غزوہ احد

3ھجری  میں غزوہ احد پیش آیا ۔ احد پہاڑ مدینہ منورہ سے دو میل کے فاصلہ پر ھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

یہ احد ھم سے محبت کرتا ھے اور ھم اس سے محبت کرتے ھیں جب تم اسکے پاس سے گزرو تو اسکے درختوں کا پھل  تبرک کے طور پر کھا لیا کروچاھے تھوڑا سا ھی کیوں نہ ھو

غزوہ بدر میں کافروں کو بد ترین شکست ھوئی  تھی اسکا بدلہ لینے کیلئے قریش نے دوبارہ جنگ کی تیاری کی۔ قریش کی جنگی تیاریوں کی اطلاع  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے ایک خط کے ذریعہ بھیجی ۔ اسوقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبا میں تھے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم قبا سے مدینہ پہنچے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے قریشی لشکر کے سلسلے میں مشورہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تمام بڑے صحابہ کی رائے یہ تھی کہ شہر کے اندر رہ کر دفاع کیا جائے۔بعض پرجوش اور کچھ پختہ عمر کے صحابہ شہر سے باھر نکل کر لڑنا چاھتے تھے آخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی بات مان لی

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز پڑھائی اور وعظ فرمایا

لوگو!پوری تندھی اور ھمت کے ساتھ جنگ کرنا، اگر تم لوگوں نے صبر سے کام لیا تو حق تعالی تمھیں فتح اور کامرانی عطا فرمائیں گے ۔ اب دشمن کے سامنے جاکر لڑنے کی تیاری کرو۔

لوگ یہ حکم سن کر خوش ھوگئے

عصر تک اردگرد سے بھی لوگ بھی آگئے عصر کی نماز کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنھما کے ساتھ گھر تشریف لے گئے ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر عمامہ باندھا اور جنگی لباس پہنایا۔ باھر لوگ صفیں باندھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رھے تھے

حضرت سعد بن معاذ اور اسید بن حضیر رضی اللہ عنھما نے مسلمانوں سے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی شہر میں رہ کر لڑنے کی تھی تم لوگوں نے باھر نکل کر لڑنے پر مجبور کیا۔۔۔ بہتر ھے کہ تم معاملہ ان پر چھوڑ دو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو بھی حکم دیں، انکی جو بھی رائے ھو اسی میں بہتری ھوگی

اتنے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگی لباس پہنے باھر تشریف لائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لباس کے اوپردوھری زرہ پہن رکھی تھی ان زرھوں کا نام ذات الفضول اور فضہ تھا یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی قینقاع کے مال غنیمت سے ملی تھیں

نوجوانوں نے عرض کیا کہ

ھمارا مقصد آپکی مخالفت نہ تھا آپ جو فیصلہ مناسب سمجھیں وہ کریں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اب میں ہتھیار لگا چکا ھوں اور کسی نبی کے لئے ہتھیار لگانے کے بعد انکا اتارنا اس وقت تک جائز نھیں جب تک کہ اللہ تعالی اسکے اور دشمنوں کے درمیان فیصلہ نہ فرمادے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین پرچم بنوائے ایک پرچم قبیلہ اوس دوسرا مہاجرین اور تیسرا قبیلہ خزرج کا تھالشکر میں تقریبا ایک ہزار لوگ تھے شیخین نامی پہاڑوں کے پاس قیام فرمایا رات یہیں گزاری رات کے آخری حصہ میں کوچ فرمایا صبح کی نماز کے وقت احد پہاڑ کے قریب پہنچ گئے

لشکر میں عبداللہ بن ابی بن سلول نامی منافق تین سو ساتھیوں کے ساتھ شامل تھا یہاں پہنچ کر وہ واپس ہوگیا چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف سات سو صحابہ رہ گئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کی گھاٹی میں اس طرح پڑائو ڈالا کہ پہاڑ آپ کی پشت  کی طرف رہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۵۰ تیر اندازوں کا دستہ پہاڑی درے پر متعین کیا تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کردے اور انہیں حکم دیا کہ فتح ہو یا شکست تم لوگ اپنی جگہ سے نہ ہلنا۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تلوار نکالی اور پوچھا کہ

کون مجھ سے یہ تلوار لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟

کئی صحابہ نے تلوار لینے کی کوشش کی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تلوار حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمائی

دونوں لشکر جب ایک دوسرے کے قریب ہوگئے تو دونوں طرف سے ایک ایک دو دو لوگ نکل کر مقابلہ کرتے رہے۔ اس میں مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا۔ اسکے بعد عام جنگ شروع ہو گئی ۔

حضرت ابودجانہ رضی اللہ عنہ نے ایک سرخ پٹی سر پر باندھ لی پٹی کے ایک طرف لکھا تھا

اللہ کی مدد اور فتح قریب ہے

دوسری طرف لکھا تھا

جنگ میں بزدلی شرم کی بات ہے جو میدان سے بھاگا وہ جہنم کی آگ سے نہیں بچ سکتا

انصار نے یہ دیکھ کر کہا

ابودجانہ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے

انصار میں یہ بات مشہور تھی کہ جب ابودجانہ سر پر یہ پٹی باندھ لیتے ہیں تو دشمنوں پر اس طرح ٹوٹ پڑتے ہیں کہ کوئی ان کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔ چناچہ انہوں نے گاجر مولی کی طرح دشمنوں کو کاٹ ڈالا اور اس حد تک قتال کیا کہ تلوار مڑ کر درانتی جیسی ہوگئی۔ مسلمان پکار اٹھے کہ ابودجانہ نے واقعی تلوار کا حق ادا کر دیا

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بیک وقت دو تلواروں کے ساتھ انتہائی سرفروشی سے جنگ کر رہے تھے ایک موقع پر ایک زرہ اٹھانے کے لئے جھکے تو ان کے پیٹ سے زرہ سرک گئی اس موقع پر وحشی نے تاک کر نیزہ مارا جو پیٹ میں لگا اس سے شہید ہوگئے۔حضرت وحشی فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوگئے

آخر مشرکین بدحواس ہوکر بھاگنے لگے، مسلمانوں نے انکا پیچھا کرکے انہیں قتل کرنا شروع کردیا اور مال غنیمت اکٹھا کرنے لگے۔

۔۔

،

۔

۔

مسلمان اس حملے سے اس قدر بدحواس ہوئے کہ سارے قیدیوں اور مال غنیمت کو چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ جو مشرک بھاگ رہے تھے وہ بھی واپس آگئے  ایسے میں مشرکین نے مشھور کر دیا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) قتل کردیئے گئے اس سے مسلمان مذید بدحواس ھوگئے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  اس سخت وقت میں بھی ثابت قدم رھے آپ نے صحابہ کو پکارا

اے فلاں میری طرف آئو میں اللہ کا رسول ھوں

اس نازک وقت میں بھی صحابہ کی ایک جماعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمع تھی اور آپ پر ھونے والے حملوں کو اپنے اوپر روک رھی تھی

احد کی لڑائی سے پہلے مشرکین نے میدان میں گڑھے کھدوادیئے تھے تاکہ مسلمان ان میں گر جائیں۔ ایک گڑھے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم گر پڑے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم گڑھے میں گرے تو عتبہ بن ابی وقاص نے پتھر مارا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہرہ انور کو لگاجس سے چہرہ لہو لہان ہو گیا اورنچلا ھونٹ پھٹ گیا  حضرت حاطب نے عتبہ کا پیچھا کیا اور اسکو قتل کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

اللہ تم سے راضی ہوگیا

اس حملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا ۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم  خون پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے

وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرہ کو اس لئے خون سے رنگین کردیا کہ وہ انھیں  ان کے پروردگار کی طرف بلاتا ھے

خود(لوھے کی جنگی ٹوپی) ٹوٹا اور اسکی دو کڑیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رخسار میں گڑ گئیں حضرت ابوعبیدہ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کر ان کڑیوں کو نکالا جس سے انکے اپنے دو دانت ٹوٹ گئے دودانت ٹوٹنے سے ابوعبیدہ کا چہرہ بدنما ھونا چاھیئے تھا مگر وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ھوگیا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹان کے اوپر جانے کا ارادہ فرمایا لیکن زخموں سے خون نکل جانے اور زرھوں کے بوجھ کی وجہ سے چڑھ نہ سکے یہ دیکھ کے حضرت طلحہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے اور آپ کو کندھوں پر اٹھا کر چٹان کے اوپر لے گئے  نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا

طلحہ کے اس نیک عمل کی وجہ سے ان پر جنت واجب ھوگئی۔

غزوہ احد میں اکثر صحابہ شدید زخمی ھوئے، تفصیل اختصار کی وجہ سے حذف کی جا رھی ھے۔حضرت عبداللہ بن عمرو بھی شہید ھوئے انکے چہرے پر زخم آیا تھا وفات کے وقت ھاتھ زخم پر تھا جب انکی لاش اٹھائی گئی اور زخم سے ھاتھ ھٹایا گیا تو زخم سے خون جاری ھوگیا جونہی ہاتھ زخم پر رکھا گیا تو خون بند ھوگیا

حضرت عبد اللہ بن عمرو اور حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ عنہما کو ایک ھی قبر میں دفن کیا گیا۔ کافی مدت بعد احد کے میدان میں سیلاب آیا اس سے یہ قبر کھل گئی لوگوں نے دیکھا کہ دونوں لاشیں تروتازہ تھیں حضرت عبداللہ بن عمرو کا ھاتھ اسی طرح زخم پر تھا کسی نے ھاتھ ھٹایا تو خون جاری ھوگیا چناچہ ہاتھ پھر زخم پر رکھ دیا گیا

غزوہ احد میں ستر کے قریب مسلمان شہید ہوئے۔ اسی سال یعنی ۳ ھجری میں شراب حرام ھوئی