دایہ کے پاس

بنی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپکی والدہ آمنہ نے نودن دودھ پلایا پھر ابولہب کی باندی ثوبیہ نے چند دن دودھ پلایا پھر دودھ پلانے کی باری حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنھا کی آئی۔اس زمانہ میں عرب میں دستور تھا کہ پیدائش کے بعد بچوں کو دیہات سے آنے والی دائیوں کے حوالے کردیتے تاکہ دیہات میں بچوں کی نشوونما بہتر ھواور وہ خالص عربی زبان سیکھ سکیں

نبی   ﷺ کو گود لینے سے پہلے حضرت حلیمہ سعدیہ کی حالت

حضرت حلیمہ سعدیہ  دوسری عورتوں کے ھمراہ اپنی بستی سے بچے لینے کو روانہ ھوئیں انکا خچر بہت کمزور و مریل تھا ساتھ میں کمزور و بوڑھی اونٹنی تھی جو بہت آھستہ چلتی اور اسکی وجہ سے حضرت حلیمہ قافلے سے بہت پیچھے رہ جاتیں اسی وجہ سے وہ سب سے آخر میں مکہ میں داخل ھوئیں قافلہ کی عورتیں بار بار انہیں کوستیں کہ جلدی چلوتمہاری وجہ سے دیر ھو رھی ھے

مکہ میں آکر دائیوں نے مختلف بچے لے لئے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی نے اس خیال سے نہ لیا کہ یہ یتیم ھیں انکے گھر سے انہیں کیا معاوضہ ملے گا۔ یہاں تک کہ ھر دائی کو کوئی نہ کوئی بچہ مل گیا صرف حضرت حلیمہ رہ گئیں

جب حضرت حلیمہ کو کوئی بچہ نہ ملا اور صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم رہ گئے تو انہوں نے اپنے شوھر سے کہا کہ

مجھے یہ بات بڑی ناگوار ھے کہ میں بغیر بچہ کے جائوں دوسری عورتیں بھی مجھے طعنہ دیں گی کیوں نہ ھم اس یتیم بچہ کو لے لیں۔

شوھر نے اجازت دی کہ شاید اللہ اسی بچہ کے ذریعہ ھمیں خیر و برکت عطا فرمائیں

حضرت حلیمہ عبدالمطلب کے گھر پہنچیں حضرت آمنہ انہیں بچہ کے پاس لائیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفید اونی چادر میں لپٹے ھوئے تھے آپکے نیچے ایک سبز ریشمی کپڑا تھا سیدھے لیٹے ھوئے تھے آپکے سانس کی آواز کے ساتھ مشک کی سی خوشبو نکل کر پھیل رھی تھی آپکا حسن و جمال دیکھ کر حضرت حلیمہ حیرت زدہ رہ گئیں آپ سوئے ھوئے تھے جونہی انہوں نے آپکے سینہ پر محبت سے ھاتھ رکھاآپ مسکرا دیے اور آنکھیں کھول کر انکی طرف دیکھنے لگے حضرت حلیمہ فرماتی ھیں کہ میں نے دیکھا کہ ایک نور سا آپکی آنکھوں سے نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا

نبی  ﷺ کی برکات

حضرت حلیمہ فرماتی ھیں کہ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر اپنے خچر پر سوار ھوئی تو ھمارا خچر اتنا تیز چلا کہ سارے قافلہ کو پیچھے چھوڑ دیا حالانکہ پہلے وہ سب سے پیچھے رھتا تھا ساتھی عورتیں کہنے لگیں

اے حلیمہ کیا یہ وھی خچر ھے جس پر تم آئیں تھیں

انھوں نے جواب دیا کہ

یہ وھی خچر ھے  بخدا اسکا معاملہ عجیب ھے

حضرت حلیمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر بستی پہنچیں ان دنوں یہ علاقہ خشک اور قحط زدہ تھا شام کو جب انکی بکریاں چر کر آئیں تو انکے تھن بھرے ھوئے تھے حالانکہ پہلے ان سے دودھ بہت کم اور بہت مشکل سے نکلتا تھا لیکن اس دن سارے برتن بھر گئے سب نے جان لیا کہ سب برکت اس بچہ کی وجہ سے ھے باقی لوگوں کی بکریاں بدستور کم دودھ دے رھی تھیں

دو ھی ماہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلنے پھرنے لگے آٹھ ماہ کے ھوئے تو باتیں کرنے لگے اور آپکی باتیں سمجھ میں آتیں تھیں ۔ نو ماہ کی عمر میں تو آپ ﷺبہت صاف گفتگو کرنے لگے۔ جب سے آپ ﷺبستی بنوسعد میں آئے تو ھر گھر سے مشک کی خوشبو آنے لگی سب لوگ آپ ﷺسے محبت کرنے لگے۔

والدہ  کی خدمت میں

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو سال کے ھوئے تو حضرت حلیمہ آپکو لیکر آپکی والدہ کے پاس آئیں چونکہ وہ  آپکی برکات دیکھ چکی تھیں اس لئے وہ آپکو مذید اپنے پاس رکھنا چاھتی تھیں لہذا وہ حضرت آمنہ کو منا کر پھر آپکو لے آئیں  جب آپﷺ کچھ بڑے ھوئے تو اپنے دودھ شریک بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے جانے لگے پھر کچھ ایسے واقعات ھوئے کہ حضرت حلیمہ کو آپکے نقصان کا ڈر ھوا لہذا وہ آپکو واپس آپکی والدہ کے پاس چھوڑ آئیں (وہ واقعات یہ ھیں

۱

ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دودھ شریک بھائی بہنوں کے ساتھ بکریاں چرانے گئے کہ دو آدمی (جبرائیل و میکائیل علیہما السلام)سفید کپڑے پہنے آئے انہوں نے آپکو پکڑ کر لٹایا اور پیٹ چاک کیا اور کوئی چیز نکال کر باھر پھینک دی پھر سی دیا۔ (دوسری روایات سے پتہ چلتا ھے کہ وہ سیاہ رنگ کا ایک دانہ تھا یہ انسان کے جسم میں شیطان کا گھر ھوتا ھے  اور شیطان انسان کے بدن میں یہیں سے اثرات ڈالتا ھے) جب حضرت حلیمہ کو یہ سب معلوم ھوا تو ڈر گئیں

۲

حضرت حلیمہ کے پاس سے ایک بار یہودیوں کی جماعت گذری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تفصیلات معلوم کرکے انہوں نے آپکو قتل کرنے کا مشورہ کیا انہوں نے حلیمہ سے پوچھا

کیا یہ بچہ یتیم ھے ؟

حضرت حلیمہ انکا قتل کا مشورہ سن چکی تھیں لہذا انہوں نے جلدی سے اپنے شوھر کی طرف اشارہ کیا کہ

نہیں! یہ رھے اس بچہ کے باپ۔

تب انھوں نے کہا کہ اگر یہ بچہ یتیم ھوتا تو ھم ضرور اسے قتل کر دیتے (یہ اس لئے کہ پرانی کتب میں آخری نبی کی نشانیوں میں یہ بھی ھے کہ وہ یتیم ھونگے)چونکہ حضرت حلیمہ نے کہہ دیا کہ یہ بچہ یتیم نہیں تو انہوں نے خیال کیا کہ یہ وہ بچہ نہیں لہذا قتل کا ارادہ ترک کر دیا

۳

حضرت حلیمہ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو عکاظ کے میلے میں لے گئیں جاھلیت کے دور میں یہاں بڑا مشہور میلہ لگتا تھا  عرب کے لوگ حج کرنے آتے تو شوال کا مہینہ اس میلے میں گزارتے کھیلتے کودتے اپنی بڑائیاں بیان کرتے ۔ حلیمہ آپکو لے کر اس میلہ میں گھوم رھی تھیں کہ ایک کاھن کی نظر آپ پر پڑی  اسے آپ میں نبوت کی تمام نشانیاں نظر آگئیں اس نے پکار کر کہا

لوگو! اس بچہ کو مار ڈالو۔

حضرت حلیمہ اسکی بات سن کر گھبرا گئیں اور جلدی سے وھاں سے سرک گئیں اس طرح اللہ نے آپکی حفاظت فرمائی۔لوگوں نے کاھن سے پوچھا کہ

کس بچہ کی بات کر رھے ھو

اس نے کہا

معبودوں کی قسم میں نے ابھی ایک لڑکا دیکھا ھے وہ تمھارا دین ماننے والوں کو قتل کرے گا تمہارے بتوں کو توڑدے گا اور تم سب پر غالب آئے گا۔

لوگ آپکی تلاش میں دوڑے مگر ناکام رھے۔ صلی اللہ علیہ وسلم

۴

حضرت حلیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لیکر جارھی تھیں کہ ذی الجاز کے میلہ پر سے گزر ھوا اس میں ایک نجومی بیٹھا تھا جب نجومی کی نظر آپ پر پڑی تو اسے آپ کی مہر نبوت اور آنکھوں کی خاص سرخی نظر آگئی وہ چلا اٹھا

اے عرب کے لوگو اس لڑکے کو قتل کردو یہ یقینا تمہارے دین کے ماننے والوں کو قتل کرے گا تمہارے بتوں کو توڑ دے گا اور تم پر غالب آئے گا

یہ کہتے ھوئے وہ آپ کی طرف جھپٹا لیکن اسی وقت پاگل ھوگیا اور اسی پاگل پن میں مر گیا یوں اللہ نے آپ کی حفاظت فرمائی صلی اللہ علیہ وسلم

۵

حضرت حلیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی والدہ کے حوالہ کرنے جا رھی تھیں کہ حبشہ کے عیسائیوں کی ایک جماعت پاس سے گزری انہوں نے آپ کی مہر نبوت اور آنکھوں کی خاص سرخی کو دیکھا تو حضرت حلیمہ کو کہا

اس بچہ کو ھمارے حوالہ کردو ھم اسے اپنے ملک میں لے جائیں گے  یہ بچہ پیغمبر اور بڑی شان والا ھے ۔

حلیمہ سعدیہ یہ سنتے ھی وھاں سے دور چلی گئیں یہاں تک کہ آپکو آپکی والدہ کے پاس پہنچا دیا صلی اللہ علیہ وسلم

جب حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالی عنھا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپکی والدہ کے حوالہ کیا تو اس وقت آپکی عمر ۴ یا ۵ یا ۶ سال تھی

والدہ  کی وفات

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ آپکو لے کر اپنے میکے مدینہ منورہ گئیں ام ایمن بھی ساتھ تھیں ایک دن مدینہ کے دو یہودی ام ایمن کے پاس آئے اور کہا

ذرا محمد کو ھمارے سامنے لائو ھم انھیں دیکھنا چاھتے ھیں ۔

انھوں نے اچھی طرح دیکھا پھر ایک اپنے ساتھی سے بولا کہ

یہ اس امت کا نبی ھے اور یہ شہر انکی ھجرت گاہ ھے یہاں زبردست جنگ ھوگی ۔

جب آپکی والدہ کو معلوم ھوا تو ڈر گئیں اور آپکو لیکر مکہ روانہ ھوئیں مگر راستہ ھی میں ابواء کے مقام پر وفات پا گئیں  آپکو یہیں دفن کیا گیا  پانچ دن بعد ام ایمن آپکو لیکر مکہ پہنچیں اور آپکے دادا عبدالمطلب کے حوالہ کیا ۔صلی اللہ علیہ وسلم

دادا عبدالمطلب کی آغوش میں

ایک روز بنو مدلج کے کچھ لوگ حضرت عبدالمطلب کے پاس آئے یہ لوگ قیافہ شناس تھے آدمی کا چہرہ دیکھ کر اسکے مستقبل کا اندازہ لگاتے تھے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا

اس بچہ کی حفاظت کرو اس لئے کہ مقام ابراھیم پر جو حضرت ابراھیم علیہ السلام کے قدم کا نشان ھے اس بچہ کے پائوں کا نشان بالکل اس سے ملتا جلتا ھے اس قدر مشابہت ھم نے اور کسی کے پائوں میں نہیں دیکھی ھمارا خیال ھے کہ یہ بچہ نرالی شان کا مالک ھوگااس لئے اسکی حفاظت کریں

ایک روز عبدالمطلب حجر اسود کے پاس بیٹھے تھے کہ نجران کے عیسائی آگئے ان میں ایک بڑا پادری بھی تھا اس نے کہا

ھماری کتابوں میں ایک ایسے نبی کی علامات ھیں جو اسماعیل کی اولاد میں ھونا باقی ھے یہ شہر اسکی جائے پیدائش ھوگا اسکی یہ یہ نشانیاں ھیں۔

ابھی یہ بات ھورھی تھی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر وھاں آپہنچا پادری کی نظر جونہی آپ پر پڑی وہ چونک اٹھا آپکی آنکھوں کمر اور پیروں کو دیکھ کر چلا اٹھا کہ

یہی وہ نبی ھیں یہ تمہارے کیا لگتے ھیں

عبدالمطلب نے کہا

یہ میرے بیٹے ھیں

اس پر پادری بولا

تب یہ وہ نھیں ھماری کتابوں میں لکھا ھے کہ اسکے والد کا انتقال اسکی پیدائش سے پہلے ھوجائے گا

اس پر عبدالمطلب نے کہا

یہ دراصل میرا پوتا ھے اسکے والد کا انتقال اسکی پیدائش سے پہلے ھوگیا تھا

تب پادری نے کہا

ھاں یہ ھوئی ناں بات۔۔۔ آپ اسکی پوری طرح حفاظت کی

دادا کی وفات

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آٹھ سال کے ھوئے تو آپکے دادا عبدالمطلب وفات پاگئے عبد المطلب نے مرتے وقت آپکو ابو طالب کے سپرد کیا  ام ایمن کہتی ھیں کہ جس وقت عبدالمطلب کا جنازہ اٹھا تو آپکو دیکھا کہ جنازے کے پیچھے روتے جاتے تھے

چچا کی نگرانی میں

عبدالمطلب کے بعد ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نگران ھوئے یہ مالی اعتبار سے کمزور تھے دو وقت سارے گھرانے کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں ملتا تھا لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکے ساتھ کھاتے تو تھوڑا کھانا بھی سب کو کافی ھوجاتا سب کے سیر ھونے کے بعد بھی کھانا بچ جاتا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم چند سال اپنے دوسرے چچا زبیر کے ساتھ بھی رھے ایک بار انکے ساتھ قافلہ میں یمن تشریف لے گئے راستہ میں ایک وادی پر سے گزر ھوا جس میں سرکش اونٹ رھتا تھا جو آنے جانے والوں کا راستہ روک لیتا تھامگر جونہی آپکو دیکھا تو بیٹھ گیا اور چھاتی زمین سے رگڑنے لگا آپ اپنے اونٹ سے اتر کر اس پر سوار ھوگئے اونٹ آپکو وادی کے پار لے گیا پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا