حدیث مجدد

 

حدیث مجدد

ان تصریحات ضروریہ کے بعد اب میں یہ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام میں شروع سے یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اس امت میں مجددین ومصلحین پیدا ہوتے رہیں گے۔ اس خیال کا مبنیٰ اور ماخذ سنن ابودائود کی ایک حدیث ہے جسے میں ذیل میں نقل کرتا ہوں

عن ابی ہریرہؓ فیما اعلم عن رسول اﷲﷺ قال ان اﷲ یبعث لھذہ الامۃ علیٰ راس کل مائۃ سنۃ من یجدد لھا دینھا۰ سنن ابی داؤد کتاب الملاحم باب مایذکر فی  قرن المائۃ‘ج۲ص۱۳۲

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اﷲ اس امت کے لئے ہر صدی کے آغاز میں ایک ایسے شخص کو پیدا کرے گا جو دین کی اصلاح کرے گا

سنن ابو دائود‘ صحاح ستہ میں شامل ہے اور محدثین کا عموماً اس حدیث کی صحت پر اتفاق ہے۔ مثلاً حاکم نے اپنی مستدرک ج۵ص۷۳۰ نمبر۸۶۳۹طبع بیروت میں اور امام بیہقی نے اپنی مدخل میں اس حدیث کو صحیح تسلیم کیا ہے۔ نواب صدیق حسن خاں مرحوم نے اپنی کتاب حجج الکرامہ ص۵۱ میں لکھا ہے کہ حدیث مجدد‘ ہم کو ابودائود‘ امام حاکم اور امام بیہقی کی معرفت پہنچی ہے اور اس کی صحت مسلم ہے۔نیز ملا علی قاریؒ نے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ ج۱ ص۳۰۲ پر لکھا ہے کہ یہ حدیث جو ہم کو ابودائود کی معرفت پہنچی ہے صحیح ہے اس کے راوی سب ثقہ ہیں۔

القصہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی صحت روایتاً اور درایتاً دونوں طریقوں سے ثابت ہوسکتی ہے۔ اول الذکر طریق اوپر مذکور ہوچکا اوردرایتاً اس لئے صحیح ہے کہ جب آنحضرتﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ آپﷺ کے بعد قیامت تک کوئی شخص نبوت کے مرتبہ پر فائز نہیں ہوسکتا۔ باب نبوت بہ پیرائے وحی رسالت تاقیامت بند ہوچکا ہے۔ تشریعی یا غیرتشریعی کسی قسم کا نبی مبعوث نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ جب بعثت انبیاء کا مقصد یعنی اعطائے ہدایت حاصل ہوچکا تو پھر نبی کی بعثت ایک فعل عبث ہوا اور اﷲ تعالیٰ کی شان اس سے کہیں ارفع ہے کہ وہ کوئی کام ایسا کرے جو حکمت اور مقصد سے خالی ہو

فعل الحکیم  لایخلوعن الحکمۃ۰

لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ مرورایام سے دین کی حقیقت عام لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل ہوجاتی ہے اور بدعات ومحدثات کا رواج ہوجاتا ہے۔ پس لازمی ہے کہ ہر صدی میں کم از کم ایک بندہ خدا کا ایسا پیدا ہو جو لوگوں کو کتاب وسنت کی طرف بلائے اور دین اسلام کو از سر نو زندہ کرے اور اس کی حقیقی خوبیوں کو از سر نو عالم آشکارا کرے۔ تاکہ حق وباطل میں امتیاز ہوسکے۔

 

Facebook Comments