نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد

مدینہ کے مسلمانوں کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ھجرت کی خبر ملی تو بے چین ھوگئے انتظار کرنا مشکل ھوگیا روزانہ صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل کر حرہ کے مقام تک آجاتے جب دوپہر ھوجاتی اور دھوپ میں تیزی آجاتی تو مایوس ھوکر واپس چلے جاتے

ایک دن مدینہ کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں حرہ کے مقام تک آئے جب دھوپ تیز ھوگئی تو واپس جانے لگے ایسے میں ایک یہودی  اونچے ٹیلے پر چڑھا اسے مکہ کی جانب سے کچھ لوگ آتے دکھائی دیئے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واضح طور پر نظر آئے تو یہودی پکار اٹھا

لوگو! جن کا تمھیں انتظار تھا وہ آگئے

یہودی کی آواز سنتے ھی مسلمان واپس دوڑے اور حرہ کے مقام پر پہنچ گئے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور انکے ساتھیوں کو ایک درخت کے سایہ میں آرام کرتے پایا ایک روایت کے مطابق پانچ سو سے کچھ زائد انصاریوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیاوھاں سے آگے چل کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبا تشریف لائے یہ پیر کا دن تھا

قبامیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی جسکا نام مسجد قبا ھے آپ نے فرمایا

جس شخص نے مکمل وضو کیا اور مسجد قبا میں نماز پڑھی اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا

اس مسجد کی فضیلت میں سورۃ توبہ کی ایک آیت بھی نازل ھوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد میں اکر تشریف لاتے رھے

قبا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے انکی آمد کی خبر سن کر مسلمانوں کو ھوئی تو انکی خوشی کی انتہا نہ رھی لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے دونوں طرف کھڑے ھوگئے خواتین چھتوں پر چڑھ گئیں  بچیاں خوشی میں اشعار پڑھنے لگ گئیں

راستے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک جگہ تشریف فرما ھوئے اگرچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر سے دو سال بڑے تھے مگر ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سیاہ تھے جبکہ حضرت ابوبکر پر بڑھاپے کے آثار ظاھر ھونا شروع ھوچکے تھے لوگ حضرت ابوبکر کو رسول اللہ سمجھ کر ان سے ملنے لگ گئے یہ بات حضرت ابوبکر نے محسوس کر لی اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو حضرت ابوبکر نے چادر تان کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا تب لوگوں نے جانا کہ اللہ کے رسول یہ ھیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ سے آگے روانہ ھوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی پر سوار تھے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ چل رھے تھے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں حبشیوں نے نیزہ بازی کے کمالات اور کرتب بھی دکھائے۔ مدینہ کا پہلا نام یثرب تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے مشھور ھوا مدینہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد جمعہ کے دن ھوئی چناچہ اس روز پہلا جمعہ پڑھا گیا اب وہ مسجد جہاں سب سے پہلی جمعہ کی نماز ادا کی گئی اسکا نام مسجد جمعہ ھے یہ نماز مدینہ کے محلہ بنی سالم  میں ھوئی  اس پہلے جمعہ میں مسلمانوں کی تعداد سو کے قریب تھی

نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ جانے کے لئے اپنی اونٹنی پر سوار ھوئے اور اسکی لگام ڈھیلی چھوڑ دی تاکہ وہ اپنی مرضی سے چلے اونٹنی نے پہلے دائیں بائیں دیکھا جیسے فیصلہ کر رھی ھو کہ کس طرف جانا ھے پھر ایک طرف کو روانہ ھوئی راستے میں بہت سے علاقہ والوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپ ھمارے پاس ٹھہریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے مامور ھے یعنی اللہ کے حکم سے خود چلے گی اسے معلوم ھے کہ اسے کہاں جانا ھے

اونٹنی چلتی چلتی ایک جگہ بیٹھ گئی  یہ جگہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے کے پاس تھی  اونٹنی بیٹھ کر پھر اچانک کھڑی ھوگئی چند قدم چلنے کے بعدٹھہر گئی پھر واپس آئی اور اسی جگہ بیٹھ گئی اپنی گردن زمین پر رکھ دی اور بغیر منہ کھولے منہ سے ایک آواز نکالی  اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتر پڑے  اور فرمایا کہ

انشا اللہ یہی قیام گاہ ھوگی

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے آپکا سامان اپنے گھر لے گئے حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ  نے اونٹنی کی مہار پکڑ لی اور اونٹنی کو لے گئے چناچہ اونٹنی انکی مہمان بنی  نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوایوب انصاری کے گھر تقریبا گیارہ ماہ ٹھہرے یہاں تک کہ مسجد نبوی اور اسکے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حجرہ تیار ھوگیا

مواخات مدینہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب قبا سے مدینہ تشریف لائے تو ساتھ ہی اکثر مہاجرین بھی مدینہ آگئے انصاری صحابہ کا جذبہ قابل دید تھا ہر ایک کی خواہش تھی کہ مہاجرین انکے گھر ٹھہریں  انصار کے ھاں بحث ھوئی آخر قرعہ اندازی پر فیصلہ ھوا اور جو مہاجر جس انصاری کے حصہ میں آئے وہ انہی کے ھاں ٹھہرے انصار نے نہ صرف مہاجرین کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا بلکہ ان پر اپنا مال اور دولت بھی خرچ کیا

پوری انسانی تاریخ میں اس ایثار کی مثال نہیں ملتی۔ انصار نے اپنا مال دولت گھر بار ھر چیز میں سے آدھا حصہ اپنے مہاجر بھائیوں کو دے دیا۔ یہاں تک کہ اگر کسی کی دو بیویاں تھیں تو اس نے اپنے مہاجر بھائی کو کہا کہ ان دونوں میں سے جونسی تمہیں پسند ھے میں اسے طلاق دے دیتا ھوں تم اس سے نکاح کرلو (اس وقت تک پردہ کا حکم نازل نہیں ھوا تھا