سفر طائف

شوال ۱۰نبوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غلام زید بن حارثہ کے ساتھ طائف تشریف لے گئے آپ قبیلہ بنو ثقیف کے سرداروں کے پاس گئے اور انھیں اسلام کی دعوت دی یہ تین بھائی تھے ایک بولا

کیا وہ تم ھی ھو جسے خدا نے بھیجا ھے؟

دوسرا بولا

تمھارے علاوہ خدا کو رسول بنانے کو اور کوئی نہ ملا تھا؟

تیسرا بولا

میں تم سے بات نہ کروں گا اگر تم واقعی اللہ کے رسول ھو تو تمھارے ساتھ بحث کرنا بہت خطرناک ھے اور اگر تم نبی نھیں تو تم جیسے آدمی کے ساتھ بات کرنا زیبا نھیں دیتا

نبی ان سے مایوس ھوکر اٹھ کھڑے ھوئے ان تینوں نے اپنے غلاموں اور اوباش لوگوں کو آپکے پیچھے لگا دیادوسرے لوگ بھی جمع ھوگئے وہ ھنسنے مذاق اڑانے اورآپکو پتھر مارنے لگے آپ لہو لہان ھوگئے زید بھی زخمی تھے آخر آپ بستی سے نکل کر ایک باغ میں داخل ھوگئے تب ان بدبختوں سے نجات ملی آپ ایک درخت کے سایہ تلے بیٹھ گئے باغ کے مالکوں کو آپ کی حالت پر افسوس ھوا انھوں نے اپنے غلام کے ھاتھ آپکو انگور بھجوائے

باغ سے نکل کر آپ آگے پہنچے کہ جبرائیل علیہ السلام پہاڑوں کے نگران فرشتہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوئے اور عرض کیا کہ

اللہ تعالی نے بھیجا ھے تاکہ آپ بنو ثقیف والوں کے بارے میں جو حکم چاھیں دیں

پہاڑوں کا نگران فرشتہ بولا

اگر آپ حکم فرمائیں تو ان پہاڑوں کے درمیان اس قوم کو کچل دوں یا انھیں زمین میں دھنسا کر اوپر سے پہاڑ گرا دوں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

نھیں (ایسا نہ کرو) مجھے امید ھے کہ اللہ انکی اولاد میں ضرور ایسے لوگ پیداکردے گا جو اسلام قبول کر لیں گے

فرشتہ بولا

آپ اپنے نام (رئوف و رحیم)کی طرح حقیقت میں بہت معاف کرنے والے اور رحم کھانے والے ھیں

ابوطالب کی وفات کےکچھ ھی عرصہ بعد،ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھاوفات پاگئیں یہ دوحضرات ھراچھےبرےوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاساتھ دینےوالےتھےنکی وفات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوکافی دھچکالگاآپ غمگین رھنےلگےنیزقریش بھی کھلم کھلامخالفت کرنےلگے