پہلا تجارتی سفر

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سچائی اوردیانتداری کی وجہ سے صادق اور امین مشہور ھو چکے تھے ابو طالب نے کہا کہ

معاشی حالات کافی خراب ھیں میں چاھتا تو نہیں لیکن حالات سے مجبور ھوکر کہہ رھا ھوں کہ قریش کی ایک خاتون خدیجہ شام کی طرف اپنا تجارتی سامان بھیجاکرتی ھے اور لیجانے والے کو اجرت دیتی ھے اگر تم اسکے پاس جائو تو وہ ضرور تمہیں مال دے دے گی کیونکہ وہ تمہاری شہرت سن چکی ھے

حضرت خدیجہ نےخودآپ صلی اللہ علیہ وسلم کوپیغام بھیجاکہ

اگرمیرامال تجارت کیلئےشام لیجائیں تودوگنا معاوضہ دوں گی

آپﷺ نےقبول فرمایاسفرمیں خدیجہ کاغلام میسرہ ساتھ تھایہ آپکاپہلاتجارتی سفرتھاآپکےچچائوںنےقافلہ والوںسےآپکاخیال رکھنےکی درخواست کی ۔سفر کے آغاز کے ساتھ ھی آپﷺ کے معجزات کاآغازھوگیا

معجزہ  نمبر ۱

جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم شام پہنچےتوبصرہ کےبازارمیںایک درخت کےنیچےبیٹھےدرخت ایک عیسائی راھب نسطوراکی خانقاہ کےسامنےتھاوہ باھرنکلاتوآپﷺ پرنظرپڑی ۔ اس نے آپ ﷺ کے بارے میں میسرہ سے پوچھا

نسطورا

یہ کون ھیں

میسرہ

یہ قریشی ھیں حرم والوںمیں سےھیں

نسطورا

کیاانکی آنکھوںمیں سرخی ھے؟

میسرہ

ھاں

نسطورا:

یہ وھی ھیں

میسرہ(حیران ھوکر)

کون وھی؟

نسطورا

یہ آخری نبی ھیں کاش میں انکی نبوت کازمانہ پائوں

پھروہ آپﷺکےپاس آیاسراورقدموں کوبوسہ دیااوربولا

پرانی کتب میں آپکی جونشانیاںھیں وہ سب میں نےدیکھ لی ھیں صرف ایک باقی ھے ذراکندھےسےکپڑا ھٹائیں

آپﷺ نےکپڑاھٹایا اس نےمہرنبوت کودیکھااسےچوما اللہ کی توحیداورآپکی رسالت کی گواھی دیکربولا

آپﷺکےبارے میں عیسی علیہ السلام  نےخوشخبری دی ھےکہ میرےبعداس درخت کےنیچےکوئی نہ بیٹھےگاسوائے اس پیغمبرکے جوھاشمی مکی عربی ھونگےقیامت میں حوض کوثروشفاعت واےھونگے

معجزہ   نمبر ۲

نبی صلی اللہ علیہ وسلم بصرہ کے بازار تشریف لے گئے وھاں خرید و فروخت کے دوران ایک شخص سے کچھ جھگڑا ھوا اس نے کہا

لات و عزی کی قسم کھائو

آپ ﷺنے فرمایا

میں نے ان بتوں کے نام پر کبھی قسم نہیں کھائی

وہ آپکی بات سب کر چونک اٹھا شاید پرانی کتب کا عالم تھا اس نے آپکو پہچان لیا علیحدگی میں میسرہ کو کہا

یہ نبی ھیں یہ وھی ھیں جنکا ذکر ھمارے راھب اپنی کتابوں میں پاتے ھیں

معجزہ     نمبر۳

اسی سفر میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ دو اونٹ بہت تھک گئے چلنے کے قابل نہ رھے انکی وجہ سے میسرہ کافی پیچھے رہ گیا بنی صلی اللہ علیہ وسلم قافلہ کے اگلے حصہ میں تھے میسرہ دوڑتا ھوا آپکے پاس آیا اور اونٹوں کا حال سنایا آپ اسکے ساتھ گئے اور اونٹوں کی پشت پر ھاتھ پھیرااور کچھ پڑھ کر دم کیا اونٹ اسی وقت ٹھیک ھوگئے اور جوش و خروش سے اتنا تیزچلنے لگے کہ قافلہ کے اگلے حصہ میں پہنچ گئے

معجزہ   نمبر4

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی وجہ سے قافلہ والوں کو اتنا نفع ھوا کہ پہلے کبھی نہ ھوا تھا  دوران سفر میسرہ نے یہ بات صاف طور پر دیکھی کہ جب گرمی کا وقت ھوتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ھوتے تو دو فرشتے دھوپ سے بچانے کیلئے آپ پر سایہ کیے رھتے ان تمام باتوں کی وجہ سے میسرہ کے دل میں آپکی محبت گھر کر گئی اور یوں لگنے لگا جیسے وہ آپکا غلام ھو

معجزہ  نمبر5

واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قافلہ والوں سے کچھ پہلے مکہ پہنچ گئے آپﷺ سیدھے حضرت خدیجہ کے گھر پہنچے وہ چند عورتوں کے ساتھ بیٹھی تھیں انہوں نے دور سے دیکھ لیا کہ آپﷺ اونٹ پر سوار ھیں اور دو فرشتے آپﷺ پر سایہ کئے ھوئے ھیں انہوں نے یہ منظر دوسری خواتین کو بھی دکھایا سب بہت حیران ھوئیں

حضرت خدیجہ نے بعد میں میسرہ سے فرشتوں کے سایہ کرنے کے منظر کا  پوچھا تو اس نے کہا کہ

میں تو یہ منظر اس وقت سے دیکھ رھا ھوں جب  سے قافلہ روانہ ھوا تھا

میسرہ نے حضرت خدیجہ کو تمام واقعات بتائے

حضرت خدیجہ نے آپکو طے شدہ اجرت سے دو گنا اجرت دی  جبکہ طے شدہ اجرت پہلے ھی دوسروں سے دو گنا تھی

تمام واقعات و حالات سے حضرت خدیجہ بہت حیران ھوئیں وہ اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل سے ملیں جو پرانی کتب کے عالم تھے ورقہ بن نوفل نے کہا کہ

اگر یہ باتیں سچ ھیں تو سمجھ لو کہ محمد اس امت کے نبی ھیں دنیا کو انہی کا انتظار تھا یہی انکا زمانہ ھے  ۔

صلی اللہ علیہ وسلم

حضرت    خدیجہ رضی اللہ تعالی عنھا سے نکاح

حضرت خدیجہ ایک شریف اور پاکباز خاتون تھیں نسب کے اعتبار سے بھی قریش میں سب سے اعلی تھیں  سیدہ اور طاھرہ کے لقب سے مشہور تھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات اور باتیں دیکھ کر حضرت خدیجہ آپ سے بہت زیادہ متاثر ھو چکی تھیں چناچہ سفر شام سے واپسی کے دو ماہ پچیس دن بعد انہوں نے خود نکاح کا  پیغام بھیجا

حضرت خدیجہ کے نکاح کا پیغام آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچائوں کے مشورہ سے قبول فرمالیااسوقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر پچیس برس اور حضرت خدیجہ کی عمر چالیس برس تھی  مہرکی رقم ساڑھے بارہ اوقیہ یا بیس اونٹ تھی  ایک روایت کے مطابق ابو طالب نے نکاح پڑھایا  بعد میں آپ ﷺنے ولیمہ کی دعوت  کھلائی جس میں ایک یا دو اونٹ ذبح کئے

حضرت ابراھیم کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ  وسلم کی تمام اولاد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ھوئی نکاح کے بعد تقریبا ۲۴ ۔۲۵ سال حضرت خدیجہ رضی اللہ  عنہا زندہ رھیں

خانہ کعبہ کی تعمیرنو

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۳۵ سال کی تھی اس وقت قریش نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی  تعمیر میں سب قبیلے شامل تھے جب حجر اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا وقت آیا تو  جھگڑا ھوگیا ھر قبیلہ چاھتا تھا کہ یہ کام میں کروں آخر طے ھوا کہ کل صبح جو سب سے پہلے کعبہ میں داخل ھوگا وھی فیصلہ کرے گا اللہ کی قدرت کہ سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ کو دیکھ کر سب بول اٹھے یہ صادق و امین ھیں جو فیصلہ کریں گے ھمیں منظور ھے آپ نے حجر اسود کو ایک چادر پر رکھا اور ھر قبیلے کے سردار و نمائندہ سے کہا کہ مل کر چادر اٹھا لو جن حجر اسود متعین مقام تک آگیا تو آپ نے خود اسے وھاں لگا دیا یوں جھگڑا ختم ھوگیا صلی اللہ علیہ وسلم