معراج کا واقعہ

طائف کے سفر کے بعد معراج کا واقعہ پیش آیا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ کا خاص انعام اور نبوت کا بہت بڑا معجزہ ھے ۔یہ بات اچھی طرح جان لینی چاھیئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جاگنے کی حالت میں جسم اور روح دونوں کے ساتھ ھوئی یہی اھلسنت والجماعت کا عقیدہ ھے

بعض گمراہ لوگ معراج کے واقعہ کو ایک خواب کہتے ھیں بعض کہتے ھیں کہ صرف روح گئی تھی جسم نہ گیا تھا یہ بات اچھی طرح جان لینی چاھیئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج جاگنے کی حالت میں جسم اور روح دونوں کے ساتھ ھوئی۔ اگر یہ خواب ھوتا تو نبی کی کیا خصوصیت، خواب میں تو عام آدمی بھی بہت کچھ دیکھ لیتا ھے  معراج کی اصل خصوصیت ھی یہ ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  جسم سمیت آسمانوں پر تشریف لے گئے تھے۔ لہذا گمراہ لوگوں کے بہکاوے میں مت آئیں۔ اگر یہ صرف خواب ھوتا یا صرف روح کو معراج ھوتی تو مشرکین اسکا مذاق نہ اڑاتے بھلا خواب کے واقعہ پر کوئی مذاق کیوں اڑاتا۔ یہ خواب نہ تھا بلکہ اللہ کے حکم سے حقیقت میں نبی اپنے جسم وروح کے ساتھ آسمانوں پر تشریف لے گئے تھے

معراج کے بارے میں اس مسئلہ میں بھی اختلاف پایا جاتا ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کو دیکھا یا نھیں۔ اس بارے میں دونوں طرح کی احادیث موجود ھیں  لہذا جھگڑا نہ کرنا چاھیئے اور خاموش رھنا چاھیئے کیونکہ اس بارے میں قیامت کے دن سوال نہ ھوگا۔البتہ ھمارا عقیدہ یہ ھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کا دیدار فرمایا تھا

معراج کے واقعہ کی تفصیل

نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ام ھانی کے گھر رات کے وقت آرام فرما رھے تھے کہ اللہ نے جبرائیل و میکائیل علیہماالسلام کو آپ کے پاس بھیجا وہ آپ کو مسجد حرام لے گئے پھر وھاں سے براق پر سوار کروا کر مسجد اقصی لے گئے۔۔۔۔

مسجد اقصی میں تمام انبیاء نے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم   کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ پھر آپکو ساتوں آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔ جلیل القدر انبیا سے ملاقات کروائی گئی، جنت و دوزخ دکھلائی گئی۔ معراج کے سفر کے دوران آپکو آخرت کی مثالی شکل کے ذریعہ مجاھدین کے حالات دکھائے گئے  جبرائیل نے بتایا کہ اللہ نے مجاھدین کی ھر نیکی کا ثواب سات سو گنا کر دیا ھے

معراج کے سفر کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خیانت کرنے والے، فرض نمازوں کو چھوڑنے والے، زکوۃ ادا نہ کرنیوالے ، بدکاری کرنے والے، ڈاکہ ڈالنے والیوغیرہ لوگوں کے بھیانک انجام دکھائے گئے۔مثلا فرض نماز چھوڑنے والوں کے سروں کو کچلا جارھا تھا انکے سر ریزہ ریزہ ھوجاتے پھر ٹھیک ھوجاتے پھر مارا جاتا اسی طرح کچلنے کا عمل جاری رھتا

سدرۃ المنتہی جو ساتوں آسمانوں سے اوپر ھے  وھاں پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو انکی اس اصل شکل میں دیکھا جس شکل میں اللہ نے انھیں بنایا تھا انکے چھ سو پر ھیں ہر پر اتنا بڑا ھے کہ اس سے آسمان کا کنارہ چھپ جائے ان پروں سے رنگا رنگ موتی اور یاقوت اتنی زیادہ تعداد میں گر رھے تھے کہ جسکا شمار اللہ ھی کو معلوم ھے

سدرۃ المنتہی  پہنچنے کے بعد جبرائیل نے کہا کہ میری پہنچ کا مقام یہاں ختم ھوگیا اب آپ آگے تشریف لے جائیں ۔ چناچہ ایک بدلی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگھیرا اور آپ کو اس بدلی کے ذریعہ اوپر اٹھا لیا گیا بعض روایات میں ایک سیڑھی کے ذریعہ اٹھانے کا ذکر بھی آیا ھے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے یہاں تک کہ سونے کے ایک تخت تک پہنچ گئے اس پر جنت کا ریشمی قالین بچھا ھوا تھا آپ نے اللہ کی حمد بیان کی پھر آپکو اللہ کادیدار ھوا آپ فورا سجدہ میں گر گئے  پھر اللہ نے آپ پر وحی اتاری

اے محمد! جب تک آپ جنت میں نہ جائیں گے اسوقت تک نبیوں کیلئے جنت حرام رھے گی، اسی طرح جب تک آپکی امت جنت میں نہ جائے گی اسوقت تک تمام امتوں پر جنت حرام رھے گی۔۔۔

اسکے بعد پچاس نمازیں فرض ھوئیں ۔۔۔ پچاس نمازیں حضرت موسی کے مشورہ سے کم کروائی گئیں  یہاں تک کہ انکی تعداد پانچ رہ گئی تاھم اللہ تعالی نے فرمایا

اے محمد! ھر روز یہ پانچ نمازیں ھیں ان میں سے ھر ایک کا ثواب دس کے برابر ھوگا اور اس طرح ان پانچ نمازوں کا ثواب پچاس نمازوں کے برابر ھی ھوگا ۔ آپکی امت میں سے جو بھی نیکی کا ارادہ کرے اور پھر نہ کر سکے تو اس کے حق میں صرف ارادہ پر ایک نیکی لکھوں گا اور اگر اس نے وہ نیک عمل کر بھی لیا تو اسے دس نیکیوں کے برابر لکھوں گا ۔ اور جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسکو نہ کرے تو بھی اسکے لئے ایک نیکی لکھ دوں گا  اور اگر اس نر وہ برائی کر لی تو اسکے نتیجے میں ایک ھی بدی لکھوں گا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے ھمکلامی کے بعد آسمانوں سے واپس زمین پر تشریف لائے جب اپنے بستر پر پہنچے تو وہ اسی طرح گرم تھا جیسے چھوڑ کر گئے تھے  یعنی معراج کا اتنا عجیب و طویل واقعہ اور سفر صرف ایک لمحہ میں پورا ھوگیا گویا اللہ نے اس دوران کائنات کے وقت کی رفتار کو روک دیا جسکے باعث یہ معجزہ نہایت تھوڑے وقت میں پورا ھوگیا

فرض نمازوں کا طریقہ اور اوقات کا تعین

معراج سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  صبح و شام دو دو رکعت نماز ادا کرتے تھے اور رات میں قیام کرتے تھے آپکو پانچ فرض نمازوں کی کیفیت معلوم نہ تھی  معراج کی رات کے بعد جب صبح ھوئی اور سورج ڈھل گیا تو جبرائیل علیہ الاسلام تشریف لائے انھوں نے امامت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھائی تاکہ آپکو نمازوں کے اوقات اور کیفیت معلوم ھوجائے

جبرائیل علیہ السلام کی آمد پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کوجمع فرمایا۔۔۔چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کی امامت میں نماز ادا کی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے آپکی امامت میں نماز ادا کی یہ ظھر کی نماز تھی یہ پہلی نماز تھی جسکی کیفیت ظاھر کی گئی اسی طرح ھر نما ز کے وقت میں اس نماز کی کیفیت ظاھر کی گئی کہ کس نماز کی کتنی رکعتیں ھیں اور کس میں قرآن آواز سے پڑھنا ھے، کس میں نھیں۔ پہلے دن جبرائیل نے نمازیں انکے اول وقت میں پڑھائیں اور دوسرے دن آخری وقت میں تاکہ معلوم ھوجائے کہ کس نماز کا وقت کہاں سے کہاں تک ھے۔ لہذا اس طرح پانچ نمازیں فرض ھوئیں اور انکا طریقہ بھی آسمان سے نازل ھوا

آج بعض گمراہ لوگ کہتے ھیں کہ نماز کا کوئی طریقہ قرآن سے ثابت نھیں لہذا نماز کسی بھی طریقہ سے پڑھی جا سکتی ھے ھم حدیث کو نھیں صرف قرآن کو مانتے ھیں، بعض منکرین حدیث کہتے ھیں کہ نمازیں صرف تین ھی فرض ھیں۔۔ یاد رکھیں کہ ایسے لوگ سخت گمراہ ھیں ان سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔ یاد رکھیں کہ نماز کا طریقہ بھی آسمان ھی سے نازل ھوا اور ھمیں نمازیں اسی طرح پڑھنی ھونگی جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام پڑھتے رھے۔ قرآن میں بھی پانچ نمازوں کا ذکر ھے اور احادیث میں بھی لہذا کسی مسلمان کیلئے انکار کی گنجائش نھیں

معراج کے واقعہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر جانا ، اس بات کو ثابت کرتا ھے کہ آسمان حقیقت میں موجود ھیں ۔ بعض گمراہ لوگ کہتے ھیں کہ آسمان کا کوئی وجود نھیں بلکہ یہ کائنات کا ایک عظیم خلا ھے  انسانی نگاہ جہاں جاکر رک جاتی ھے وھاں خلا کی مختلف روشنیوں کے پیچھے ایک نیلگوں حد نظر آتی ھے جسکو آسمان کہا جاتا ھے۔لیکن اسلامی تعلیمات نے ھمیں بتایا کہ آسمان موجود ھیں اور اسی ترتیب سے موجود ھیں جو قرآن و حدیث نے بتائی ھے۔ بعض قرآنی آیات میں ساتوں آسمانوں کا ذکر ھے  جن سے معلوم ھوتا ھے کہ آسمان ایک اٹل حقیقت ھیں نہ کہ نظر کا دھوکہ