حسد کی مذمت

 

حسد کی مذمت

احادیث

-1

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب میری امت میں پچھلی امتوںکا مرض پھیل جائے گا۔‘‘صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے دریافت کیا پچھلی امتوں کا مرض کیا ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’غرورو تکبر، اترانا، مال ودولت میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنا ،دنیا کی چیز یں جمع کرنا ،حرص کی کثر ت ،ایک دوسرے سے دوری چاہنا اور آپس میں حسد کرنا یہاں تک کہ سرکشی ہوجائے ،پھر فتنہ یعنی قتل وقتال ہوگا۔(طبرانی

-2

حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :خدا کی قسم! حضرت عیسی ٰ علیہ السلام ضرور ایک عادل حکمران بن کر تشریف لائیں گے ،پس وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کردیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے اور جوان اونٹنیاں چھوڑ د ی جائیں گی، پس ان پر باربرداری نہیں کی جائے گی اور لوگوں کے دلوں میں سے کینہ ،بغض اور حسدختم ہوجائے گااور مال کی طرف بلایا جائے گا لیکن کوئی قبول نہیں کرے گا۔(مسلم

-3

حضرت ضمرہ بن ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لوگ اس وقت تک خیر (بھلائی)پر رہیں گے جب تک آپس میں حسد نہ کرنے لگیں۔

(الترغیب والترھیب)

-4

حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’تمہارے اندر دوسری امتوں کی بیماری سرایت کرتی جارہی ہے یعنی حسد اور بغض(یادرکھو)یہ مونڈ دینے والی ہے ،میں نہیں کہتا کہ بالوں کو مونڈدیتی ہے بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے ،اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم جنت میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک کہ ایمان نہ لے آئو اور تم مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرو ،کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے اندر محبت پیداکرسکتی ہے ؟آپس میں سلام کو عام کرو۔(ترمذی

 

Facebook Comments