حدیث اور اسکی اقسام

 

حدیث اور اسکی اقسام

حدیث کی تعریف

حضرت رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرامؓ، و تابعینؒ کے قول و فعل و تقریر کو حدیث کہتے ہیں

حدیث کی تقسیم

حدیث دو قسم پر ھے

خبرمتواتر

خبر واحد

( ۱)

خَبرِ مُتَوَاتِر

ھو    ما نقلہ جماعۃ کثیرون تحیل العادۃ تواطوھم وتوافقھم علی الکذب عن جماعۃ کذالک

وہ حدیث ہے کہ جسکے روایت کرنے والے ہر زمانہ میں اس قدر کثٖیر ہوں کہ ان سب کے جھوٹ پر اتفاق کرلینے کو عقلِ سلیم مُحال سمجھے


خبر  متواتر کی اقسام:

خبر متواتر کی دو اقسام ھیں

تواتر لفظی

تواتر معنوی


المتواتر اللفظی:

ھو     ما تواتر لفظہ و معناہ عن النبی ﷺ۔

جو نبی ﷺ سے لفظا ومعنا متواتر ھو

مثال:

من       کذب علی متعمدا فلیتبو    ا مقعدہ من النار۔ (البخاری)

اس حدیث کو ستر سے زائد صحابہ نے نقل کیا ھے

المتواتر المعنوی:

ما تواتر  معناہ دون لفظہ۔

وہ حدیث جو صرف معنا متواتر ہو (لفظا متواتر نہ ہو

مثال:

وہ احادیث جن میں نبی ﷺ سے دعا کے دوران ھاتھ اٹھانا منقول ھے۔

(۲)

خَبرِ وَاحِد

ھو          ما نقلہ واحد عن واحد

وقیل:

ھو        کل خبر یرویہ الواحد اوالاثنان فصاعدا ولاعبرۃ للعدد فیہ بعد ان یکون دون المشہور والمتواتر

وہ حدیث کہ جسکے راوی اس قدر کثیر نہ ہوں(جیسے کہ خبر متواتر میں کثیر تھے) یعنی ایک دو حضرات نے روایت کی ھو

مثال:

اذا    استیقظ احدکم من منامہ فلا یغمسن یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلثا فانہ لا یدری این باتت یدہ (صحیحین

خبرواحد کا حکم:

یہ علم نظری کا فائدہ دیتی ھے  یعنی اس علم کا جو نظر واستدلال پر موقوف ھو۔

عند البعض خبر واحد قطعیت کا فائدہ دیتی ھے و عندھم دلائل کثیرۃ

خبر  واحد کی اقسام:

خبر واحد کی کئی اقسام ہیں۔ ذیل میں خبر واحد کی پانچ تقسیمات دی جا رھی ھیں

خبر                                          واحد کی پانچ تقسیمیں

(۱)

باعتبار منتہی

تین اقسام

مرفوع

موقوف

مقطوع

(۲)

باعتبار عددِ رواۃ

تین اقسام

مشہور ؍ مستفیض

عزیز

غریب

(۳)

راویوں کی صفات کے اعتبار سے

(سولہ اقسام)

1

صحیح لذاتہ

2

حسن لذاتہ

3

ضعیف

4

صحیح لغیرہ

5

حسن لغیرہ

6

موضوع

7

متروک

8

شاذ

9

محفوظ

10

مُنکَر

11

معروف

12

معلَّل

13

مضطرب

14

مقلوب

15

مصحَّف ؍ مُحَرَّف

16

مُدرَج

(۴)

باعتبار سقوط راوی وعدم سقوط راوی

(سات اقسام)

1

مُتَّصِل

2

مُسنَد

3

منقطع

4

مُعَلّق

5

مُعضَل

6

مرسل

7

مدلس

(۵)

باعتبار صِیغ

دو اقسام

1

مُعَنعَن ؍ عَن عَن

2

مُسَلسَل

تفصیل

خبر واحد کی اقسام  باعتبار منتہی

(۱)

مَرفُوع:

ما        انتھی الی النبی ﷺ

وہ حدیث ھے جس میں نبیﷺ کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ھو(منسوب کرنے والا راوی خواہ صحابی ہو یا کم تر، سند خواہ متصل ہو یا منقطع

خبر                                             مرفوع کی اقسام

اسکی چار اقسام ھیں :

مرفوع قولی

مرفوع فعلی

مرفوع تقریری

مرفوع وصفی

(۲)

مَوقُوف:

ھو المروی عن الصحابۃ قولالھم او فعلا اوتقریرا متصلا کان او منقطعا

وہ حدیث ھے جس میں صحابیؓ کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ھو

امثلہ:

موقوف قولی:

راوی کا یہ قول کہ حضرت علیؓ نے فرمایا:

حدثوا      الناس بمایعرفون اتریدون ان یکذب         اللہ ورسولہ                    (بخاری، کتاب العلم)

لوگوں کو وہ احادیث بیان کرو جووہ جانتے ھیں کیا تم چاہتے ہو کہ لوگ اللہ اور اسکے رسول کو جھٹلائیں

موقوف فعلی:

امام بخاریؒ کا قول:

و    اَمَّ ابن عباس وھومتیمم (بخاری

حضرت ابن عباسؓ نے امامت کروائی  اس حال میں کہ وہ متیمم تھے

موقوف تقریری:

کوئی تابعی ؒ یہ روایت کرے کہ میں نے فلاں صحابیؓ کے سامنے یہ عمل کیا اور انہوں نے انکار نہیں کیا۔

خبر موقوف کی حیثیت:

یہ صحیح، حسن، ضعیف ہو سکتی ہے (و  فیہ تفصیل، انظر علوم الحدیث لابن صلاح

(۳)

مَقطُوع:

ھو    الموقوف علی التابعیؒ قولالہ او فعلا لہ(اوتقریرا لہ) ، وھو غیرالمنقطع

وہ حدیث ھے جس میں تابعیؒ کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ھو

امثلہ:

مقطوع قولی:

حضرت حسن بصریؒ بدعتی کی اقتداء میں نماز کے متعلق فرماتے ہیں

صَلّ  وعلیہ بدعتہ

نماز پڑھواور اسکی بدعت کا وبال اسی پر ہے (بخاری)

مقطوع فعلی:

ابراھیم بن محمد بن منتشر کا قول:

حضرت مسروقؒ اپنے اور اپنے اھل وعیال کے درمیان پردہ ڈال دیتے اور نماز میں مشغول ہوجاتے، خود خلوت اختیار کرلیتے اور انکو دنیا میں چھوڑ دیتے (حلیۃالاولیا، طبقات الاصفیاء

مقطوع کی حیثیت:

احکام شرعیہ میں مقطوع سے استدلال جائز نہیں اگرچہ قائل تک اسکی سند صحیح ثابت ہوجائے(وفیہ تفصیل ایضا) لیکن اگر کوئی ایسا قرینہ ہو جو اسکے مرفوع ہونے پر دلالت کرتا ہو تو اسکا حکم ’’مرفوع مرسل‘‘ کی طرح ہوگا

خبر واحد کی اقسام  باعتبار عددِ رواۃ

(۱)

مَشہُور؍مُستَفِیض:

ھو       ما رواہ عدد محصور فوق الاثنین و یقال لہ المستفیض ایضا

وہ حدیث جس کے راوی ھر زمانہ میں تین سے کم نہ ھوں(لیکن راویوں کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہو کہ حد تواتر میں داخل ہوجائے

مثال:

ان       اللہ لا یقبض العلم انتزاعا ینتزعہ من العباد ولکن یقبض العلم بقبض العلماء حتی اذالم یبق عالمااتخذالناس روسا جُھّالا         فسئلوافافتوابغیر علم فضلواواضلوا۔(بخاری،مسلم

خبر مشہور کی حیثیت

عندالمحدثین خبر مشہور کو قبول کیا جائے گا ،عند الفقہااسکے ذریعہ قرآن مجید کے مطلق کو مقید کیا جا سکتا ہے اور اسکا منکر بدعتی ہے

(۲)

عَزِیز:

وھو      مارواہ اثنان ولو فی طبقۃ، سمی بذلک اِمَّا لندرتہ او لکونہ عِزّاَی قوی لمجیئہ من طریق آخر

وہ حدیث جس کے راوی ھر زمانہ میں دو سے کم نہ ھوں

مثال:

لا  یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والناس اجمعین (متفق علیہ

(۳)

غَرِیب:

وھو  ما رواہ راو واحد ویسمی غریبا لانفراد راویہ عن غیرہ

وہ حدیث جس کا راوی کہیں نہ کہیں ایک ھو(خواہ تمام طبقات سند میں یا چند طبقات میں۔ اگر ایک طبقہ میں بھی ایسا ھوگا تو روایت غر یب کہلائے گی ، دیگر طبقات میں راویوں کی زیادتی اسکی صفتِ غربت پر اثر انداز نہ ہوگی کیونکہ عنوان اقل پر دیا جاتا ہے

خبر غریب کی اقسام

فرد مطلق ؍ غریبِ مطلق:

وہ روایت کہ جسکی سند کے اس حصہ میں تفرد پایا جاتا ہو جو سند کا معیار اور اسکی اصل ہو

مثال:

انما       الاعمال بالنیات

اس روایت کی اصل میں غرابت موجود ہے کیونکہ یہ حدیث حضر ت عمرؓ بن الخطاب سے منقول ھے اب یہ روایت کی اصل ہیں  صرف یہ تنہا اس روایت کو نقل کرتے ہیں، اگرچہ  ان سے بہت سے راویوں نے نقل کی ہے۔

غریب النسبی ؍فرد النسبی:

ایسی روایت کہ جسکی سند کے درمیان تفردپایاجاتاہو

مثال:

ان       النبی ﷺ دخل مکۃ وعلی راسہ المغفر

اس روایت میں مالک نے زھری سے تفرد کیا ہے

خبر واحد کی اقسام ، راویوں کی صفات کے اعتبار سے

(۱)

صحیح لِذَاتِہ:

ھو      مااتصل سندہ بالعدل الضابط عن مثلہ الی منتھا ولا یکون شاذا ولا معللا بعلۃ قادحۃ

وہ حدیث کہ

جس کے کل راوی عادل کامل الضبط ہوں،

اسکی سند متصل ہو،

معلَّل و شاذ ہونے سے محفوظ ہو

خبر واحد کے صحیح ھونے کی  پانچ شرائط ہیں

(۱) عدالت راوی

(۲) ضبط راوی

(۳) اتصال سند

(۴) عدم علت

(۵) عدم شذوذ

مثال:

سمعت           رسول اللہ ﷺ قرافی المغرب بالطور (بخاری

میں نے نبیﷺ کو سنا آپ نے مغرب کی نماز میں سورۃ طور پڑھی

یہ روایت خبر صحیح ہے کیونکہ اس میں تمام شرائط پائی جارھی ہیں

حکم:

آئمہ حدیث کے اجماع کے مطابق اس پر عمل کرنا واجب ہے۔ اصولیین اور فقہا کی رائے کے مطابق خبر صحیح مصادر شرعیہ میں  سے ھے ،  اسکے ترک کی گنجائش نہیں

(۲)

حَسَن لِذَاتہ:

خبر   متصل قَلَّ ضبط راویہ العدل

وہ حدیث جسکے راوی میں صرف ضبط ناقص ہو، باقی تمام شر ائط صحیح لذاتہ کی اس میں موجود ہوں

مثال:

قال       رسول اللہ ﷺ ان ابواب الجنۃ تحت ظلال السیوف (ترمذی

حکم:

حسن لذاتہ قوت میں کم ہونے کے باوجود استدلال کے اعتبار سے صحیح کے برابر ہے اسی لئے تمام فقہا نے اس سے استدلال بھی کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔

(۳)

ضعیف:

قال   الامام ذھبی فی الکتاب الموقظۃ : الضعیف ما نقص عن درجۃ الحسن قلیلا و اخر مراتب الحسن ھی اول مراتب الضعیف

قال         البعض: ھو       ما لم یجمع صفۃ الحسن او الصحیح

وقیل: کل   حدیث لم تجتمع فیہ صفات القبول

وہ حدیث جسکے راوی میں حدیثِ صحیح و حَسَن کی شرائط نہ پائی جائیں

مثال:

من      اتی حائضا او امراۃ فی دبرھا او کاہنا فقد کفر بما انزل علی محمد (ترمذی

امام ترمذی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ مذکورہ سند کے سوا یہ حدیث کسی سند سے منقول نہیں۔ حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں کہ اسکی سند میں ضعف ہے۔

مراتبِ                                    ضعیف:

ضعیف

ضعیف تر

واھی

منکر

موضوع (یہ ضعیف کا بدترین درجہ ہے

حکم:

عند المحدثین احادیث ِموضوعہ کے سوا تمام ضعیف احادیث کو ضعف و نقصِ سند کی صراحت کے بغیر روایت کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ

روایت عقائد دینیہ سے متعلق نہ ہو

احکاماتِ شرعیہ بیان کرنے والی نہ ہو

واضح رہے کہ اس قسم کی روایت کرتے ھوئے سند کو حذف کرکے یہ نہ کہنا چاہیئے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بلکہ یوں کہنا چاہیئے کہ نبی ﷺ سے منسوب یہ قول ھم تک پہنچا ہے تاکہ ایسی حدیث کی نسبت بالیقین نبی کریم ﷺ کی طرف نہ ہو کہ جسکا ضعف معلوم ہو

موضوع روایت کو نقل کرنا ناجائز ہے الا یہ کہ اس بات کی صراحت کی جائے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔

ضعیف حدیث پر عمل کی شرائط

(۱)

اس عمل کو سنت نہ سمجھا جائے۔(عمل کرتے وقت حدیث کے ثبوت کا اعتقاد نہ ہو بلکہ احتیاط کے طور پر عمل کرلے

(۲)

روایتِ ضعیفہ سے کوئی حکم شرعی ثابت نہ کیا جائے (اعتقادِفضیلت ،حکمِ شرعی ہے البتہ خیالِ فضیلت، حکمِ شرعی نہیں

(۳)

روایت میں ضعف شدید نہ ہو

(۴)

اصول و کلیاتِ شرع کے خلاف نہ ھو

ضعیف حدیث پر عمل کرنا

عام طور پر یہ مشہور ہے کہ فضائل میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز ہے۔یاد رھے کہ یہ حکم عام نہیں بلکہ اسکے لئے بہت سی قیود وشرائط ہیں

( احسن الفتاوی جلد۸ میں ہے کہ ضعیف حدیث پر عمل کی قیودوشروط اس زمانہ میں مفقود ہیں لہذا   اب فضائل میں بھی ضعیف حدیث پر عمل کرنا جائز نہیں۔۔۔۔۔ لوگ ضعیف حدیث پر عمل کو سنت سمجھتے ہیں ، فضائل سے متعلق اکثر روایات صرف ضعیفہ شدیدہ ہی نہیں بلکہ موضوعہ ہیں ، ان کے رواۃ وضاع، روافض اور صوفیہ ہیں، چوتھی صدی تک ان روایات کا وجود نہیں ملتا کتب متقدمین میں کسی حدیث کا وجود نہ ملنا اسکے موضوع ہونے کی دلیل ہے

ملحوظہ

اصول ہے کہ روایاتِ ضعیفہ کے تعدد سے قوت آجاتی ھے لیکن یاد رھے کہ بیشتر رواۃ ایسے ہیں کہ ان جیسوں کا عدد ہزار سے بھی بڑھ جائے تو بھی ان پر اعتماد کرنا جائز نہیں ، الخبیث      لا یزید الا خبثا

ملحوظہ

ضعیف حدیث کی پہچان کیلئے جو علامات بیان کی گئی ہیں ان میں سے دو یہ ہیں

(۱)

تیسری صدی کے بعد شائع ہونے والی احادیث

(۲)

وہ احادیث جن میں عمل قلیل پر اجر عظیم کی بشارات ہوں

قباحت:

ضعیف روایات میں قباحت کے اعتبار سے روایات کی ترتیب ابن حجر ؒ نے یہ بیان کی ہے

(۱ )

موضوع

(۲)

متروک

(۳)

منکر

(۴)

معلل

(۵)

مدرج

(۶)

مقلوب

(۷)

مضطرب

(۴)

صَحِیح لِغَیرِہ:

ھو ما کانت شروطہ اخف من شروط الصحیح لذاتہ

ایسی حسن لذاتہ حدیث کہ جسکی سندیں متعدد ہوں

مثال:

قال       رسول اللہ ﷺ لو لا ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک عند کل صلوۃ (ترمذی

مرتبہ و مقام:

صحیح لغیرہ کا مرتبہ حسن لذاتہ سے اعلی ہے لیکن صحیح لذاتہ سے کم ہے۔

(۵)

حَسَن لِغَیرِہ

ھو       الجزء المتوقف عن قبولہ الا اذا قامت قرینۃ ترجح جانب القبول مایتوقف فیہ بان یاتی من طریق آخر

ایسی ضعیف حدیث کہ جسکی سندیں متعدد ہوں

مثال:

ان        امراۃ من بنی فزارۃ تزوجت علی نعلین فقال رسول اللہ ﷺ ارضیت من نفسک ومالکِ بنعلین؟ قالت نعم     ،فاجاز (ترمذی باب النکاح

بنو فزارہ کی ایک عورت نے جوتوں کی ایک جوڑی پر نکاح کیا، رسول اللہ ﷺ نے اس سے دریافت کیا : کیا تو اپنی  ذات کیلئے اس پر راضی ہے ۔ وہ بولی ھاں، چناچہ آپ ﷺ نے اسکے نکاح کو جائز قرار دے دیا

اس حدیث میں ایک راوی عاصم اپنے سو ء حفظ کی بناء پر ضعیف ہیں لیکن چونکہ دوسری سندوں سے اسکی تائید ہوتی ہے اس وجہ سے یہ  حدیث حسن لغیرہ ہے (یعنی غیر کی وجہ سے اس میں حسن آگیا

حکم:

یہ حدیثِ مقبول کی قسم سے ہے ، اس سے استدلال جائز ہے۔

(۶)

مَوضُوع

ھوالمختلق المصنوع علی رسول اللہ ﷺ وتحرم روایتہ مع العلم بہ فی ای معنی کان الا مقرونا ببیان وضعہ

وہ حدیث کہ جسکے راوی پر حدیث نبویﷺ میں جھوٹ بولنے کا طعن موجود ہو

امثلہ:

علیؓ شہر ِعلم کا دروازہ ہیں۔۔۔

سراج      امتی ابوحنیفۃ   موضوع (تذکرۃ الموضوعات لملاعلی القاری ص ۱۱۱

من            زارنی وزار ابی ابراھیم فی عام واحد ضمنت لہ الجنۃ۔

قال        ابن تیمیہ والنووی انہ موضوع لا اصل لھا کذا نقل السیوطی فی الزیلعی عنہما

کنت      نبیا وادم بین الماء والطین وکنت نبیا ولاادم ولا ماء ولا طین، قال ابن تیمیہ موضوع (الزیلعی ص ۸۶۔ ان الفاظ سے موضوع ہے

انا      احمد بلا میم

انا      عربی بلا عین

حکم:

موضوع روایت کو نقل کرنا ناجائز ہے الا یہ کہ اس بات کی صراحت کی جائے کہ یہ حدیث موضوع ہے۔

(۷)

مَترُوک

ھو   الحدیث الذی رد بسبب تھمۃ راویہ الکذب

وہ حدیث کہ جسکا راوی مُتَّھَّم   بالکِذب ہو یا وہ روایت  قواعد معلومہ فی الدین  کے مخالف ہو

مثال:

کان         النبی ﷺ یقنت فی الفجر و یکبر یوم عرفۃ من صلوۃ الغراۃ ویقطع صلوۃ العصر آخر ایام التشریق

نبی ﷺ فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھتے اور یوم عرفہ کی فجر سے ایام تشریق کے افتتاحی دن عصر کی نماز تک تکبیر پڑھتے۔

اس حدیث کی سند میں عمرو بن شمر جعفی کوفی شیعہ ہے۔ امام نسا ئی ؒ ، دارقطنی اور دیگر محدثین فرماتے ہیں کہ یہ متروک الحدیث ہے۔

الزام  کے اسباب:

کسی راوی پر جھوٹ کے الزام کے دو اسباب ہیں

(۱)

راوی ایک سند کے سوا کسی دوسری سند سے روایت نقل نہ کر رھا ہو، اور قواعد معلومہ کی مخالفت کر رہا ہو

(۲)

عام عادت میں اسکا جھوٹا ہونا معروف ہو اگرچہ حدیث کی نقل میں اسکا جھوٹ ثابت نہ ہو۔

(۸)

شَاذ

ھو ما روی الثقۃ مخالفا لروایۃ الناس، لا ان یروی ما لا یروی غیرہ

وہ روایت کہ جسکا راوی خود ثقہ ہو لیکن ایسی جماعت کثیرہ کی مخالفت کرتا ہو جو اس سے زیادہ ثقہ ہیں

مقاماتِ   شذوذ:

سند میں

متن میں

(۹)

مَحفُوظ

ھو مارواہ الا وثق مخالفا لروایۃ الثقۃ فھو یقابل الشاذ

وہ حدیث جو شاذ کے مخالف ہو

(۱۰)

مُنکَر

ھو     ما رواہ الضعیف مخالفا للثقۃ، و بینہ و بین الشاذ عموم و خصوص من وجہ، یجتمعان فی اشتراط المخالفۃو  یفترقان  فی  اَنَّ الشاذ راویہ ثقۃ او صدوق، والمنکر راویہ ضعیف

وہ حدیث کہ جسکا راوی ضعیف ہونے کے باوجود جماعت ثقات کے مخالف روایت کرے

مثال:

کلوا      البلح بالتمر فان ابن آدم اذا اکلہ غضب الشیطان

سبز کھجوریں تر کھجوروں کے ساتھ کھائو کیونکہ ابن آدم جب اسکو کھاتا ہے تو شیطان کو غصہ آتا ہے۔

امام نسائیؒ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث منکر ہے۔

مرتبہ:

متروک کے بعد شدتِ ضعف میں منکر کا درجہ ہے کیونکہ اسکا راوی کثرت اغلاط، کثرت غفلت یا فسق میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ ثقہ کی مخالفت کے ساتھ روایت نقل کرتا ہے۔

(۱۱)

مَعرُوف

مارواہ    الثقۃ مخالفا لما رواہ الضعیف

وہ حدیث جو منکَر کے مقابل ہو

مثال:

من       اقام الصلوۃ و اتی الزکوۃ وحج البیت و صام و قری الضیف دخل الجنۃ

(۱۲)

مُعَلَّل

ھو      ما فیہ علۃ خفیۃ قادحۃ فی صحۃ الخبر

وہ حدیث جس میں کوئی ایسی خفیہ علت ہوجو صحت حدیث میں نقصان دیتی ہو  (اسکو معلوم کرنا ماھرِ فن ہی کا کام ہے، ہر شخص کا نہیں

(۱۳)

مُضطَرَب

ھوالذی یروی علی اوجہ مختلفۃ متضاربۃ، فان رُجِّعَت احدی الروایتین نحفظ راویھا، او کثرۃ صحبتہ      للمروی عنہ او غیر     ذلک فالحکم للراجحۃ ولا یکون مضطربا

وہ حدیث جسکی سند یا متن میں ایسا اختلاف واقع ہو کہ اس میں ترجیح یا تطبیق نہ ہو سکے

حکم:

والاضطراب            یوجب ضعف الحدیث ۔ الاضطراب یقع تارۃ فی الاسناد و تارۃ فی المتن

مضطرب                  السند کی مثال:

(عن   ابی بکر)  یا رسول اللہ ﷺ اراک شبت قال شَیَّبَتنِی ھود و اخوتھا (ترمذی)

اے اللہ کے رسول ﷺ میں دیکھ رھا ہوں کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے ہود اور اس قسم کی سورتوں نے بوڑھا کر دیا

امام دارقطنی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مضطرب ہے کیونکہ اسے ابو اسحاق کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا

مضطرب     المتن کی مثال:

سئل       رسول اللہ ﷺ عن الزکوۃقال ان فی المال لحقا سوی الزکوۃ (ترمذی

آپ ﷺ سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔

عراقی فرماتے ہیں کہ یہ ایسا اضطراب ہے کہ جسکی تاویل ممکن نہیں۔

وجوہ           اضطراب:

حدیث کو مضطرب اس وقت کہا جا ئے گا جب

(۱)

حدیث میں الفاظ اس قدر مختلف ہوں کہ ان میں تطبیق ممکن نہ ہو

(۲)

قوت و سند کے اعتبار سے تمام روایات برابر ہوں اس بنا پر ان میں سے کسی کو ترجیح نہ دی جاسکتی ہو

فائدہ:

مضطرب کے ضعیف ہونے کا سبب یہ ہے کہ اضطراب سے راوی کے عدم ضبط کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔

(۱۴)

مَقلُوب

ما       انقلب بعض لفظہ علی راو  فتغیر معناہ

وہ حدیث جس میں بھول سے متن یا سند کے اندر تقدیم وتاخیر واقع ہو گئی ہو

یعنی لفظِ مقدَم کو موخَر اور موخَر کو مقدَم کر دیا گیا ہو یابھول کر ایک راوی کی جگہ دوسرا راوی رکھا گیا ہو

مقلوب  کی اقسام:

مقلوب السند

مقلوب المتن

ان میں سے ہر ایک کی دو  دو صورتیں ہیں

اسباب  قلب:

روایتِ حدیث میں جدت و امتیاز پیدا کرنا

محدثین کے حافظہ و ضبط کا امتحان لینا

غیر ارادی طور پر غلطی ہو جانا

حکم:

اسباب کے پیش نظر اسکے حکم بھی تین ہیں:

1

اگر جدت پیدا کرنے کیلئے قلب ہو تو ناجائز ہے کیونکہ یہ تغیر فی الحدیث ہے۔

2

امتحان کی غرض سے ہو تو جائز ہے مگر مجلس کے اختتام سے قبل اسکو درست کرنا ضروری ھے

3

اگر خطا  سے ایسا ہو تو راوی معذور ہے ۔ لیکن اگر کثرت سے ایسا ہوتا ہو تو یہ موجبِ ضعف ہے۔

(۱۵)

مُصَحَّف ؍ مُحَرَّف:

ھو      ما غیر فیہ الشکل مع بقاء حروفہ کسَلیم و سُلیم

وہ حدیث ہے کہ جس میں باوجود صورت خطی باقی رھنے کے، لفظوں حرکتوں وسکونوں کے تغیر کی وجہ سے تلفظ میں غلطی واقع ہو جائے

مثال:

ان        النبی ﷺ احتجر فی المسجد (اصل میں یوں ہے احتجم       فی المسجد

اھمیت:

یہ بھی معلل کی طرح ایک فن ہے اسکی اھمیت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ان غلطیوں کا انکشاف کیا جائے جو رواۃ سےہوئی ہیں۔

(۱۶)

مُدرَج

ھو      ان یکون الراوی عقب حدیث النبی ﷺ کلاما لنفسہ او لغیرہ فیرویہ من بعدہ متصلا فیتوھم انہ من الحدیث

وہ حدیث جس میں کسی جگہ راوی اپنا کلام درج کرے یا  وہ لفظ جو ظاھرا حدیثِ مرفوع کا حصہ معلوم ہو اور درحقیقت کلامِ نبوت میں سے نہ ہو۔

مدرج   کی اقسام:

مدرج الاسناد

مدرج المتن

ادراجکے مقاصد:

کسی شرعی حکم کو بیان کرنا

کسی شرعی حکم کو حدیث ختم کرنے سے پہلے مستنبط کرنا

حدیث میں موجود کسی نئے لفظ کی تشریح کرنا

ادراج  کی پہچان:

کسی دوسری روایت کو دیکھ لیا جائے

بعض گہری نظر رکھنے والے آئمہ حدیث کی تصریح

راوی کا اپنا اقرار کہ اس نے ادراج کیا ہے

کلام ایسا ہو کہ جسکا نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا محال ہو

فائدہ :

اکثر فاسد و فضول ادراجات شیعہ کرتے ہیں

خبر واحد کی اقسام  باعتبار سقوط راوی وعدم سقوط راوی

(۱)

مُتَّصِل

و ھوما اتصل اسنادہ مرفوعا کان او موقوفا علی من کان

وہ حدیث کہ جسکی سند میں راوی پورے مذکور ھوں

متصل مرفوع کی مثال:

مالک    عن ابن شہاب عن سالم بن عبداللہ عن ابیہ عن رسول اللہ ﷺانہ قال کذا

اس سند سے کوئی بھی روایت منقول ھو تو وہ متصل ہوگی کیونکہ اسکی سند میں اول تا آخر کوئی انقطاع نہیں ہے

متصل موقوف کی مثال:

مالک عن نافع ، یہ اگر ابن عمرؓ کا کوئی قول نقل کریں  اسکی سند میں بھی کوئی انقطاع نہیں

(۲)

مُسنَد

ھو    ما اتصل سندہ الی النبی ﷺ

وہ حدیث کہ جسکی سند رسول اللہ ﷺ تک متصل  ھو

مثال   :

قا ل رسول اللہ ﷺ اذا شرب الکلب فی اناء احدکم فلیغسلہ سبعا

امام بخاری نے اس روایت کو نقل کیا ہے سند یہ ہے

عن      عبداللہ بن یوسف عن مالک عن ابی زناد عن اعرج عن ابی ھریرۃ

(۳)

مُنقَطِع

ھو    ما لم یتصل اسنادہ علی ای وجہ کان انقطاعہ

وہ حدیث کہ جسکی سند متصل نہ ھو، بلکہ کہیں نہ کہیں سے راوی گرا ھوا ہو

مثال:

حاکم کی روایت ہے،

عن    عبدالرزاق عن ثوری عن ابی اسحاق عن زید بن یشیع عن حذیفۃ

ان       ولیتموھا ابا بکر فقوی امین

اگر تم خلافت کو ابوبکر کے سپرد کرو گے تو اسے قوی اور امین پائو گے

اس سند کے وسط میں ابو اسحاق اور ثوری کے درمیان’’ شریک‘‘ راوی ساقط ھیں کیونکہ ثوری نے ابواسحاق سے براہ راست سماع نہیں کیا

حکم:

علماء کا اتفاق ہے کہ راوی محذوف کا حال معلوم نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت ضعیف ہے۔

(۴)

مُعَلَّق

ھو     ما حذف من مبداسندہ راو  فاکثر

وہ حدیث کہ جسکی سند کے شروع میں ایک راوی یا کثیر گرے ھوئے ہوں

مثال:

امام بخاری ترجمۃ الباب میں ران کے ستر ھونے پر ایک حدیث نقل کرتے ہیں جس میں صحابی تک کی سند کا ذکر نہیں ۔ یہ روایت معلق ہے

وقال        ابوموسی غطی النبی ﷺ رکبتیہ حین دخل عثمان

ابو موسی کہتے ہیں کہ جب عثمان ؓ تشریف لائے تو آپﷺ نے گھٹنوں کو ڈھانپ لیا۔

حکم:

معلق کے مردود ہونے کا حکم عمومی ہے وفیہ تفصیل

(۵)

مُعضَل

ھو     ما سقط من اسنادہ اثنان فاکثر

وہ حدیث کہ جسکی سند کے درمیان سے کوئی راوی گرا ہوا ہو یا اسکی سند میں سے ایک سے زئد راوی پے در پے گرے ہوں

مثال:

قول     مالک بلغنی عن ابی ھریرۃ للمملوک طعامہ وکسوتہ بالمعروف ولا یکلف العمل الا ما یطاق

غلام کا حق یہ ہے کہ اسے طعام و لباس ، معروف اور عمدہ طور پر دیا جائے اور اس سے وہی کام لیا جائے جو وہ کر سکتا ہے۔

امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ مالک سے معضل ہے کیونکہ اس میں مالک اور ابوھریرۃ کے درمیان دو واسطے ذکر نہیں۔ اصل سند یوں ہے

مالک   عن محمد بن عجلان عن ابیہ عن ابی ھریرۃ

حکم:

معضل حدیث ضعیف ہے حجت ہونے میں مرسل اور منقطع سے بھی کم درجہ کی ہے

(۶)

مُرسَل

ھو   ما سقط من آخر السندبعد التابعی فھو مرسل

وہ حدیث کہ جسکی سند کے آخر سے کوئی راوی گرا ہوا ہو تابعی کے بعد

محدثین کے نزدیک مرسل کی یہ صورت ہے کہ کوئی تابعی ، صحابی کا نام لئے بغیر نبی کریم ﷺ سے منسوب کوئی قول یا فعل یا تقریر نقل کردے

مثال:

محمد        بن رافع عن جحین عن لیث عن عقیل عن ابن شہاب عن سعید بن المسیب ان رسول اللہ ﷺ نھی عن المزابنۃ

نبیﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا

اس میں سعید بن المسیب تابعی کسی صحابی کا نام لئے بغیر نبی کریم ﷺ سے روایت کر رھے ہیں

(۷)

مُدَلَّس

وہ حدیث کہ جسکے راوی کی یہ عادت ہو کہ وہ اپنے شیخ یا شیخ کے شیخ کا نام چھپا لیتا ہو

یا

سند کے عیب کو چھپانا اور اسکے حسن کو ظاھر کرنا

یا

راوی اپنے ایسے شیخ سے جس سے اسکا سماع ثابت ھو ایسی روایت نقل کرے جو اس سے نہ سنی ہو اور اس با ت کی صراحت نہ کرے کہ میں نے یہ روایت اپنے شیخ سے نہیں سنی

اقسام:

سند میں تدلیس

شیوخ کی تدلیس

خبر واحد کی اقسام  باعتبار صِیغ

(۱)

مُعَنعَن ؍ عَن عَن

وہ حدیث کہ جسکی  سند میں عَن ھو

(۲)

مُسَلسَل

وہ حدیث کہ جسکی سند میں (۱) صِیَغِ ادا کے  یا (۲) راویوں کے، صفات یا حالات ایک ہی طرح کے ہوں

 

Facebook Comments