غزوات

مکی زندگی میں مسلمانوں کو حکم تھا کہ کافروں سے مت الجھیں صبر کریں ۔ ھجرت کے بعد پہلے یہ اجازت ملی کہ اگر مشرکین حملہ کریں تو مسلمان ان سے دفاعی جنگ کر سکتے ہیں البتہ چار مہینوں میں لڑائی منع تھی یعنی رجب ذی قعدہ ذی الحجۃ اور محرم۔ کچھ عرصہ بعد عام اجازت ہو گئی کہ کسی بھی مہینہ میں جنگ کر سکتے ہیں اور اگر کافر خود حملہ نہ کریں تو بھی مسلمان ان سے جنگ کر سکتے ہیں

12ربیع الاول ۲ھجری میں پہلی بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کی غرض سے قبیلہ بنی ضمرہ پر حملہ کرنے مدینہ سے روانہ ھوئے صرف ۷۰مہاجرین ساتھ تھے اسکو غزوہ بنی ضمرہ کہتے ہیں مسلمانوں کا جھنڈا سفید تھاجوکہ حضرت حمزہ کے ھاتھ میں دیا گیا بنی ضمرہ کے سردار نے بغیر جنگ کے صلح کر لی

غزوہ بواط

ربیع الثانی ۲ ھجری میں قریش کا ایک تجارتی قافلہ روکنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد بن معاذ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنا کر۲۰۰ مہاجرین کے ساتھ روانہ ھوئے لیکن قافلہ پہلے ہی آگے روانہ ھوچکا تھا لہذا بغیر جنگ کے ھی واپس آگئے

غزوہ عشیرہ: جمادی الاولی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قریشی قافلہ کو روکنے۱۵۰ صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے سفید جھنڈا حضرت حمزہ کے ھاتھ میں تھا لیکن قافلہ پہلے ہی گزر چکا تھا لہذا واپس تشریف لے آئے اس دوران بنی مدلج سے امن و سلامتی کا معاہدہ پیش آیا اسی سفر میں حضرت علی کو ابوتراب کا لقب ملا

غزوہ عشیرہ سے واپسی کے چند دن بعد کرز بن جابر فہری نامی آدمی نے مدینہ کی چراگاہ پر حملہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلماسکی تلاش میں نکلے اور وادی سفوان میں پہنچے یہ وادی میدان بدر کے قریب ہے۔ اسی مناسبت سے اس غزوہ کو غزوہ بدر اولی بھی کہا جا تا ہے  کرز بن جابر مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی جا چکا تھا اس غزوہ میں سفید جھنڈا حضرت علی کے ھاتھ میں تھا مدینہ سے نکلتے وقت حضرت زید بن حارثہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا قائم مقام بنایا

تحویل قبلہ

۲ھجری میں قبلے کا رخ تبدیل ھواپہلے مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے یہودی کہتے کہ محمد ھماری مخالفت بھی کرتے ھیں اور ھمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز بھی پڑھتے ھیں اگر ھم سیدھے راستے پر نہ ھوتے تو تم ھمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز نہ پڑھتے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ قبلہ بیت اللہ ھو جائے اللہ تعالی نے دعا قبول فرمائی ظہر یا عصر کی نماز کے دوران یہ حکم آیا نماز کے دوران ھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے رخ تبدیل کر لیا۔ یہ نماز مسجد قبلتین میں ھو رھی تھی

 

3ھجری میں رمضان کے روزے اور صدقہ فطر کا حکم نازل ھوا

 

غزوہ بدر کے بعد غزوہ قینقاع پیش آیا۔ مسلمانوں نے یھود کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا پندرہ دن میں یھود تنگ آگئے اورانھوں نے درخواست کی کہ اگر ھمیں نکلنے کا راستہ دیا جائے تو ھم ھمیشہ کیلئے یہاں سے چلے جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرما لیا  اور انکو جانے کی مھلت دی مسلمانوں کو بہت سا مال غنیمت ملا

غزوہ قینقاع کے بعد چند چھوٹے چھوٹے غزوات اور ھوئے ۔ کچھ دنوں بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب بنت خزیمۃ سے اور پھر حضرت زینب بنت حجش سے نکاح فرمالیا۔زینب بنت حجش سے نکاح اللہ تعالی نے آسمان پر فرما دیااور اس سلسلہ میں وحی نازل فرما دی

 

غزوہ بنونضیر کے بعد غزوہ ذات الرقاع، غزوہ بدر ثانی اور غزوہ دومتہ الجندل پیش آئے۔ اسکے بعد غزوہ بنی مصطلق پیش آیاقبیلہ  بنو مصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار تھا  اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کے لئے ایک لشکر تیار کیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لشکر کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جنگ کی تیاری کی اسلامی لشکر ۲ شعبان ۵ ھجری کو روانہ ھوا مسلمانوں کے لشکر کی آمد کا سن کر بہت سے کافر بھاگ گئے مسلمانوں نے شدید حملہ کر کے بہت سے کافروں عورتوں اور بچوں کو گرفتار کر لیا

ان قیدیوں میں بنی مصطلق کے سردار کی بیٹی برہ بنت حارث بھی تھیں ، یہ اپنی مرضی سے مسلمان ھوگئیں بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمالیا ان کا نام جویریہ رکھا گیا