ھجرت حبشہ

جب مسلمانوں پر مشرکین کے ظلم و ستم بہت بڑھ گئے تو بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے مسلمانوں کو حبشہ ھجرت کی اجازت دی یہ سن ۵ نبوی کا واقعہ ھے کفار کو جب ھجرت کا پتہ چلا تو وہ تعاقب میں دوڑے لیکن اس وقت تک یہ حضرات بحری جہاز پر سوار ھوچکے تھے اس طرح یہ لوگ حبشہ پہنچنے میں کامیاب ھوئے

جن مسلمانوں نے حبشہ ھجرت کی تھی کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ غلط خبر سنی کہ تمام قریش مکہ مسلمان ھوگئے ھیں اس اطلاع کے بعد بہت سے مھاجرین مکہ واپس آگئے لیکن قریب آکر معلوم ھوا کہ اطلاع غلط تھی اب انھوں نے واپس جانا مناسب نہ سمجھا اور کسی نہ کسی کی پناہ لے کر مکہ میں داخل ھوگئے جن مسلمانوں نے پناہ دی قریش ان پر بہت ظلم کرنے لگے لہذا ان مسلمانوں کو گوارا نہ ھوا کہ ھم تو پناہ میں محفوظ رھیں اور ھمارے بھائی ظلم سہیں لہذا انھوں نے پناہ لوٹا دی اور ظلم کا سامنا کرنے لگے

عمر بن خطاب کا قبول اسلام

مسلمانوں پرسختیاں دیکھ کرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا مانگی کہ

اے اللہ ! عمرو بن حشام(ابوجہل)  یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعہ اسلام کو عزت عطا فرما

ایک روایت میں ھے کہ یوں فرمایا

ان دونوں میں سے جو تجھے محبوب ھو اسکے ذریعہ اسلام کو عزت عطا فرما

یہ دعا بدھ کے دن مانگی اور جمعرات کو اسکا نتیجہ نکل آیا

حضرت عمر اسوقت تک مسلمان نھیں ھوئے تھے ایک دن تلوار لے کر نکلے کہ محمدﷺ کا خاتمہ کرنے جا رھا ہوں کسی نے کہا اپنے گھر کی تو خبر لو تمہاری بہن وبہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں یہ سن کر بہن کے گھر گئے حضرت خباب بن ارت انھیں قرآن پڑھا رھے تھے انکے آنے پر چھپ گئے حضرت عمر نے بہن و بہنوئی کو خوب مارا بہن نے کہا

تم جو کر سکتے ہو کرلو میں مسلمان ھوچکی ھوں

حضرت عمر

یہ تم کیا پڑھ رھی تھیں

بہن

تم ناپاک ھو ھم تمھیں نہیں دکھا سکتے

چناچہ حضرت عمر نے غسل کیا جیسے ھی بسم اللہ پڑھی ھیبت چھا گئی آگے سورۃ طہ تھی چناچہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جائوچناچہ وھاں گئے اور اسلام قبول کر لیا

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت عمر قریش کے پاس گئے اور ایمان لانے کا اعلان کر دیا ایک شخص آپ پر جھپٹا مگر آپ نے اسے اٹھا کر زمین پر پٹخ دیا پھر کسی کو جرات نہ ھوئی آپ نے اعلان فرمایا کہ آج کے بعد مسلمان چھپ کر اللہ کی عبادت نہ کریں گے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ نکلے آگے آگے حضرت عمر تلوار ھاتھ میں لئے کلمہ پڑھتے جارھے تھے حرم میں جاکر مسلمانوں نے طواف کیا ،کعبہ کے گرد نماز پڑھی بلند آواز سے تلاوت کی اس سے پہلے مسلمان ایسا نہ کر سکتے تھے کفار میں سے کسی کو روکنے کی جرات نہ ھوئی

مسلمانوں کا بائیکاٹ

جب قریش نے دیکھا کہ انکے تمام مظالم کے باوجود اسلام پھیلتا ھی جا رھا ھے اور مسلمان طاقت پکڑ رھے ھیں تو انھوں نے مل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور آپکے خاندان والوں کو کہا کہ ھمیں قتل کی اجازت دے دو بدلہ میں دوگنا خون بہا لے لولیکن آپکے خاندان والوں نے اس تجویز کو ماننے سے انکار کر دیا

قریش نے غصہ میں آکر تمام بنو ھاشم اور بنو عبدالمطلب کا بائیکاٹ کر دیا ان سے خرید و فروخت بند کردی شادی  بیاہ بند کر دیا صلح نہ کرنے کا عہد کیا اور اس بائیکاٹ کو اس وقت تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جب تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکے حوالہ نہ کر دیا جاتا اس معاھدہ کی باقاعدہ تحریر لکھی گئی اور اسے کعبہ میں لٹکا دیا گیا

بنوھاشم اور بنو عبد المطلب شعب ابی طالب نامی گھاٹی میں چلے گئے اسوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر ۴۶ سال تھی وھاں مسلمانوں نے بہت تنگی کا زمانہ گزارا کھانے پینے کی کوئی  چیز نہ ملتی لوگ بھُوک سے بیحال رھتے گھاس اور پتے کھا کر گزارا کرتے بچے بھوک سے تڑپتے بلکتے اگر مکہ سے باھر کوئی  قافلہ آتا تو مسلمان  وھاں پہنچتے تاکہ کچھ خرید لیں مگر قریش قافلہ والوں کو سختی سے منع کردیتے۔

نجاشی کے دربار میں

اس بائیکاٹ کے دوران بہت سے مسلمان حبشہ ھجرت کرگئے  یہ حبشہ کی طرف دوسری ھجرت تھی انکو حبشہ میں بہترین پناہ مل گئی  اس سے قریش کو بہت تکلیف ھوئی  انھوں نے اپنا وفد بھیجا تاکہ بادشاہ سے مل کر اسکو مسلمانوں نے خلاف بھڑکائیں بادشاہ اور درباریوں و پادریوں کو بیش قیمت تحائف بھیجے تاکہ وہ انکا ساتھ دیں چناچہ انکے کہنے پر بادشاہ نے مسلمانوں کو طلب کرلیا

نجاشی کے دربار میں مسلمانوں نے دین اسلام کے بارے میں سچ سچ بتا دیا نجاشی اسلام کی تعلیمات سے متا ثر ھوا اور مسلمانوں کو قریش کے حوالہ کرنے سے انکار کردیا چناچہ قریش کا وفد ناکام لوٹ آیا  بعد میں نجاشی نے اسلام قبول کر لیا

مکہ میں مسلمان شعب ابی طالب نامی گھاٹی میں تین سال تک سخت تنگی کی حالت میں رھے انکے حالات دیکھ کر کچھ نرم دل قریشی لوگ بھی غمگین ھوتے ایسے لوگ کچھ کھانا پینا کسی نہ کسی طرح ان لوگوں تک پہنچادیا کرتے ایسے میں اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ قریش کے لکھے ھوئے معاھدہ کو دیمک نے چاٹ لیا ھے معاھدے پر سوائے اللہ کے نام کے کچھ نھیں بچاچناچہ ابوطالب نے قریش کو یہ بات پہنچائی  قرش نے دیکھا تو ایسا ھی پایا انھوں نے مسلمانوں کو گھر آنے کی اجازت دی اسطرح تین سال بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے ساتھی اپنے گھروں کو لوٹے

ابوطالب کی وفات

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی خواھش تھی کہ انکے چچا ابوطالب ایمان لے آئیں مگر انھوں نے اسلام قبول نہ کیا  نبوت کے نویں یا دسویں سال  ابوطالب  بیمار ھوئے موت کا وقت قریب آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چچا!آپ لا الہ الا اللہ پڑھ لیجیئے تاکہ میں قیامت کے دن آپکی  شفاعت کر سکوں،ابوطالب نے کہا

بھتیجے اگر مجھے یہ ڈر نہ ھوتا کہ لوگ میرے مرنے کے بعد خاندان والوں کو شرم دلائیں گے اور کہیں گے کہ ابوطالب نے موت کے ڈر سے کلمہ پڑھ لیا تو میں ضرور یہ کلمہ پڑھ کر تمھارا دل ٹھنڈا کر دیتا میں جانتا ھوں کہ تم سچے ہو ۔۔۔۔۔مگر میں اپنے بزرگوں کے دین پر مرتا ھوں،

بعض علما فرماتے ھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی سے ابوطالب کی ھدایت اور ایمان پر موت کیلئے خصوصی دعا کی اس پر سورۃ قصص کی آیت ۵۶ نازل ھوئی: مفھوم

اے نبی! آپ جسے چاھیں ھدایت نھیں دے سکتے بلکہ جسے اللہ چاھے ھدایت دیتا ھے اور ھدایت پانے والوں کا علم بھی اسی کو ھے

اس آیت میں اللہ تعالی نے واضح طور پر بتا دیا کہ اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ھاتھ میں اختیارات نھیں دیے اس سے بہت سے اعتراضات دور ھوگئے مثلا اگر یہ کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکمل اختیارات ھیں تو اس سے یہ خرابی لازم آئے گی کہ جو جو کافر ایمان نھیں لائے تھے تو اس میں حضور کا ھاتھ تھا آپ خود ھی نہ چاھتے تھے کہ انکو ایمان ملے حالانکہ یہ بات غلط ھے  اسی طرح جہاں جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم ھوئے یا انکو شھید کیا گیا تو وھاں حضور پر الزام آتا لیکن اس آیت میں اور اس مفھوم کی دوسری آیات میں اللہ تعالی نے واضح فرمادیا کہ نبی کا کام صرف تبلیغ کرنا ھے آگے ھدایت دینا یا نہ دینا اس میں نبی کو اختیار نھیں بلکہ یہ اللہ کی حکمت ھے کہ جسکو چاھے ھدایت دے جسکو چاھے نہ دے