حرام خوری پر وعیدیں

 

حرام خوری پر وعیدیں


آیات

-1

جو لوگ سود کھاتے ہیں (یعنی لیتے ہیں )نہیں کھڑے ہوں گے (قیامت میں قبروں سے)مگر جس طرح کھڑا ہوتا ہے ایسا شخص جس کو شیطان خبطی بنادے لپٹ کر (حیران ومدہوش)یہ (سزا)اس لئے ہوگی کہ ان لوگوں نے کہاکہ بیع بھی تو مثل سود کے ہے ،حالانکہ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کردیا ہے ،پھر جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت پہنچی اور وہ باز آگیا تو جو کچھ (حکم آنے سے )پہلے (لینا) ہوچکاہے وہ اسی کا رہا اور (باطنی)معاملہ اس کا اللہ تعالیٰ کے حوالہ رہا ،اور جو شخص پھر عود کرے تو یہ لوگ جہنم میں جائیں گے ،وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ، مٹاتا ہے اللہ تعالیٰ سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور اللہ تعالیٰ خوش نہیں کسی ناشکر گناہگارسے ‘‘۔(البقرۃ

-2

پھر اگر (سودی لین دین)نہیں چھوڑتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہوجاؤ۔(البقرۃ

-3

اے ایمان والو!سود مت کھاؤ کئی حصے زائد اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو امید ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے۔(آل عمران

احادیث

-1

حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کہ جو گوشت حرام سے پیداہوا وہ جنت میں نہ جائے گا اور ہروہ گوشت جو حرام سے پیداہوا جہنم کی آگ کا مستحق ہے۔‘ ‘(احمد،دارمی ،بیہقی

-2

حضر ت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو جسم حرام سے غذادیا گیا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔‘‘ (بیہقی

-3

حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا:’’کہ جس شخص نے دس ایسے درہموں کے عوض کپڑا خریدا کہ ان میں ایک درہم حرام کا تھا تو جب تک یہ کپڑا اس پر رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہ فرمائیں گے ‘‘پھر اپنے دونوں کانوں میں انگلیاں داخل کرکے فرمایا:’’اگرمیں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے نہ سنا ہو تو یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں۔‘‘(رواہ احمد

-4

حضرت ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس شخص نے حرام سے کچھ مال کمایاپھر اس سے غلام آزادکیا اور اس سے صلہ رحمی کی تو یہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا۔

-5

حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں معراج کی رات ایک ایسے گروہ پر گذرا جن کے پیٹ مکانوں کی طرح (بڑے بڑے)تھے اور ان کے اندر سانپ بھرے ہوئے تھے جو پیٹ کے باہر سے دکھائی دیتے تھے، میں نے کہا اے جبریل!یہ کون لوگ ہیں ؟انہوں نے کہا یہ سود کھانے والے لوگ ہیں۔‘‘ (احمد ،ابن ماجہ

-6

حضر ت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر ،کھلانے والے پر، سود کا معاملہ لکھنے والے پر اور سود کے معاملہ کے دونوں گواہوں پراور فرمایا : گناہ میں وہ سب برابر ہیں۔‘‘ (بخاری ومسلم

-7

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’سود میں تہترگناہ ہیں جن میں ادنیٰ ترین گناہ ایسا ہے جیسے کوئی اپنی ماں سے بدکاری کرے‘‘۔

(مستدرک)

-8

حضر ت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سودکا ایک درہم جسے کوئی شخص جانتے ہوئے کھاتا ہے چھتیس زناسے بدتر ہے۔ (احمد،دارقطنی

 

Facebook Comments