غیبت

غیبت
70
0

 

غیبت

آیات

-1

اے ایمان والو!بہت زیادہ گمان کرنے سے احتراز کرو کیونکہ بعض گمان گناہ ہیں ،اور ایک دوسرے کے بارے میں تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے ،اس سے تو تم ضرورنفرت کروگے ،اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو،بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

(سورۃ حجرات)

احادیث

-1

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک کہیں سے سخت بدبواٹھی ،آپ نے دریافت فرمایا :’’کیا تم جانتے ہوکہ یہ کن لوگوں کی بدبو ہے ،یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو اہل ایمان کی غیبت کیاکرتے تھے۔

(الترغیب والترھیب /سندہ صحیح)

-2

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دوقبروں  کے  پاس ہوا ،آپ نے فرمایا ، ان دونوں کو عذاب دیا جارہا ہے اور کسی بڑے گناہ میں عذاب نہیں دیا جارہا بلکہ ان میں سے ایک کو پیشاب (سے نہ بچنے )کی وجہ سے اور دوسرے کو غیبت (میں مبتلاہونے )کی وجہ سے عذاب دیا جارہا ہے۔(مسند احمد ،ابن ماجہ

-3

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جب مجھے (شب معراج میں)لے جایاگیا تو میراگذر ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے ،وہ اپنے چہرے اور سینے نوچ رہے تھے۔ میںنے پوچھا اے جبرئیل!یہ کون لوگ ہیں ؟تو جبرئیل نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے تھے (یعنی غیبتیں کرتے تھے )اور ان کی عزت وناموس سے کھیلتے تھے۔(ابوداوٗد،مسند احمد

-4

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوع روایت ہے کہ جو شخص دنیا میں اپنے بھائی کا گوشت کھائے گا ،قیامت کے دن (حقیقۃً اس کا گوشت اس کے سامنے پیش کرکے) اسے کہا جائے گا، مردہ حالت میں بھی اس کا گوشت کھائو جیسے زندہ ہونے کی حالت میں تم اس کا گوشت کھاتے تھے چنانچہ وہ کھائے گااس حال میں کہ وہ ترش رو ہوگا اور چیخے گا چلائے گا۔

(فتح الباری )

آثارواقوال

-1

حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو کیونکہ اس میں شفا ہے اور لوگوں کا (نامناسب )تذکرہ کرنے سے بچو کیونکہ یہ ایک بیماری ہے۔(احیا ء العلوم

-2

حضرت عمروبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ ان کا گزر ایک مردہ خچر کے پاس سے ہوا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا :’’تم میں سے کوئی شخص اس کا گوشت کھا کر پیٹ بھر لے تو یہ مسلمان کا گوشت کھانے سے بہتر ہے۔(ترغیب وترھیب

-3

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دوسرے کے (نامناسب) تذکرہ کی تین صورتیں ہیں غیبت ،بہتان اور افک اور ان تینوں کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔غیبت یہ ہے کہ تم اس عیب کا تذکرہ کرو جو واقعی اس میں پایا جاتا ہو،بہتان یہ ہے کہ ایسی بات کی نسبت اس کی طرف کرو جو اس میں نہیں پائی جاتی اور افک یہ ہے کہ ہر ایسی بات آگے بیان کرو جو تم تک پہنچی ہو۔(احیاء العلوم

-4

حضر ت حسن بصری رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قسم! غیبت انسان کے دین کو اس سے زیادہ نقصان پہنچاتی ہے جتنا پھوڑاجسم کو نقصان پہنچاتا ہے۔(احیاء العلوم

-5

امام غزالی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپس میں بشاشت کے ساتھ ملتے تھے ،اور دوسرے کی عدم موجودگی میں اس کی غیبت نہیں کرتے تھے اور اس کو سب سے افضل عمل سمجھتے تھے اور اس کے خلاف کو منافقین کی عادت شمار کرتے تھے۔(احیاء العلوم

-6

بعض حضرات کہتے ہیں کہ سلف کو دیکھا کہ وہ روزے اورنماز کو اتنی بڑی عبادت نہیں سمجھتے تھے جتنی عبادت وہ لوگوں کی عزت وآبرو سے اپنے آپ کو بچائے رکھنے کو سمجھتے تھے۔احیاء العلوم

غیبت کے نقصان

-1

غیبت کرنا ،غیبت کرنے والے کی خست اور کمینگی کی دلیل ہے۔

-2

غیبت ایک ایسی اجتماعی بیماری ہے جو مسلمانوں کے درمیان محبت اور پیار کو ختم کردیتی ہے۔

-3

غیبت کی وجہ سے آپس میں نفرتیں اور جھگڑے پیداہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات خونریزی تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔

-4

غیبت کی وجہ سے ایمانی انواراور اسلامی آثار ختم ہوجاتے ہیں۔

-5

غیبت کرنے والے کی اس وقت تک مغفرت نہیںہوتی جب تک کہ اسے خودصاحبِ حق معاف نہ کرے۔

-6

غیبت کرنے والے کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا۔

-7

غیبت کرنے والے کو جہنم میں بدبودارگندگی کھانی پڑے گی۔

 

Facebook Comments