وحی کے آثار

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چاند کے حساب سے چالیس برس کے قریب ھوئی تو وحی کے آثار شروع ھوگئے سب سے پہلے آپ کو سچے خواب آنے شروع ھوئے، کبھی آپ تنہائی میں بیٹھے ھوتے تو آپ کو کوئی آپ کے نام سے پکارتا مگر دیکھنے والا نظر نہ آتا، بعض اوقات  آپکو ایک نور سا دکھائی دیتا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذھنی طور پر تیار کرنے کیلئے اللہ تعالی نے فرشتے اسرافیل کو آپ کا ھم دم بنادیا آپ اسکی موجودگی تو محسوس کرتے مگر اسے دیکھ نہ سکتے تھیاس طرح مختلف انداز سے آپکو نبوت کی خوشخبریاں دی جاتی رھیں اور وحی کیلئے تیار کیا جاتا رھا

مسئلہ

حضرات انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام کا خوب سچا ھوتا ھے اور وحی کے حکم میں ھوتا ھے۔  ابنیاء کے علاوہ دوسرے لوگوں کا خواب کسی پر حجت نہیں  اگر شریعت کی حدود میں ھو تو عمل کرنا جائز ھے اور اگر خلاف شریعت ھو تو عمل کرنا جائز نھیں  بلکہ حرام ھے ۔ نیک لوگوں کے خوب میں سچ کا احتمال زیادہ ھوتا ھے اور گنہگار کے خواب میں جھوٹ کا احتمال زیادہ ھوتا ھے

اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں تنہائی کا شوق پیدا فرمادیا آپ غار حرامیں تشریف لے جاتے اور وھاں وقت گزارتے کائنات میں غوروفکر کرتے۔  ایک بار آپکو پہاڑ سے آواز سنائی دی

میری طرف تشریف لائیے اے اللہ کے رسول

غار حرا میں آپ کئی کئی راتیں مسلسل قیام فرماتے کبھی پورا مہینہ ھی گزار دیتے  آپ گھر سے کھانا ساتھ لیجاتے جب ختم ھوجاتا تو واپس تشریف لاتے کھانے میں زیتون کا تیل، خشک روٹی اور کبھی گوشت بھی ھوتا اگر مسکین لوگ غار کے پاس سے گزرتے تو آپ انکو کھانا کھلاتے

پہلی وحی

چاند کے حساب سے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس سال ھوئی تو ایک دن بروز پیر ماہ ربیع الاول  غار حرا میں قیام کے دوران اللہ تعالی نے فرشتے جبرائیل علیہ السلام کو بھیجا جبرائیل نے کہا

اے محمد ! آپکو بشارت ھو آپ اللہ کے رسول ھیں اور میں جبرائیل ھوں ۔

انگریزی حساب سے یہ ۱۲ یا ۱۵ فروری ۶۱۰ء کا واقعہ ھے اسکے بعد چھ ماہ تک جبرائیل تشریف نہ لائے

چھ ماہ کے بعد رمضان کے مہینہ میں جبرئیل علیہ السلام پھر آئے اور سورۃ علق پارہ ۳۰ کی ابتدائی آیات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنائیں پھر آپ سے پڑھوائیں، وضو اور نماز کا طریقہ بھی بتایااسکے بعد آپ گھر تشریف لے آئے اور تمام واقعہ حضرت خدیجہ کو سنایا وہ آپکو اپنے چچازاد بھائی ورقہ نب نوفل کے پاس لے گئیں

ورقہ بن نوفل پرانی کتب کے عالم تھے انہوں نے ساری بات سن کر کہا

اے محمد!میں گواھی دیتا ھوں کہ آپ اس  امت کے بنی ھیں کاش کہ میں اس وقت تک زندہ رھوں جب آپ قوم کو دعوت دیں گے میں زندہ رھا تو آپکی مدد کروں گا اس عظیم کام میں بڑھ چڑہ کر حصہ لوں گاآپکی قوم آپکو جھٹلائے گی تکالیف پہنچائے گی اور یہاں سے نکال دے گی میں زندہ رھا تو آپکی حمایت کروں گا۔

کچھ ھی مدت بعد ورقہ بن نوفل کا انتقال ھوگیا چونکہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی تھی اس لئے احادیث میں ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

میں نے ورقہ کو جنت میں دیکھا ھے۔

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا ساری دنیا میں سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرنے والی ھیں

ورقہ بن نوفل سے ملاقات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے آئے اسکے بعد ایک مدت تک جبرائیل علیہ السلام آپکے سامنے نھیں آئے انکے نہ آنے سے آپکو صدمہ ھوا کئی بار آپ پہاڑوں کی چوٹیوں پر گئے تاکہ خود کو وھاں سے گرا کر ختم کر دیں لیکن جب بھی آپ ایسا کرنے لگتے تو جبرائیل آپکو پکارتے

اے محمد!آپ حقیقت میں اللہ کے رسول ھیں ۔

اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ھوتی

شروع شروع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے حضرات بالترتیب یہ تھے (۱) حضرت خدیجہ (۲) حضرت ابوبکر صدیق (۳) حضرت علی (۴) حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنھم جب دوبارہ وحی نازل ھوئی تو سورۃ مدثر کی پہلی تین آیات اتریں (مفھوم

اے کپڑا لپیٹنے والے اٹھو(اٹھو اور تیار ھوجائو) پھر کافروں کو ڈرائو اور اپنے رب کی بڑائیاں بیان کرو اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھو۔

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے اعلان اور تبلیغ  کا حکم دیا گیا

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا قصہ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ایمان لانے کا قصہ یوں ھے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آپکو دعوت دی تو آپکی عمر ۸سال تھی اسلئے آپ نے کہا کہ یہ ایک نئی بات ھے میں اپنے والد سے مشورہ کرکے بتائوں گا  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے علی اگر تم مسلمان نہیں ہوتے تو اس بات کو چھپائے رکھنا۔ انھوں نے وعدہ کیا کہ کسی سے ذکر نہ کریں گے رات بھر سوچتے رھے  صبح ایمان لے آئے لیکن احتیاط کے باوجود حضرت علی کے والدابوطالب کو پتہ چل گیاابوطالب نے کہا کہ

جہا ں تک محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات ھے تو وہ تمھیں بھلائی کے سوا کسی دوسرے راستے پر نہ لگائیں گے لہذا انکا ساتھ نہ چھوڑنا۔

ابوطالب اکثر کہا کرتے تھے کہ

میں جانتا ھوں کہ میرا بھتیجا جو کچھ کہتا ھے حق ھے اگر مجھے یہ ڈر نہ ھوتا کہ قریش کی عورتیں مجھے شرم دلائیں گی تو میں ضرور انکی پیروی کرلیتا

زید بن حارثہ

زید بن حارثہ  اپنی والدہ کے ساتھ جا رھے تھے کہ ڈاکوئوں نے قافلہ لوٹ لیا انکو بھی پکڑ کر لے گئے اور بطور غلام بیچ دیا انکو حضرت خدیجہ نے خرید لیا بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ھدیہ کردیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کی دعوت دی تو فورا آپ پر ایمان لے آئے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کردیا مگر یہ عمر بھر آپکی خدمت میں ھی رھے انکے والد ایک مدت سے انکی تلاش میں تھے کسی نے بتایا کہ زید مکہ میں ھے تو انکے والد اور چچا انکو لینے آئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

زید سے پوچھ لو اگر تمہارے ساتھ جانا چاھے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں اور اگر میرے پاس رھنا چاھے تو اسکی مرضی۔

زید سے پوچھا گیا تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رھنا پسند کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا جرت زید وہ واحد صحابی ھیں جنکا نام قرآن پاک میں آیا ھے

منہ بولی اولاد کا شرعی حکم

منہ بولی اولاد غیر ھی رھتی ھے لڑکا ھو تومنہ بولی ماں اور اسکی رشتہ دار خواتین کا اس سے پردہ ھوگا، لڑکی ھوتو منہ بولا باپ اور اسکے رشتہ دار اسکے لئے نامحرم ھونگے۔ منہ بولی اولاد کا وراثت  یا جائیداد میں کوئی حصہ نھیں ھوتا۔ البتہ اپنی منہ بولی اولاد کیلئے کل مال کے ایک تہائی  یا اس سے کم مال کی وصیت کی جاسکتی ھے

حضرت  جبرائیل علیہ السلام ھمارے رسول امین ﷺ کے پاس عموما  دحیہ کلبی نامی ایک نہایت حسین و جمیل صحابی کی شکل میں تشریف لاتے تھے

حضرت ابوبکر

اسلام لانے سے پہلے حضرت ابوبکر نے ایک خواب دیکھا کہ چاند مکہ میں اترا ھے پھر اسکا کچھ حصہ ھر گھر میں داخل ھوا پھر وہ سارے کا سارا ابوبکر کی گود میں آگیا ایک عیسائی عالم نے یہ تعبیر دی کہ

اگر تم سچ کہہ رھے ھو تو بہت جلد تمھاری قوم میں ایک نبی آئے گا تم اسکے وزیر بنو گے اور اسکی وفات کے بعد خلیفہ بنوگے

اسلام سے پہلے ایک بار ابوبکر یمن گئے وھاں پرانی کتابوں کے ایک بوڑھے عالم نے کہا

میرے خیال میں تم حرم کے رھنے والے ھو قریشی ھو تیمی خاندان سے ھو

ابوبکر

یہ صحیح ھے

اس نے کہا

ایک بات اور بتائوں گا مگر پہلے اپنا پیٹ دکھائو

ابوبکر نے وجہ پوچھی اس نے کہا

میں اپنے مضبوط علم کی بنیاد پر کہتا ھوں کہ حرم میں ایک نبی آنے والا ھے  انکی مدد کرنے والا ایک نوجوان ھوگا اور ایک پختہ عمر آدمی ھوگا نوجوان مشکلات میں کود جانے والا ھوگا پختہ عمر والا سفید رنگ کمزور جسم والا ھوگا اسکے پیٹ پر ایک بال دار نشان ھوگااور وہ تیمی خاندان کا ھوگا

ابوبکر نے پیٹ سے کپڑا ھٹایا تو انکی ناف کے اوپر سیاہ وسفید بالوں والا نشان موجود تھا جب ابوبکر رخصت ھونے لگے تو اس نے اس نبی کی شان میں چند شعر پڑھے جب ابوبکر مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کا اعلان فرما چکے تھے قریش نے انکی شکایت ابوبکر سے کی ابو بکر نبی کے پاس آئے نبی نے انکو دین کی دعوت دی

ابوبکر

آپکے پاس نبوت کا کیا ثبوت ھے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم

وہ شعر جو اس بوڑھے نے سنائے

ابوبکر (حیران ھوکر)

آپکو کیسے معلوم ھوا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم

اللہ کے حکم سے فرشتہ  جبرائیل نے بتایا ھے۔

اس پر ابوبکررضی اللہ عنہ ایمان لے آئے

مردوں میں سب سے پہلے ابوبکر رضی اللہ عنہ ایمان لائے جب انکو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوی نبوت کا پتہ چلا تو آپکے پاس آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر فورا ایمان لے آئے آپکے فورا ایمان لانے پر نبی نے آپکو صدیق کا لقب دیا ایک روایت یہ ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ معراج کی فورا تصدیق کرنے پر آپکو یہ لقب ملااسلام میں یہ پہلا لقب ھے جو کسی کو ملا

ابوبکر کا نام پہلے عبدالکعبہ تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر عبداللہ رکھا اس لحاظ سے ابوبکر وہ پہلے آدمی ھیں جنکا نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تبدیل کیا نبی نے انکا لقب عتیق بھی رکھا عتیق کا ایک مطلب ھے خوبصورت، دوسرا مطلب ھے آزاد۔

عتیق لقب رکھنے کی وجہ

ابوبکر بہت خوبصورت تھے

دوسری وجہ : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بارے میں فرمایا کہ یہ جہنم کی آگ سے آزاد ھیں

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں احادیث

1

اللہ نے میری مدد کیلئے چار وزیر مقرر کئے ھیں دو آسمان والوں میںسے یعنی جبرائیل ومیکائیل اور دو زمینوالوں میں سے یعنی ابوبکر و عمر

2

ابوبکر سب سے بہتر رائے دینے والے ھیں میرے پاس جبرائیل آئے اور ابہوں نے مجھ سے کہا کہ اللہ تعالی آپکو حکم دیتا ھے کہ اپنے معاملات میں ابوبکر سے مشورہ کیا کریں

عبداللہ بن مسعود

مسلمان ھونے کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اسلام کی تبلیغ کی انکی دعوت کے نتیجہ میں اسلام کی کئی اھم ھستیاں ایمان لائیں مثلا حضرت عثمان، زبیر بن العوام، عبدالرحمن بن عوف،سعد بن ابی وقاص، طلحہ ب عبداللہ تیمی، ابوعبیدہ بن الجراح،عبداللہ بن مسعود،ابوذر غفاری،وغیرھم رضی اللہ عنھم

حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ھیں کہ ایک دن میں بکریاں چرا رھا تھا کہ ابوبکر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ادھر آگئے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم

دودھ ھے؟

عبداللہ بن مسعود

ھے مگر یہ کسی کی بکریاں ھیں

نبی صلی اللی علیہ وسلم نے ایک ایسی بکری منگوائی جس کے تھن خشک تھے آپ نے اسکے تھنوں پر ھاتھ پھیرا تو وہ دودھ سے بھر گئے آپ نے دودھ نکال کر ابو بکر کو پھر مجھے دیا آخر میں خود پیا پھر تھنوں سے فرمایا کہ

سمٹ جا

تھن واپس خشک ھوگئے

عبداللہ بن مسعود فقیہ امت کے لقب سے مشھور ھیں اور فقہ حنفی کے سب سے بڑے ماخذ یہی ھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکی بہت عزت کرتے انکو اپنے قریب بٹھاتے سفروحضرمیں ساتھ رکھتے یہاں تک کہ بعض لوگ انکو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کافرد سمجھ بیٹھتے انھوں نے نبی کی ایک ایک بات اور عادت کو بہت قریب سے دیکھا نبی غسل فرماتے تو یہ پردہ کیلئے چادر تان کر کھڑے ھوتے جب نبی سوجاتے تو مقررہ وقت پر آپکو جگاتے کہیں جانا ھوتا تو جوتا پہناتے کہیں تشریف رکھتے تو آپکے جوتے اٹھا کر ھاتھ میں لے لیتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکو جنت کی بشارت دی

انکے بارے میں احادیث کامفھوم

1

عبداللہ اپنے مرتبہ کے لحاظ سے ترازو میں سب سے بھاری ھیں

2

میں اپنی امت کیلئے اس چیز پر راضی ھوگیا جس پر عبداللہ بن مسعود راضی ھوگئے اور جس چیز کو عبداللہ بن مسعود نے امت کیلئے ناگوار سمجھا میں نے بھی اسے ناگوار سمجھا۔

اسی لئے انکا بتائی ھوئی اکثر باتیں آج فقہ حنفی کے نام سے عالم اسلام کے تقریباتین چوتھائی حصہ میں رائج ھیں۔ رضی اللہ عنہ

نماز کا حکم

توحید و رسالت کے بعد سب سے پہلے جس چیز کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی گئی وہ وضوء اور نماز تھی پہلے جبرائیل علیہ السلام نے وضو کرکے دکھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضوء کیا پھر جبرائیل نے دو رکعت نماز پڑھائی اور آپ نے انکی اقتداء میں نماز پڑھی پھر اسی کی آپ نے تعلیم دی آپ جس قدر چاہتے نماز پڑھتے پانچ وقت کی نماز معراج میں فرض ھوئی۔ بعض کے نزدیک معراج سے پہلے دو رکعت صبح اور دو رکعت عصر کی فرض تھیں

خفیہ  تبلیغ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین سال تک خفیہ طور پر تبلیغ کرتے رھے اس دوران جو بھی مسلمان ہوتا وہ مکہ کی گھاٹیوں میں چھپ کر نماز ادا کرتاایک بار چند صحابہ ایک گھاٹی میں نماز پڑھ رھے تھے کہ قریش کی ایک جماعت وھاں پہنچ گئی اور ان کو برابھلا کہنے لگی اور ان پر چڑھ دوڑی حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایک کوپکڑ کر مارا تو اسکی کھال پھٹ گئی اور خون نکل آیا یہ پہلا خون تھا جو اسلام کے نام پر بہایا گیا

قریش کی دشمنی

اب قریش دشمنی پر اتر آئے لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے مکان پر تشریف لے آئے تاکہ دشمنوں سے بچائو رھے اس طرح حضرت ارقم کا مکان اسلام کا پہلا مرکز بنا اس مکان کو دار ارقم کہا جاتا ھے اب نماز دار ارقم میں ھونے لگی نبی صلی اللہ علیہ وسلم وھیں نماز پڑھاتے تبلیغ کرتے دین کی تعلیم دیتے

اعلانیہ تبلیغ

تین سال کی خفیہ تبلیغ کے بعد اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اعلانیہ تبلیغ کا حکم دیاچناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا پر چڑھے اور قریش کے قبیلوں کو پکارا جب سب جمع ھوگئے تو فرمایا

اگر میں تم سے کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر ھے جو تم پر حملہ کرنا چاہتا ھے تو کیا تم لوگ میری تصدیق کرو گے؟

سب نے مل کر کہا کہ

ھم نے تو آپ میں سوائے سچائی کے اور کچھ نہیں دیکھا

تب آپ نے انہیں دین کی دعوت دی اور اللہ کے عذاب سے ڈرایااس پر ابولہب نے نعوذباللہ برابھلا کہا  پھر سب لوگ چلے گئے اس پر سورۃ لہب نازل ھوئی

ابولہب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا تھا لیکن ھمیشہ آپ کو تکلیف دیتا رھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں رقیہ اور ام کلثوم کی شادی شروع میں ابولہب کے دو بیٹوں سے ھوئی تھی مگر دشمنی میں اس نے اپنے بیٹوں سے طلاق دلوادی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صدمہ بھی ھوابعد میں دونوں صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے نکاح میں آئیں ۔ تقریبا سوا لاکھ کے قریب انبیاء علیھم السلام گزرے ھیں ان تمام انبیا کے تمام صحابہ میں سے صرف حضرت عثمان ایک ایسے صحابی ھیں کہ جن کی زوجیت میں یکے بعد دیگرے پیغمبر کی دو صاحبزادیاں آئیں  اسی لئے حضرت عثمان کا لقب ذوالنورین ھے

ایک واقعہ

جب قریبی رشتہ داروں کو تبلیغ کا حکم آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو کچھ کھانے کا بندوبست کرنے اور رشتہ داروں کو جمع کرنے کا حکم فرمایا  اگرچہ کھانا اتنا کم تھا کہ صرف ایک آدمی کو پورا ھوتا مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ نے پہلے تھوڑا سا چکھا پھر تقریبا جالیس بندوں نے کھایا مگر پھر بھی بچ گیا ابولہب بولا کہ محمد نے کھانے پر ایسا جادو کردیا ہے کہ جیسا پہلے نھیں دیکھا چلو چلیں لہذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ کہنے کا موقع ہی نہ ملا اور لوگ چلے گئے

جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو صرف دعوت دیتے رھے تو کسی نے کچھ نہ کہا لیکن جب آپ نے علی الاعلان اسلام کی دعوت دی اور بت پرستی کی برائیاں بیان کیں تو سب آپ کے مخالف ھوگئے سب مل کر ابوطالب کے پاس گئے تاکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منع کریں جب قریش نے دیکھا کہ ابوطالب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت پر تلے ھوئے ھیں تو مایوس ھوکر انھوں نے کھلم کھلا مخالفت شروع کردی اور مسلمانوں کو تکلیف دینے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کے منصوبے بنانے لگے

ابوطالب نے قریش کے خطرناک ارادے دیکھے تو انھوں نے بنی ھاشم اور بنی عبدالمطلب کو بلایا اور ان سے درخواست کی کہ سب مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی حفاظت کریں  انکی بات سن کر سوائے ابولہب کے سب تیار ھوگئے ابولہب  نے ساتھ نہ دیا یہ بدبخت سختی کرنے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے خلاف آواز اٹھانے اور تکالیف دینے میں سب سے بڑھ کر تھا

ایک بار ابوجہل نے قسم کھائی کہ اگر میں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کو سجدہ میں دیکھ لوں تو گردن کاٹ دوں(نعوذباللہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ھوا تو غصہ میں سورۃ علق پڑھتے ھوئے مسجد حرام میں داخل ھوئے اس سورۃکے آخر میں آیت سجدہ ھے لہذا سجدہ کی آیت پڑھتے ھی آپ سجدہ میں چلے گئے ابوجہل آپ کی طرف بڑھا  نزدیک پہنچالیکن اچانک واپس آگیا لوگوں نے پوچھا

کیا ھوا؟

ابوجہل

جو میں دیکھ رھا ھوں کیا وہ تمہیں نظر نہیں آرھا؟

لوگوں نے حیران ھوکر پوچھا

تمھیں کیا نظر آرھا ھے؟

ابوجہل

مجھے اپنے اور انکے درمیان آگ کی ایک خندق نظر آرھی ھے

ایک دن ابوجہل نے یہ پروگرام بنایا کہ جب بنی صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں جائیں گے تو ایک بہت بھاری پتھر آپ کے سر پر مارے گا چناچہ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ میں گئے تو وہ پتھر اٹھا کر آپ کی طرف بڑھا جیسے ھی آپ کے نزدیک ھوا تو اس پر یکدم لرزہ طاری ھوگیا چہرے کا رنگ اڑ گیا گھبرا کر پیچھے ہٹ آیاپتھر پر ھاتھ ایسے جم گئے کہ ھاتھ ہٹانے کی کوشش کے باوجود ھاتھ نہ ھٹا سکا  لوگوں کے پوچھنے پر بولا کہ

جونہی میں قریب ھوا تو ایک زبردست اونٹ میرے راستے میں آگیا اگر میں پیچھے نہ ھٹتا تو مجھے کھا لیتا

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذکر ھوا تو فرمایا کہ

وہ جبرائیل  تھے اگر وہ قریب آتا تو ضرور پکڑ لیتے

ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رھے تھے کہ ابوجہل آیا اور بولا

کیا میں نے آپ کو اس سے منع نہیں کیا تھا، کیا آپ نہیں جانتے کہ میں سب سے بڑے گروہ والا ھوں

اس پر سورۃ علق کی آیت ۱۷ اور ۱۸ نازل ھوئیں (مفہوم

سو یہ اپنے گروہ کے لوگوں کو بلالے اگر اس نے ایسا کیا تو ھم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے

حضرت ابن عباس فرماتے ھیں کہ

اگر ابوجہل اپنے گروہ کو بلاتا تو اللہ تعالی کے عذاب کے فرشتے پکڑ کر تہس نہس کر دیتے

جب مسلمانوں کی تعداد ۳۸ ھو گئی تو حضرت ابوبکر نے خواھش طاھر کی کہ مسجد الحرام میں جاکر نماز ادا کی جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی ھماری تعداد تھوڑی ھے مگر حضرت ابوبکر نے پھر یہی خواھش ظاھر کی  چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو لیکر مسجد الحرام میں پہنچ گئے حضرت ابوبکر نے کھڑے ھوکر خطبہ دیا لوگوں کن کلمہ کی دعوت دی اس طرح حضرت ابوبکر پہلے آدمی ھیں جنھوں نے مجمع میں کھڑے ھوکر یوں تبلیغ فرمائی اسکے جواب میں مشرکین نے اکٹھے ھوکر مسلمانوں کو خوب مارا حضرت ابوبکر کوتو بہت مارا یہاں تک کہ انکی موت کا گمان ھونے لگا

ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی پہاڑی کے پاس موجود تھے کہ ابو جہل پاس سے گزرا اس نے آپکو گالیاں دیں اور سر پر مٹی پھینکی کسی کی لونڈی دیکھ رھی تھی اس نے آپکے چچا حضرت حمزہ کو بتایاکہ ابوحکم بن حشام(ابوجہل) نے تمہارے بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔ حضرت حمزہ غصہ میں گئے اور کمان کھینچ کر ابوجہل کے سر پر ماری جس سے اسکا سر پھٹ گیا حمزہ نے کہا

(مفہوم) تو محمد کو گالیاں دیتا ہے سن لے میں بھی اسکا دین اختیار کرتا ہوں کرلے جو کرنا ہے

گھر آکر حضرت حمزہ پریشان ھوئے  ضمیر نے ملامت کی اگلی صبح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے  نبی نے دعوت دی تو الجھن دور ہوگئی باقاعدہ ایمان لے آئے چونکہ یہ قریش کے معزز بہادر اور خوددار انسان تھے لہذا انکے ایمان لانے کے بعد قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف پہنچانے کا سلسلہ بند کر دیاا ب انکا تمام ظلم و ستم کمزور مسلمانوں پر ہونے لگا

جو لوگ مسلمان ھوتے کفار انکے پیچھے پڑ جاتے انکو قید کرتے بھوکا پیاسا رکھتے تشدد کرتے تپتی ریت اور انگاروں پر لوٹاتے اسکا یہ حال کرتے کہ سیدھا بیٹھنے کے بھی قابل نہ رھتا اس ظلم و زیادتی پر سب سے زیادہ ابو جہل اکساتا۔ ایسے چند حضرات کے واقعات پیش کئے جائیں گے

لیکن ان تمام مظالم کے باوجودیہ حضرات دین پر ڈٹے رھے کیونکہ انھوں نے دین خود حاصل کیا تھا مظالم برداشت کئے تھے لیکن ھمیں اسلام محنت سے نہیں ملا بلکہ ھم اس لئے مسلمان ھیں کہ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ھوئے یہ بھی اللہ کی مہربانی ھے ورنہ آج مسلمانوں کے ایمان کی جو حالت ھے وہ کس سے مخفی ھے آج اسلام مظلوم ھے اور اس پر سب سے زیادہ ظلم خود مسلمانوں نے ڈھایا ھے کہ دھکے پر دھکا دے رھے ھیں مال مفت دل بے رحم کے مصداق مسلمان خوب برا سلوک کر رھے ھیں

اسلام کے نفاذ کا ایک آسان طریقہ

ھر شخص صرف اپنے پانچ چھ فٹ کے جسم پر اسلام کے احکامات نافذ کر دے اور اسکے بعد اپنے قریبی حضرات کو محبت و اخلاص کے ساتھ دین کی اھمیت بتائیں

حضرت بلال رضی اللہ عنہ

حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو رسی سے باندھکر تمام دن بھوکا پیاسا رکھاجاتا،جب دوپہر کٖے وقت سورج  آگ برسانے لگتا تو انہیں تپتی ریت پر لٹا کروزنی پتھرانکے سینے پر رکھاجاتا، اس وقت ریت اس قدر گرم ہوتی تھی کہ اگر اس پر گوشت کا ٹکرا رکھ دیا جاتا تو وہ بھی بھن جاتا تھا۔پھر ان سے کہاجاتا

اب یا تو محمدﷺکی رسالت اور پیغمبری سے انکار کر اور لات و عزی کی عبادت کر ورنہ میں تجھے اسی طرح لٹاے رکھوں گا۔یہاں تک کہ تیرا دم نکل جاے  گا

حضرت بلال رضی اللہ عنہ جواب میں فرماتے

احد۔۔۔احد

یعنی اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو انکا احد احد سن کر فرمایا

اے بلال تمھیں یہ احد احد ہی نجات دلائے گا

ایک دن حضرت ابوبکر نے بلال کے آقا سے ظلم ختم کرنے کی بات کی وہ بولا

تم خرید لو

چناچہ حضرت ابوبکر نے ایک نہایت اعلی اور قیمتی غلام اور ساتھ کچھ سونا دے کر انکو خرید لیا اور آزاد کردیا حضرت ابوبکر نے بہت سے ایسے مسلمان غلاموں کوخرید کر آزاد کردیاجن پر ظلم ہوتا تھا اللہ تعالی نے اس بات کی قرآن میں تعریف کی کہ ابوبکر اس اچھائی کا بدلہ صرف اللہ سے چاھتا ھے یعنی اللہ نے انکے اخلاص کی گواھی دی ملاحظہ ہو سورۃ اللیل پارہ ۳۰ آیت ۲۰۔۲۱

حضرت خباب بن ارت

ایمان لانے والے جن حضرات پر ظلم ڈھائے گئے ان میں سے ایک حضرت خباب بن ارت تھے انکی مالکہ ان کو سخت سزا دیتی لوھے کا کڑا لے کر آگ میں خوب گرم کرتی کہ سرخ ہوجاتا پھر اسکو خباب کے سر پر رکھتی۔ حضرت خباب نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مصیبت کا ذکر کیا تو انھوں نے دعا فرمائی چناچہ اس عورت کے سر میں شدیددرد شروع ہوگیادرد کی شدت سے کتوں کی طرح بھونکتی کسی نے یہ علاج بتایا کہ لوھا تپا کر سر پر رکھوائے اس نے یہ کام حضرت خباب کے ذمہ لگایا چناچہ اب آپ خوب گرم کرکے لوھا اسکے سر پر رکھتے

ایک بار مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا

اے محمد اگر تم سچے ھو تو چاند کے دوٹکڑے کر کے دکھائو  اس طرح کہ ایک ٹکڑا ابوقبیس پہاڑ پر نظر آئے اور دوسرا قعیقعان پہاڑ پر نظر آئے(یعنی دونوں ٹکڑے کافی فاصلہ پر ہوں

اس دن چاند کی چودھویں تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اگر میں ایسا کر دکھائوں تو کیا تم لوگ ایمان لے آئو گے

مشرکین

ھاں ھم ایمان لے آئیں گے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا فرمائی فورا چاند دو ٹکڑے ھوگیا اسکا ایک حصہ ابو قبیس پہاڑ پر نظر آیا اور دوسرا قعیقعان پہاڑ پر ۔ مگر وہ ایمان لانے کی بجائے بولے

محمد نے ھماری آنکھوں پر جادو کردیا ھے مگر اسکا اثر پوری دنیا پر نھیں ھو سکتا لہذا ھم دوسرے علاقہ کے لوگوں سے پوچھیں گے

چناچہ جب دوسرے علاقہ کے لوگوں سے پوچھا گیا تو انھوں نے بھی کہا کہ ھم نے چاند دو ٹکڑے ھوتے دیکھا ھے مختلف قوموں کی تاریخ سے بھی یہ بات ثابت ھے کہ چاند کا دو ٹکڑے ھونے کا مشاھدہ دوسرے ملکوں میں بھی نظر آیا  مگر مشرکین ایمان نہ لائے اور اسے جادہ پر محمول کیا

مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے کہ آپ ھمارے جیسے انسان ھیں ھماری طرح کھاتے پیتے چلتے ھیں پھر بھی اپنے آپ کو نبی کہتے ھیں نبی تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیئے یا آپکے ساتھ کوئی فرشتہ اترتا جو آپکی نبوت کی گواھی دیتا اسکے جواب میں اللہ تعالی نے مختلف مواقع پر بہت سی آیات نازل فرمائیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انسان ھیں اگر زمین میں فرشتے رھتے ھوتے تو اللہ کسی فرشتے کو نبی بنا کر بھیجتا چونکہ زمین پر انسان رھتے ھیں اس لئے انہی انسانوں میں سے ایک کو نبی بنایا اگر کوئی فرشتہ نبی بنا کر بھیجا جاتا تو مشرکین کہتے کہ یہ تو فرشتہ ھے اسکو وہ طبعی عوارض لاحق نہیں جو انسانوں کو ھوتے ھیں لہذا یہ عمل کر سکتا ھے اور ھم نھیں کر سکتے اگر اسکو بھی ھماری طرح کے مسائل ھوتے تو ھم دیکھتے کہ کیسے عمل کرتا ھے اس لئے اللہ نے انسان کو نبی بنایا تاکہ وہ انہی کی طرح مسائل ھونے کے باوجود عمل کرکے دکھائے اور ھر مسئلہ میں اللہ کے حکم کا تعین کرے کہ کس مسئلہ میں کیسے عمل کرنا ھے (ملاحظہ ھو سورۃ فرقان آیت۷، سورۃ کہف آخری آیت، سورۃ یونس آیت۲ وغیرہ

مکہ کے مشرکین نے اپنے آدمی دو یہودی عالموں کے پاس مدینہ بھیجے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں انھیں بتائیں انھوں نے تمام حالات معلوم کرکے کہا کہ

ھم تمھیں تین سوال بتاتے ھیں اگر انھوں نے جواب دے دیا تو وہ بنی ھیں ورنہ نھیں  (۱) اصحاب کہف کا قصہ (۲) ذوالقرنین کا قصہ  (۳) روح کیا ھے

جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ

کل بتائوں گا مگر انشا اللہ نہ کہا

آپکا خیال تھا کہ وحی آئے گی مگر نہ آئی لوگوں نے طعنے دینے شروع کئے کہ

آپکے رب نے آپکو چھوڑ دیا ھے

آخر وحی آئی آپکو تنبیہہ کی گئی کہ آپ اانشا اللہ کہا کریں وحی میں دیر انشا اللہ نہ کہنے کی وجہ سے ھوئی ساتھ ھی سورۃ کہف نازل ھوئی جس میں تینوں سوالوں کا جواب تھا