بیعت عقبہ

حج کے دنوں میں لوگ دور دور سے مکہ آتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملتے اسلام کی دعوت دیتے ان سے فرماتے کہ وہ تبلیغ اسلام میں آپکی حمایت کریں۔ لیکن مشرکین مکہ ان کو ورغلاتے چناچہ ھر طرف سے ناکامی ھوئی ۔ آخر کار اللہ تعالی نے اپنے دین کو پھیلانے، اپنے نبی کا اکرام کرنے اور اپنا وعدہ پورا فرمانے کا ارادہ کرلیا

حج کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختلف قبیلوں سے ملاقات کیلئے نکلے آپ عقبہ کے مقام پر پہنچے  عقبہ ایک گھاٹی کا نام ھے جہاں شیطانوں کو کنکریاں ماری جاتی ھیں  مکہ سے منی کی طرف جائیں تو یہ مقام بائیں ھاتھ پر آتا ھے  اب اس جگہ مسجد ھے وھاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات مدینہ کے قبیلے خزرج کی ایک جماعت سے ھوئی

اوس اور خزرج مدینہ کے دو مشھور قبیلے تھے ۔ یہ دو سگے بھائیوں کی اولاد تھے پھر ان میں دشمنی ھوگئی لڑائیوں نے اس قدر طول کھینچا کہ ایک سو بیس سال تک لڑتے رھے قتل پر قتل کرتے رھے ۔ جب بھی یہودیوں اور مدینہ کے لوگوں میں کوئی جھگڑا ھوتا تو یہودی ان کو تڑی دیتے کہ بہت جلد ایک نبی ظاھر ھونے والا ھے ھم اسکی پیروی کریں گے اور اسکے جھنڈے تلے تمھارا قتل عام کرکے تمھیں نیست و نابود کردیں گے۔ یہودیوں کی ان باتوں کی وجہ سے مدینہ کے لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظھور کا علم تھا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کے مقام پر ضزرج قبیلہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی انھوں نے کہا کہ ھمیں آپ کے بارے میں معلوم ھے  یہودی ھمیں ایک نبی کی خبر دیتے ھیں اور ھمیں اس سے ڈراتے ھیں ، آپ ضرور وھی ھیں  کہیں ایسا نہ ھو کہ وہ ھم سے پہلے آپکی پیروی اختیار کرلیں ۔۔ چناچہ انھوں نے فورا آپکی بات مان لی اور اسلام قبول کر لیا

اگلے سال قبیلہ خزرج اور اوس کے چند لوگ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور آپکی بیعت کی جب وہ واپس جانے لگے تو آپ نے حضرت عبداللہ بن مکتوم اور مصعب بن عمیر کو انکے ساتھ بھیجا تاکہ وہ نئے مسلمانوں کو دین سکھائیں ان حضرات کی کوششوں سے مدینہ میں اسلام، تیزی سے پھیلنے لگا

حج کے دنوں میں حضرت مصعب بن عمیر واپس مکہ پہنچے مدینہ منورہ میں اسلام کی کامیابیوں کی خبر سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ھوئے مدینہ میں جو لوگ اسلام لا چکے تھے اور حج کرنے آئے تھے انھوں نے رات کے وقت منی میں آپ سے ملاقات کی یہ ۷۳مرد اور ۲ عورتیں تھیں  اس بیعت کو بیعت عقبہ ثانیہ کہا جاتا ھے یہ بہت اھم تھی اس بیعت کے ھونے پر شیطان نے بہت وادیلا کیا چیخا چلایا کیونکہ یہ اسلام کی ترقی کی بنیاد تھی