن حنبل کے پانچ اصول

 

فقہ اور فتویٰ میں امام احمد بن حنبل کے پانچ اصول ہیں

(1)

نصِ قطعی کے ہوتے ہوئے کسی کے قول کو نہیں لیتے۔

(2)

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے فتاویٰ جات میں جب اپ کو صحابہ کرام کا ایسا قول مل جاتا ہے جس کے خلاف کسی دوسرے صحابہ کا قول نہیں ہے تو اس پر عمل کرتے ہیں۔ کسی دوسرے کے عمل  رائے اور قیاس کو نہیں دیکھتے۔

(3)

جب صحابہ کرام کے اقوال مختلف ہوں تو ان میں سے جو قول کتاب وسنت کے زیادہ قریب ہو ٗ اُسے قبول کرتے ہیں اور اگر صحابہ کرام کے مختلف اقوال میں اس کا پتا نہیں چلتا تو اختلاف بیان کر دیتے ہیں اور کسی ایک قول کو ترجیح نہیں دیتے۔

(4)

ان تینوں اصولوں میں جب کوئی صریح بات نہیں ملتی تو پھر ضعیف حدیث کو لیتے ہیں اور اسے قیاس پر ترجیح دیتے ہیں ٗ یعنی اس صورت میں بھی قیاس نہیں کرتے۔

(5)

جب کسی مسئلے میں نصِ قطعی ٗ صحابی کا قول ٗ ضعیف حدیث بھی نہ ملے تو پھر قیاس کرتے ہیں۔

آپ فرماتے ہیں

ضرورت کے وقت قیاس سے کام لیا جاتا ہے۔

امام صاحب کے فقہ کی تدوین آپ کی زندگی میں نہیں کی جا سکی… آپ کی وفات کے بعد آپ کے شاگردِ خاص ابوبکر حلّال نے جامع الکبیر لکھی۔ بیس جلدوں میں ہے۔ اس میں آپ کے فتاویٰ اور مسائل ترتیب دیے گئے۔ اس کے علاوہ ایک شاگرد جیش بن سندی نے دو جلدوں میں آپ کے نادر مسائل جمع کیے۔ امام احمد بن حنبل کے چند اور شاگردوں نے بھی آپ کے فقہ کی تدوین کی۔

 

Facebook Comments