حفاظتِ زبان

 

حفاظتِ زبان


آیات

-1

(اہل ایمان )لغوباتوں سے برکنار رہنے والے ہیں (سورۃ المؤمنون )

-2

وہ (انسان )کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگران تیار (موجودہوتا)ہے۔

(سورہ ق)

-3

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صحیح بات کہو ،اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو قبول کرے گا اور تمہارے گناہ معاف کردے گا اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا تو وہ بڑی کامیابی کو پہنچے گا۔(الاحزاب

احادیث

-1

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دین کے ارکان اور بہت سے احکام بتانے کے بعدارشا د فرمایا :کیا اب تمہیں ان احکام کا لب لباب (خلاصہ اور نچوڑ ) اور ان کا اہم ترین حصہ نہ بتادوں ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا :اسے اپنے قابو میں رکھو، نامناسب جگہ استعمال نہ ہونے دو ،حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تعجب سے پوچھنے لگے، یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ان زبانی باتوں پر بھی ہم سے مؤاخذہ ہوگا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا ؛معاذ! (تمہیں تمہاری ماں گم کرے)قیامت کے دن لوگ زبان کی کھیتیوں (ناجائز باتوں) کی وجہ سے اوندھے منہ جہنم میں پھینکے جائیں گے۔(احمد،ترمذی ،ابن ماجہ

-2

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بات کرے تو اچھی بات کرے اور اگر کوئی اچھی بات ذہن میں نہیں آتی تو بالکل خاموش رہے کچھ بھی نہ بولے۔ (بخاری

-3

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا۔(احمد ،دارمی،ترمذی

-4

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جو شخص مجھے اس چیز کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان (زبان )اور اس چیز کی جو اس کے دو رانوں کے درمیان (شرمگاہ ) کی ضمانت دے گا میں اس کے لئے جنت کی ضمانت دوں گا۔

(ترمذی )

-5

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آخرت میں نجات کی کیا صورت ہے ؟ ارشادفرمایا اپنی زبا ن کو قابو میں رکھو اور گھر میں ٹھہرے رہو (بلاضرورت باہر مت نکلو) اور اپنی خطائوں پر روتے رہو۔

-6

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جس کو اللہ تعالیٰ نے زبان اور شر مگاہ کے شروفتنہ سے بچا لیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(ترمذی

آثارواقوال

-1

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے منہ میں کنکری رکھتے تھے اور اس کے ذریعہ خود کو بات کرنے سے بچاتے تھے ،اور زبان کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کرتے کہ اس نے ہی مجھے ہلاکتوں میں ڈالا۔ (احیاء العلوم :120/3

-2

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:جو شخص زیادہ باتیں کرتا ہے اس سے غلطی زیادہ ہوتی ہے۔ الصمت لابن ابی الدنیا

-3

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:زبان بدن کی درستگی کی بنیاد ہے۔

-4

امام اوزاعی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک خط لکھا جسے میں نے اور مکحول رحمہ اللہ تعالیٰ نے یاد رکھا ہے اور وہ یہ ہے: جو شخص موت کو کثرت سے یاد کرے گا وہ دنیا میں تھوڑی سی چیز پر بھی راضی رہے گا اور جو شخص اپنی باتوں کو اپنے اعمال میں سے قراردے گا اس کی باتوں میں بے فائدہ اور فضول باتیں کم ہوں گی۔

-5

حضرت محمد بن الفضل رحمہ اللہ تعالی فرماتے  ہیں :زیادہ باتیں کرنا سنجیدگی ختم کردیتا ہے۔

(حسن السمت للسیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ)

 

Facebook Comments