User Rating: / 0
PoorBest 

 

یہود سے معاھدہ

اسی زمانہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے قبائل بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نضیر کے ساتھ معاھدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کو تکلیف نہ دیں گے مسلمانوں سے جنگ نہ کریں گے جنگ میں مسلمانوں کی مدد کریں گے اسکے بدلہ میں یہود کی جان مال اور مذھبی  آزادی کی ضمانت دی گئی

مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد حضرت انس بن مالک کے مکان پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کروایا جو مواخات کے نام سے مشہور ھے  اس بھائی چارے کے بعد انصار نے مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا وہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا

انصاری مسلمانوں نے اپنے مہاجر بھائیوں کو ہر چیز میں نصف حصہ دے دیا مال دولت مکان وغیرہ میں ہر چیز میں حصہ دیا یہاں تک کہ ایک انصاری کی دو بیویاں تھیں اس نے پیش کش کی کہ میں ایک کو طلاق دے دیتا ہوں تاکہ عدت پوری ہونے کے بعد مہاجر بھا اس سے نکاح کر لے لیکن مہاجر بھا ئی نے اس بات کو پسند نہ کیا

انصار کا بہترین سلوک فیاضی ھمدردی اور غم گساری دیکھ کر مہاجرین پکار اٹھے کہ ہم نے ان جیسے لوگ نہیں دیکھے محنت و مشقت میں ہمیں الگ رکھتے ہیں اور صلہ ملنے کے وقت برابر کا شریک کر لیتے ہیں ہمیں ڈر ھے کہ آخرت کا سارا ثواب یہ تنہا نہ سمیٹ لیں

آذان کا اجراء

مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد لوگوں کو نماز کے لئے بلانے کا مسئلہ پیش آیا کسی نے کہا کہ بگل بجایا جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےناپسند فرمایا کہ یہود کا طریقہ ھے کسی نے کہا کہ ناقوس بجایا جائے لیکن اسکو پسند نہ فرمایا کہ عیسائیوں کا طریقہ ھے  کسی نے کہا آگ جلائی جائے اسکو اس لئے پسند نہ فرمایا کہ مجوسیوں کا طریقہ ھے آخر یہ طے ھوا کہ نماز کے وقت ایک آدمی گشت کرے اور لوگوں کو اکٹھا کرے چناچہ حضرت بلال کو اعلان کے لئے مقرر کیا گیا(اس سے مسلمانوں کو سمجھنا چاہیئے کہ یہود و نصاری وغیرہ غیر مسلم اقوام کے طور طریقے ہر گز نہیں اپنانے چاہیئیں

ایک دن حضرت عبد اللہ بن زید کو خواب میں ایک شخص نے آذان اور تکبیر کے الفاظ بتائے کہ ان کے ذریعہ لوگوں کو نماز کے لئے اکٹھا کیا کرو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خواب سنا تو فرمایا کہ بلال کو یہ کلمات سکھا دو چناچہ حضرت بلال نے کلمات سیکھے اور سب سے پہلے فجر کی آذان دی