غزوہ بدر ۲ ھجری حق و باطل کا پہلا معرکہ

جمادی الاولی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک قریشی قافلہ کو روکنے۱۵۰ صحابہ کے ساتھ تشریف لے گئے سفید جھنڈا حضرت حمزہ کے ھاتھ میں تھا لیکن قافلہ پہلے ہی گزر چکا تھا لہذا واپس تشریف لے آئے اسے غزوہ عشیرہ کہتے ہیں ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی کہ وہ قافلہ شام سے واپس آرہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو آگے بڑھ کر قافلہ کو روکنے کا حکم دیا

اس قافلہ کےسردارابوسفیان تھےجوابھی مسلمان نہ ھوئےتھےانھوں نے جاسوس آگےبھیجے جاسوسوں نے مسلمانوں کےلشکر کی اطلاع دی

حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ نے فورا ایک آدمی مکہ روانہ کیا تاکہ قریش کو مدد کے لئے بلائے وہ شخص بہت تیزی کے ساتھ روانہ ھوا ادھر مکہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت عاتکہ بنت عبدالمطلب نے ایک بہت خوفناک خواب دیکھا

خواب :

ایک آدمی اونٹ پر سوار ھوکر آیا اور پکارا: لوگو !تین دن کے اندر اندر اپنی قتل گاھوں میں چلنے کو تیار ھو جائو لوگ اسکے گرد اکٹھے ھوگئے ۔۔۔ پھر ایک پہاڑ پر چڑھ گیا پھر اس نے پہاڑ سے ایک پتھر لڑھکایاپتھر ٹوٹ گیا اور مکہ کا کوئی گھر ایسا نہ بچا جس میں اس پتھر کے ٹکڑے نہ پہنچے ھوں

یہ خواب چلتے چلتے پورے مکہ میں مشہور ھوگیا اور اس خواب پر زوروشور سے تبصرہ ھونے لگا آخر تین دن بعد وہ آدمی اونٹ پر سوار ھوکر مکہ پہنچا جسے حضرت ابوسفیان نے بھیجا تھا ۔ وہ پکارا

لوگو! اے قریش اپنے تجارتی قافلہ کی خبر لو اس پر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) حملہ کرنے والے ھیں

اس تجارتی قافلہ میں سارے قریشیوں کا مال لگا ھوا تھا لہذا سب جنگ کی تیاریاں کرنے لگے البتہ ابولہب نے تیاری نہ کی کیونکہ وہ خواب سے خوف زدہ ھوگیا تھا وہ کہتا تھا کہ خواب اسی طرح ظاھر ھوگا ۔ ابولہب نے اپنی جگہ مال دے کر عاص بن ھشام کو بھیج دیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے روانہ ھوکر بئر عتبہ نامی کنویں پر پہنچے سب نے پانی پیا صحابہ کو گنا گیا کم عمر بچوں کو واپس بھیج دیا گیا مجاھدین کی تعداد ۳۱۳ تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ھوکر فرمایا کہ یہ وہی تعداد ھے جو (بنی اسرائیل کے ایک نیک مجاھد بادشاہ) طالوت  کے لشکر کی تھی

مسلمانوں کے لشکر میں ۵ گھوڑے اور ۷۰ کے قریب اونٹ تھے ایک ایک اونٹ تین تین، چار چار آدمیوں کے حصہ میں آیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی باری کے حساب سے اونٹ پر سوار ھوتے اور ساتھیوں کی باری پر انھیں سوار ھونے کا حکم دیتے

غزوہ بدر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں ہی ٹھہرنے کا حکم فرمایا کیونکہ ان کی زوجہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا) بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمھیں یہاں ٹھہرنے اور جہاد کرنے دونوں کا اجر ملے گا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے طلحہ بن عبید اور سعید بن زید رضی اللہ عنہما کو جاسوسی کی ذمہ داری سونپی اور انھیں مدینہ سے ھی روانہ فرما دیا تاکہ وہ تجارتی قافلہ کی خبر لائیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ذفران کی وادی میں پہنچے تو آپ کو خبر ملی کہ قریش کا لشکر اپنے تجارتی قافلہ کو بچانے کیلئے مکہ سے کوچ کر چکا ھے

قریش کے لشکر کے کوچ کا سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے لشکر کو مشورہ کیلئے جمع فرمایا کیونکہ مدینہ سے مسلمان صرف ایک تحارتی قافلہ کو روکنے نکلے تھے، کسی باقاعدہ جنگی لشکر سے مقابلہ کیلئے نہ نکلے تھے

مہاجرین و انصار سب نے عرض کیا کہ وہ ہر حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسالم کا حکم مانیں گے اور فرمانبرداری کریں گے ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ پر خوشی کے آثار نظر آنے لگے فرمایاکہ

اب اٹھو کوچ کرو تمہارے لئے خوشخبری ھے اللہ تعالی نے فتح کا وعدہ فرمایا ھے

ذفران کی وادی سے ھوکر نبی صلی اللہ علٖیہ وسلم بدر کے مقام پر پہنچے اس وقت تک قریشی لشکر بھی بدر کے قریب پہنچ چکا تھا حضرت علی کو جاسوسی کیلئے بھیجا گیا وہ کافی خبریں لائے  اس دوران ابو سفیان راستہ بدل چکے تھے لہذا ان کا قافلہ بچ گیا جبکہ اس قافلہ کو بچانے کیلئے آنے والے قریشی لشکر کا سامنا اسلامی لشکر سے ھو گیا

حضرت ابو سفیان نے جب دیکھا کہ قافلہ اب بچ گیا ھے تو انھوں نے ابو جہل کو پیغام بھیجا کہ واپس مکہ کی طرف چلو لیکن ابو جہل نے واپس جانے سے انکار کر دیا

قریشی لشکر نے بدر کے مقام پر اس  مقام پر پڑائو ڈالا جو پانی سے قریب تھی اسلامی لشکر پانی سے دور تھا اللہ تعالی نے بارش برسا دی اس سے مسلمانوں کی پریشانی دور ھوگئی اور کافروں کے پڑائو کی جگہ خراب ھوگئی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خباب کے مشورہ سے دشمن کے پانی کے قریب پڑائو ڈالا وھاں حوض بنا کر پانی جمع کر لیا اور باقی چشمے وگڑھے بھر دیئے اس طرح دشمن کو پانی نہ ملا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے ایک اونچے ٹیلہ پر سائبان بنوا دیا گیاجہاںسے پورے میدان جنگ کا معائنہ کیا جا سکتا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کیلئے حضرت ابوبکر سائبان کے اندر، حضرت علی سائبان کے باھر مع سعد بن معاذ ایک انصاری دستہ کے ساتھ موجود تھے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ شروع ھونے سے پہلے ھی کچھ مشرکوں کا نام لے لے کر فرمایا کہ فلاں اس جگہ قتل ھوگا فلاں اس جگہ قتل ھوگا۔ جن لوگوں کے بارے میں جس جگہ کا فرمایا وہ اسی جگہ قتل ھوئے ایک انچ بھی ادھر ادھر پڑے نہیں پائے گئے

جب  قریشی لشکر ٹھہر گیا تو انھوں نے عمیر بن وھب کو جاسوسی کیلئے بھیجا یہ بعد میں مسلمان ھوگئے تھے ۔ انھوں نے خبر دی کہ مسلمانوں کی تعداد تو ۳۰۰ کے قریب ھے لیکن انکو گھر لوٹنے کی تمنا نھیں لہذا جنگ سے پہلے خوب سوچ لو

عمیر بن وھب کی بات سن کر کچھ لوگوں نے ابوجہل سے کہا کہ جنگ سے باز آجائو اور واپس چلو اسی میں بھلائی ھے لیکن ابوجہل نے ان کی بات نہ مانی اور جنگ پر تل گیا اور جو لوگ واپس چلنے کا کہہ رھے تھے انھیں بزدلی کا طعنہ دیا اس لئے جنگ ٹل نہ سکی

ابھی جنگ شروع نہ ھوئی تھی کہ اسود مخزومی نے قریش کے سامنے  اعلان کیا کہ میں عہد کرتا ھوں کہ یا تو مسلمانوں کے حوض سے پانی پیئوں گا یا اسے توڑ دوں گا یا جان دے دوں گا چناچہ یہ میدان میں نکلا حضرت حمزہ  رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا کام تمام کر دیا

اسکے بعد قریش کے کچھ اور لوگ بھی حوض کی طرف بڑھے انھیں آتا دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

انھیں آنے دو آج کے دن ان میں سے جو بھی حوض سے پانی پی لے گا وہ وہیں کفر کی حالت میں قتل ھوگا

مقابلہ کیلئے سب سے پہلے عتبہ، اسکا بھائی شیبہ اور بیٹا ولید میدان میں نکلے انکی للکار پر ۳ انصاری بھائی معوذ معاذ اور عوف نکلے عتبہ نے کہا

تم ھمارے برابر کے نھیں، مہاجرین میں سے کسی کو بھیجو

اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلا کر انکی جگہ عبیدہ بن الحارث، حمزہ اور علی کو بھیجا

حضرت حمزہ اور حضرت علی نے بالترتیب شیبہ اور ولید کا کام تمام کیا حضرت عبیدہ بوڑھے تھے انکے اور عتبہ کے درمیان تلواروں کے وار شروع ھوگئے یہاں تک کہ دونوں زخمی ھوگئے اتنے میں حضرت حمزہ و علی نے آگے بڑھ کر اسکا کام تمام کردیا اور زخمی عبیدہ کو اٹھا کر لشکر میں لے آئے

زخمی عبیدہ بن حارث کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لٹا دیا گیا انھوں نے سوال کیا

اے اللہ کے رسول کیا میں شہید نہیں ھوں؟

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

میں گواھی دیتا ھوں کہ تم شھید ھو

چناچہ غزوہ بدر سے واپسی پر صفراء کے مقام پر انکا انتقال ھوا وھیں دفن کئے گئے

مسلمانوں میں سے سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غلام مھجع رضی اللہ عنہ آگے بڑھے انھیں عامر بن حضرمی نے تیر مار کر شھید کر دیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سائبان سے نکل کر صحابہ کے درمیان تشریف لائے اور انھیں جنگ پر ابھارنے کے لئے فرمایا

قسم ھے اس ذات کی جسکے قبضہ میں محمد کی جان ھے، جو بھی آج ان مشرکوں کے مقابلہ میں صبر و ھمت سے لڑے گا انکے سامنے سینہ تانے کھڑا رھے گا پیٹھ نھیں پھیرے گا ، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل کرے گا

حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ اس وقت کھجوریں کھا رھے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سن کر بولے

واہ واہ میرے اور جنت کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ھے کہ ان کافروں میں سے کوئی مجھے قتل کر دے

یہ کہہ کر تلوار سونتی اور دشمنوں سے بھڑ گئے اور لڑتے لڑتے شھید ھوگئے

حضرت عوف بن عفراء رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا

اے اللہ کے رسول! بندے کے کس عمل پر اللہ کوھنسی آتی ھے

یعنی اللہ تعالی بہت خوش ھوتے ھیں ۔ فرمایا

جب کوئی مجاھد زرہ بکتر پہنے بغیر دشمن پر حملہ آور ھو۔

یہ سن کر انھوں نے اپنی زرہ اتار پھینکی  تلوار سونت کر دشمن پر ٹوٹ پڑے یہاں تک کہ لڑتے لڑتے شھید ھوگئے

جنگ کے دوران حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کی تلوار لڑتے لڑتے ٹوٹ گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کھجور کی ایک چھڑی عطا فرمائی  چھڑی ان کے ھاتھ میں آتے ھی معجزاتی طور پر ایک چمکدار تلوار بن گئی  حضرت عکاشہ اس سے لڑتے رھے  اس تلوار کا نام عون  رکھا گیا

اسی طرح حضرت سلمہ بن اسلم رضی اللہ عنہ کی تلوار بھی ٹوٹ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کھجور کی جڑ عطا فرمائی اور فرمایا: اس سے لڑو۔ انھوں نے جیسے ھی اس جڑ کو ھاتھ میں لیا تو وہ ایک نہایت بہترین تلوار بن گئی اور اس غزوہ کے بعد بھی انکے پاس رھی

حضرت خبیب بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں کہ ایک کافر نے میرے دادا پر وار کیا اس سے ان کی پسلی الگ ھوگئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دھن لگا کر پسلی واپس اسکی جگہ رکھ دی وہ پسلی اس طرح جم گئی گویا ٹوٹی ھی نھیں

حضرت رفاعہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں کہ ایک تیر میری آنکھ میں لگا آنکھ پھوٹ گئی میں اسی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دھن میری آنکھ میں ڈال دیا آنکھ اسی وقت ٹھیک ھوگئی اور پھر زندگی بھر اس میں کوئی تکلیف نھیں ھوئی

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے ایک دن پہلے ھی ھمیں بتا دیا تھا کہ ان شا اللہ کل فلاں کے قتل کی یہ جگہ ھوگی فلاں اس جگہ قتل ھوگا وغیرہ ۔ جنگ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ مشرکوں کی لاشوں کو اکٹھا کیا جائے

جب صحابہ رضی اللہ عنھم مشرکین کی لاشوں کی تلاش میں نکلے تو لاشیں بالکل اسی جگہ پڑی ملیں جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نشاندھی فرمائی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر تمام لاشوں کو ایک گڑھا میں ڈال دیاگیا

بخاری ومسلم کی روایت میں ھے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی غزوہ میں فتح ھوتی تو اس مقام پر تین رات قیام فرماتے ۔ چناچہ تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کو کوچ کا حکم دیا ۔کوچ سے قبل مشرکوں کی لاشوں والے گڑھے پر صحابہ کے ساتھ کھڑے ھوئے اور فرمایا

(مفھوم ) اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں۔۔۔ تم لوگ نبی کا خاندان ھوتے ھوئے بہت برے ثابت ھوئے تم مجھے جھٹلاتے تھے جبکہ لوگ میری تصدیق کررھے تھے، تم نے مجھے وطن سے نکالا جبکہ دوسروں نے مجھے پناہ دی ، تم نے مجھ سے جنگ کی جبکہ غیروں نے میری مدد کی، کیا تم نے دیکھ لیا کہ اللہ اور اسکے رسول کا وعدہ کتنا سچا تھا

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ سن کر عرض کیا کہ

اے اللہ کے رسول ! آپ ان مردوں سے باتیں کر رھے ھیں جو بے روح لاشیں ھیں؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

جو کچھ میں کہہ رھا ھوں اسکو تم لوگ اتنا نھیں سن رھے جتنا یہ سن رھے ھیں لیکن یہ اب جواب نھیں دے سکتے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح کی خبر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے ھاتھ مدینہ بھیجی فتح کی خبر اس وقت پہنچی جب نبی صلی اللہ علیہوسلم کی صاحبزادی حضرت رقیہ رضی اللہ عنھاوفات پا چکی تھیں اور انکے شوھر حضرت عثمان اور وھاں موجود صحابہ کرام ان کو دفن کر کے قبر کی مٹی برابر کر رھے تھے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب حضرت رقیہ رضی اللہ عنھا کی وفات کی خبر ملی تو فرمایا: الحمد للہ! اللہ کا شکر ھے ، شریف بیٹیوں کا دفن ھونا بھی عزت کی بات ھے۔ منافقین کو جب فتح کی خبر ملی تو انکو بالکل بھی خوشی نہ ھوئی اور مختلف باتیں بنانے لگے

فتح کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف روانہ ھوئے صفراء کے مقام پر مال غنیمت تقسیم فرمایا  مال غنیمت میں ان لوگوں کا حصہ بھی نکالا گیا جن کو بعض انتظامی وجوھات کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ چھوڑا تھا

اسی مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے قیدیوں میں سے نضر بن حارث کو قتل کرنے کا حکم فرمایا کیونکہ یہ شخص قرآن کریم اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بہت سخت الفاظ استعمال کرتا تھا

پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف روانہ ھوئے مدینہ منورہ کے لوگ مدینہ سے باھر نکل آئے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کا استقبال کر سکیں اور فتح کی مبارک باد دے سکیں۔دوسری طرف مکہ میں قریش کی شکست کی خبر پہنچی خبر دینے والے نے کہا۔۔۔

جیسے ھی ھمارا دشمن سے ٹکرائو ھوا گویا ھم نے اپنی گردنیں انکو پیش کر دیں انھوں نے جیسے چاھا ھمیں قتل کیا ھمارا واسطہ جن لوگوں سے پڑا وہ سفید رنگ کے تھے سیاہ اور سفید گھوڑوں پر سوار تھے وہ زمین و آسمان کے درمیان پھر رھے تھے انکے سامنے کوئی چیز نہ ٹھہرتی تھی

ابو رافع  رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا

تب تو خدا کی قسم وہ فرشتے تھے

جنگ بدر میں اس قدر ذلت آمیز شکست کے بعد ابولہب سات روز سے زیادہ زندہ نہ رھا اور طاعون میں مبتلا ھو کر مر گیا اسکی لاش سڑنے لگی اور شدید بو پھیل گئی آخر اسکے بیٹوں نے ایک گڑھا کھودا اور لکڑی سے لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینکا اور دور ھی سے سنگ باری کرکے گڑھے کو پتھروں سے پاٹ دیا

مکہ میں اسود بن زمعہ نامی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتا تھا مثلاکہتا کہ یہ روئے زمین کے بادشاہ پھر رھے ھیں وغیرہ  اسکی تکلیف دہ باتوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکے اندھا ھونے اور اولاد ختم ھونے کی بددعا فرمائی چناچہ پہلے وہ اندھا ھوا پھر غزوہ بدر میں اسکی اولاد ماری گئی

جنگ کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیدیوں کے بارے مشورہ کیا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فدیہ لیکر رھا کرنے کا مشورہ دیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قتل کا مشورہ دیا بعض مصالح کی بنا پر حضرت ابوبکر کے مشورہ پر عمل ھوا بعد میں سورۃ الانفال آیت ۶۷ تا ۷۰ میں حضرت عمر کی رائے کو اللہ نے پسند فرمایا کہ ان قیدیوں کو قتل کیا جانا چاہیئے تھا

بدر کی لڑائی میں شریک ھونے والے صحابہ کو بہت فضیلت حاصل ھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ

اللہ تعالی نے اصحاب بدر پر خاص فضل فرمایا ھے اور ان سے کہہ دیا ھے کہ جو چاھو کرو میں تمھارے گناہ معاف کر چکا

یا یہ فرمایا کہ

جنت تم پر واجب ھوچکی

مطلب یہ کہ سابقہ گناہ بھی معاف اور اگر آئندہ کوئی گناہ ھوا تو وہ بھی معاف

غزوہ بدر کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا کی شادی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کر دی