امام ابویوسف وامام محمد رحمہا اللہ تعالیٰ نے کئی مسائل میں امام صاحب کی تقلید نہیں کی۔ کیوں؟

 

سوال

امام ابویوسف وامام محمد رحمہا اللہ تعالیٰ نے کئی  مسائل میں امام صاحبؒ کی تقلید نہیں کی۔ کیوں؟

جواب

امام ابویوسف وامام محمد رحمہا اللہ تعالیٰ نے کئی مسائل میں امام صاحبؒ کی تقلید نہیں  کی۔ وجہ یہ ہے کہ یہ حضرات بھی مجتھد تھے۔مجتھد پر اجتہاد واجب ہے اور اپنے جیسے مجتھد کی تقلید حرام ہے۔ ہاں اپنے سے بڑے مجتھد کی تقلید جائز ہے یا نہیں تو اس میں حضرت عثمان ؓ جواز کے قائل ہیں اور حضرت علیؓ عدم جواز کے۔ لہذا ان  کی سمجھ میں دلیل  سے جو بات آئی انھوں نے وہی مسئلہ بیان فرمایا۔

فقہ حنفی کے مقلدین کا بھی یہی حال ہے۔اگر مقلدین ائمہ کے اقوال کو  نعوذ باللہ شریعت کا درجہ دیتے تو کبھی بھی ائمہ کے اقوال کو چھوڑنا جائز نہیں ہوتا۔ لیکن سینکڑوں مسائل ہیں کہ جہاں مقلدین نے صحیح اور صریح نصوص کی موجودگی یا اپنے امام کے قیاس کے مقابلہ دوسرے قوی ترقیاس کے سامنے آجانے کی وجہ سے اپنے امام کی رائے کو چھوڑا ہے۔ حنفیہ نے سینکڑوں مسائل ہیں امام ابوحنیفہؒ کے بجائے  امام ابویوسف اور امام محمد کی رائے کو قبول کیا ہے۔ اور ابن نجیمؒ نے حاوی قدسی سے یہ اصول ہی نقل کیا ہے کہ

ان        الامام اذا کان فی جانبٍ و ھما فی جانب فا لاصح ان الاعتبار لقوۃ المدرکٔ  (البحر: ۶؍ ۲۶۹

امام ابو حنیفہؒ ایک رائے کے حامل ہوں اور صاحبین اس کے برخلاف ٗ تو صحیح یہ ہے کہ قوتِ دلیل کا اعتبار ہوگا۔

ہم صرف خدا کی کتاب کو لاریب فیہ مانتے ہیں انسانوں کی لکھی ہوئی کتابیں خواہ حدیث کی ہوں،خواہ فقہ کی ان سے بھول چوک اور غلطی ہو جاتی ہے یہ انسانی فطرت ہے لیکن دوسرے اہل فن اس غلطی کو چلنے نہیں دیتے جیسے رمضان المبارک میں قاری صاحب تلاوت کرتے ہیں ان کو بعض اوقات غلطی لگتی ہے مگر سامع حافظ لقمہ دے کر اس غلطی کو درست کرا دیتا ہے۔ اس کو چلنے نہیں دیتا۔ اب کوئی ایسی غلطیوں کو اکٹھا کرکے قرآن یا قاری کو غلط کار کہے ٗ اشتہار دے تو یہ اس کی جہالت ہے۔ جب وہ غلطی چلی نہیں تو اس پر شور مچانا ہی غلط کاری ہے۔ اسی طرح اگر کسی مصنف سے غلطی ہوئی تو شارحین وغیرہ نے فوراً اس کی اصلاح کر دی اس کوچلنے نہیں دیا ٗ اس لئے کسی ایسی غلطی کو پیش کرنا جو چلی نہیں خدا کے حکم قولوا    لھم قولا معروفا (۴  :۵) و     اذا قلتم فاعدلوا  (۶۱: ۱۵۲) کے بھی خلاف ہے اور خرق اجماع ہے۔ ہاں کسی ایسی غلطی کی نشاندہی فرمائیں جو اہلسنت میں چل گئی ہو ٗ سب احناف کا اس پر عمل اور فتویٰ ہو اور کسی نے اس کی اصلاح نہ فرمائی ہو اگر کوئی صاحب پیش فرمائیں تو ہم شکریہ ادا کرکے اس پر غور کریں گے۔  اگر کسی بات کو قرآن کی صریح آیت یا نبی پاک  ﷺ کی صحیح ٗ صریح ٗ غیر معارض حدیث کے خلاف ثابت کردیا جائے تو ہم اس بات سے دستبردار ہو جائیں گے۔

فتاوی اہلحدیث ج ۱ ص ۴۳ پر غیر مقلدین کے مجتھد عصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی فرماتے ہیں

سوال: امام ابو حنیفہؒ اور ان کے شاگردوں میں اختلاف کے وقت ترجیح کس کو ہوگی؟

جواب: عبادات میں فتوی ہمیشہ امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہوگا۔ اور مسائل ذوی الارحام میںامام محمد ؒ کے قول پر۔ مسائل وقف، قضا اور شہادات میں امام ابو یوسف ؒ کے قول پر اور سترہ مسئلوں میں امام زفر ؒکے قول پر ۔چناچہ ردالمختار جلد ۱ ص ۵۳ اور جلد ۳ ص ۴۰۵ میں اس کی تصریح ہے۔۔ الخ

اھلحدیث حضرات کو گھر کی شہادت مل گئی کہ احناف اندھی تقلید نہیں کرتے بلکہ شرعی دلیل کو ملحوظ رکھتے ہیں۔

 

Facebook Comments