ھجرت مدینہ

جب یہ مسلمان مدینہ پہنچے تو انھوں نے کھل کر اپنے اسلام کا اعلان کیا اور اعلانیہ نمازیں پڑھنے لگے۔ جب قریش نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنگجو قوم کے ساتھ ناطہ جوڑ لیا ھے تو وہ مسلمانوں کو بہت سخت اور عجیب وغریب تکالیف دینے لگے اور مسلمانوں کا جینا مشکل کر دیا چناچہ مسلمانوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے التجا کی آپ چند دن خاموش رھے پھر اللہ تعالی کے حکم سے مسلمانوں کو مدینہ ھجرت کی اجازت دے دی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بعد صحابہ کرام ایک ایک دو دو کرکے چھپ چھپا کرمدینہ جانے لگے مکہ سے مدینہ آمد شروع ھوئی انصاری مسلمان انھیں اپنے گھروں میں ٹھراتے  اور انکی ضروریات کا خیال رکھتے حضرت ابوبکر بھی ھجرت کی تیاری کررھے تھے  انکی خواھش تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ھجرت کریں  ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

ابوبکر! جلدی نہ کرو مجھے بھی اجازت ملنے والی ھے

چناچہ حضرت ابوبکر رک گئے اور انتطار کرنے لگے انھوں نے ھجرت کی غرض سے آٹھ سو درھم میں دو اونٹنیاں خرید رکھی تھیں اور چار ماہ سے انکو کھلا پلا رھے تھے

جب قریش نے دیکھا کہ مسلمان مدینہ ھجرت  کرتے جارھے ھیں اور مدینہ کے لوگ بڑے جنگجو ھیں وھاں مسلمان روز بروز طاقت پکڑتے چلے جائیں گے تو انھیں خوف محسوس ھوا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اگر مدینہ تشریف لے گئے تو وھاں انصار کے ساتھ مل کر ھمارے خلاف جنگ کی تیاری نہ کرنے لگیں چناچہ سب مشورہ کیلئے جمع ھوئے مشورہ میں شیطان بھی انسانی شکل میں شریک ھوا  بحث کے بعد ابوجہل کی تجویز منظور ھوئی کہ ھر خاندان اور قبیلہ میں سے ایک ایک طاقتور جوان مسلح ھوکر اکٹھے جائیںاور اکٹھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرکے انھیں قتل کردیں اس طرح محمد کلے خاندان والوں میں اتنی طاقت نہ ھوگی کہ سب سے جنگ کریں لہذا خون بھا پر معاملہ طے ھوجائے گا شیطان نے بھی اس تجویز کو پسند کیا

جب قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو نعوذباللہ قتل کرنے کا منصوبہ بنایاتو اللہ تعالی نے فورا ھی جبرائیل علیہ السلام کو آپ کے پاس بھیج دیا کہ جس بستر پر آپ روزانہ سوتے ھیں آج اس پر نہ سوئیں ساتھ ھی آپ کو مشرکین کی سازش کی خبر دی  یہ بات سورۃ الانفال کی آیت ۳۰ میں آتی ھے ۔ غرض جب رات ایک تہائی گزر گئی تو مشرکین کا ٹولہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر تک پہنچ کر چھپ گیا انکی تعداد ایک سو تھی  وہ انتظار کرنے لگے کہ آپ سوئیں تو سب مل کر حملہ کردیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت علی کواپنےبسترپر سلایااورتسلی دی کہ کوئی نقصان نہ ھوگاپھرآپ نےایک مٹھی مٹی لیکرسوریسین آیت1تا9پڑھ کرمشرکین پرپھینکی جسکی خاک سب کےسروںپرپڑی اللہ تعالی نےسب کووقتی طورپراندھاکردیا اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سب کےسامنےسے گزرتےھوئےتشریف لے گئے

جب قریش کو پتہ چلا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سروں پر خاک ڈال کر تشریف لے جا چکے ھیں تو سب گھر میں داخل ھوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر حضرت علی چادر اوڑھے سو رھے تھے وہ سمجھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو رھے ھیں لیکن جب چادر الٹی تو حضرت علی تھے انھوں نے حضرت علی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا مگر وہ خاموش رھے تو وہ حضرت علی کو مارتے ھوئے مسجد حرام تک لے آئے  کچھ دیر انھیں روکے رکھا پھر چھوڑ دیا

اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ھجرت  کے سفر پر روانہ ھونا تھا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ حضرت ابوبکر آپکے ساتھ ھونگے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کے گھر آئے اور حضرت ابوبکر کو بتایا انھوں نے جو دو اونٹنیاں پیلی تھیں ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی اس اونٹنی کا نام قصوی تھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تا حیات رھی اسکی موت حضرت ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں واقع ھوئی

حضرت ابوبکر کے گھر والوں نے جلدی جلدی سامان تیار کیا  پھر رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم  روانہ ھوئے اور ثور نامی پہاڑ تک پہنچے حضرت ابوبکر غار میں داخل ھوئے اور ٹٹول ٹٹول کر سوراخوں کو اپنی چادر پھاڑ کربند کرنا شروع کیا تمام سوراخ بند کر دیئے مگر ایک رہ گیا اس پر حضرت ابوبکر نے ایڑی رکھ دی پھر نبی صلی اللی علیہ وسلم غار میں داخل ھوئے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر کی ران پر سر رکھے سو رھے تھے حضرت ابوبکر نے جس سوراخ پر ایڑی رکھی تھی اس میں سانپ تھا سانپ نے ڈنک مارا لیکن حضرت ابوبکر نے منہ سے آواز نہ نکلنے دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند نہ خراب ھوجائے البتہ تکلیف کی شدت سے آنسو نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گر پڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بیدار ھوگئے اور پوچھاکہ کیا ھوا تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا کہ سانپ نے ڈس لیا ھے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دھن سانپ کے کاٹے کی جگہ لگایا اس سے تکلیف اور زھر کا اثر فورا دور ھوگیا

صبح ھوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت ابوبکر کے جسم پر چادر نظر نہ آئی تو دریافت فرمایا کہ چادر کہاں ھے انھوں نے بتایا کہ چادر پھاڑ پھاڑ کر سوراخ بند کر دیئے ھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لئے ھاتھ اٹھا دیئے اور فرمایا

اے اللہ ! ابوبکر کو جنت میں میرا ساتھی بنانا

اسی وقت اللہ تعالی نے وحی کے ذریعہ خبر دی کہ آپکی دعا قبول کرلی گئی ھے

ادھرقریش کےلوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش  میں غارکےقریب آپہنچےاللہ کےحکم سے ایک مکڑی نے پہلےھی غارکےدھانےپر جالا بن دیااورجنگلی کبوترکےجوڑےنے گھونسلہ میں انڈےدیدیئے قریش کےلوگوں نے جالااورانڈے دیکھےتوسوچاکہ غارمیں کوئی نہ ھوگاکیونکہ کوئی اندرجاتاتونہ جالاباقی رھتانہ انڈےھوتے

حضرت ابوبکرنےان لوگوں کوغارکے دھانےپردیکھاتو پریشان ھوئےکہ کہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کونقصان نہ پہنچائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا

ابوبکر!غم نہ کرواللہ ھمارےساتھ ھے

چناچہ اللہ تعالی نےحضرت ابوبکرکےدل کوسکون بخش دیاان حالات میں ابوبکرکوپیاس لگی....

نبی صلی اللہ علیہ نےفرمایا

غارکے درمیان میں جااور پانی پی لواللہ نےتمھارےلئےجنت کاایک چشمہ جاری کردیاھے

ابوبکرنے حیرانی سےپوچھا

کیااللہ کےنزدیک میرااتنامقام ھے؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا

اس سےبھی زیادہ،بلکہ جوتم سےبغض رکھےگا،جنت میں داخل نہ ھوگا

جب قریش مایوس ھوکر واپس آئے تو انھوں نے اعلان کیا کہ جو شخص محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) یا ابوبکر کو گرفتار یا قتل کرے، اسے سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے ۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر تین دن تک غار میں رھے اس دوران حضرت ابوبکر کے بیٹے عبداللہ سارا دن قریش میں رھتے اور رات کو غار میں آکر ساری خبریں بتاتے اسی طرح حضرت ابوبکر کے آزاد کردہ مسلمان غلام  حضرت عامر بن فہیرۃ (جو حضرت ابوبکر کی بکریاں چراتے تھے) بکریاں چرانے کے بہانے  غار میں دودھ پہنچاتے  حضرت ابوبکر کی صاحبزادی حضرت اسماء بھی شام کے وقت ان تک کھانا پہنچاتی تھیں ان تین کے علاوہ کسی کو غار کا پتہ نہ تھا

رضوان اللہ علیھم اجمعین

تین دن رات گزرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو پیغام بھجوایا کہ کسی رھبر کا انتظام کر دیں اور رھبر رات کے وقت غار تک آجائے چناچہ حضرت علی نے فورا  اجرت پر راھبر کا انتظام کر دیا حضرت ابوبکر نے گھر سے تمام رقم بھی منگوالی اور گھر والوں کے لئے کچھ بھی نہ چھوڑا

حضرت حسان بن ثابت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شاعر تھے ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا

حسان! کیا تم نے ابوبکر کے بارے میں بھی کوئی شعر کہا ھے؟

انھوں نے عرض کیا

جی ھاں

پھر دو شعر سنائے جن کا ترجمہ یہ تھا

حضرت ابوبکر جو دو میں سے دوسرے تھے اس بلند و بالا غار(ثور) میں ، جب وہ پہاڑ پر پہنچ گئے تو دشمن نے انکے گرد چکر لگائے ۔ یہ ابوبکر نبی کے عاشق تھے جیسا کہ ایک دنیا جانتی ھے اور عشق رسول میں کوئی انکے برابر نھیں۔

یہ شعر سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا

حسان!تم نے سچ کہاوہ ایسے ھی ھیں اور میرے نزدیک سب سے پیارے ھیں کوئی دوسرا انکی برابری نھیں کر سکتا

حضرت ابودرداء فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابوبکر سے آگے چلتے دیکھا تو فرمایا

اے ابودرداء ! یہ کیا، تم اس شخص سے آگے چلتے ھو جو دنیا و آخرت میں تم سے زیادہ افضل ھے۔ قسم ھے اس ذات کی جسکے قبضہ میں میری جان ھے، انبیاء اور مرسلین کے بعد ابوبکر سے زیادہ افضل آدمی پر نہ کبھی سورج طلوع ھوا اور نہ غروب ھوا

حضرت انس سے روایت ھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

میری امت پر ابوبکر کی محبت واجب (لازم )ھے۔

یہ چند احادیث حضرت ابوبکر کی شان میں اس لئے نقل کردیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ھجرت کے ساتھی تھے اور یہ ایک عظیم اعزاز کی بات ھے

غار سے نکل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اونٹوں پر سوار ھوئے راھبر انھیں ساحل کے راستے لے کر جا رھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر کو ھدایت کی کہ راستے میں اگر کوئی میرے بارے میں پوچھے تو گول مول جواب دے کر ٹال دینا لہذا اگر کوئی پوچھتا تو حضرت ابوبکر فرماتے کہ یہ مجھے راستہ دکھانے والے ھیں انکا مطلب یہ تھا کہ دین کا راستہ دکھانے والے ھیں اور پوچھنے والا سمجھتا کہ شاید کوئی راھبر (گائیڈ) ھیں ۔

ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جارھے تھے ادھرقریش نے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا کہ جو شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو زندہ یا مردہ لائے گا اسے سو اونٹ انعام میں دیئے جائیں گے

قریش کے انعام کا اعلان سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی سنا یہ اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے کسی آدمی کی زبانی انہیں معلوم ھوا کہ ساحلی علاقہ کی طرف کچھ لوگ جاتے دیکھے گئے ھیں یہ چپکے سے ادھر گئے تاکہ دوسروں کو معلوم نہ ھو اور سارا انعام انھیں ھی مل جائے  جب انکی گھوڑی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچی تو اسے ٹھوکر لگی اور یہ نیچے گر گئے

نیچے گرنے کے بعد سراقہ نے نے فورا تیروں کے ذریعہ فال نکالی کہ یہ کام کروں یا نہ کروں فال یہ نکلی کہ نہ کرو لیکن انعام کے لالچ میں یہ پھر گئے  قریب پہنچے تو گھوڑی کی اگلی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں حالانکہ زمین سخت پتھریلی تھی انھوں نے پھر فال نکالی اس میں پھر انکار نکلا انھوں نے پکار کر کہا کہ

دعا کردیں کہ میری گھوڑی کی ٹانگیں نکل آئیں میں واپس چلا جائوں گا اور باقی لوگوں کو بھی روکوں گا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو ٹانگیں باھر نکل آئیں انھوں نے دوبارہ آگے آنے کی کوشش کی تو پھر گھوڑی کی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں  انھوں نے پھر درخواست کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا فرمائی پھر ٹانگیں چھوٹ گئیں بعض کتب میں لکھا ھے کہ انھوں نے سات مرتبہ وعدہ خلافی کی  ھر بار ایسا ھی ہوا

آخرسراقہ سمجھ گئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک نھیں پہنچ سکتے  چناچہ انھوں نے کہا

میں اب آپکا پیچھا نہ کروں گا آپ کو میرے سامان میں سے کچھ چاھیئے تو لے لیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لینے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ

تم بس اپنے آپ کو اور دوسروں کو ھم سے روکے رکھو

اس موقعہ پر یہ بھی فرمایا

اے سراقہ اس وقت تمہارا کیا حال ھوگا جو تمھیں کسری(بادشاہ) کے کنگن پہنائے جائیں گے

سراقہ حیران رہ گئے کیونکہ اس پیشین گوئی کے پورا ھونے کا دور دور تک امکان نہ تھا سراقہ طائف کے معرکہ کے بعد ایمان لائے یہ پیشین گوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں پوری ھوئی  جب ایرانیوں کوشکست ھوئی  اور مال غنیمت میں کسری (شاہ ایران) کے کنگن بھی آئے  جو کہ سراقہ کو ملے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی ملنے کے بعد سراقہ واپس پلٹے ۔ راستے میں جو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں آتا ھوا انھیں ملا، یہ اسے یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ میں اسی طرف سے ھوکر آرھا ھوں اس طرف کوئی نھیں ھے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا قافلہ ساری رات چلتا رھا اگلے دن دوپہر کا وقت ھوگیا دور دور تک کوئی آتا جاتا نظر نہ آرھا تھا ایسے میں ایک ابھری ھوئی چٹان نظر آئی جسکا سایہ پھیلا ھوا تھانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وھاں پڑائو کا ارادہ فرمایا حضرت ابوبکر نے جگہ صاف کرکے کپڑا بچھا دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور حضرت ابوبکر پہرہ دینے لگے

آرام فرمانے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قافلہ آگے روانہ ھواکچھ دور گئے تھے کہ ایک خیمہ نظر آیاوھاں ایک خاتون ام معبد بیٹھی تھیں قریب میں ایک مریل سی بکری تھڑی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے بکری کا دودھ دوھنے کی اجازت مانگی  اس نے کہا

یہ تو مریل ھے اور ابھی دودھ دینے کے قابل بھی نھیں ھوئی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

کیا تم مجھے دودھ دوھنے کی اجازت دو گی

خاتون نے کہا

یہ کس طرح دودھ دے سکتی ھے بہر حال آپکو اجازت ھے اگر دودھ نکال سکتے ھیں تو نکال لیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کی کمر اور تھنوں پر ھاتھ پھیرا اور اللہ تعالی سے برکت کی دعا فرمائی جونہی آپ نے دعا کی بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے اور ان سے دودھ ٹپکنے لگا وہ خاتون حیرت زدہ رہ گئی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن منگوایا اور دودھ نکالا دودھ ام معبد اور اسکے گھر والوں نے پیا آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا سب کے دودھ پینے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دودھ نکال کر ام معبد کو دیا پھر آگے روانہ ھوگئے بعد میں ام معبد اور انکے شوھر ھجرت کرکے مدینہ آگئے اور اسلام قبول کرلیا