باب اول

ان پانچ علوم کے بیان میں جن پر قرآن واضح طور پر دلالت کرتا ھے (تاکہ معلوم ھو جائے کہ قرآن کے مقصودی مضامین ان پانچ سے باھر نہیں

اس حصہ میں حضرت شاہ صاحب رحمہ اللہ نے جو فرمایا وہ ذیل کے نقشہ میں مختصرا دیا جا رھا ھے

نقشہ:  قرآن کریم کے اساسی علوم

یہ علم کس کی ذمہ ھے

مراد

علم کا نام

نمبر شمار

فقیہ کے

واجب، مندوب، مباح، مکروہ، حرام

خواہ ا نکا تعلق عبادات سے ھو   یا  معاملات سے  یا  گھریلو تدابیر (عائلی ز ندگی) سے   یا   سیاست مدنیہ (شہری سیاست)سے

علم ا                               الاَحکام

1

متکلمین کے

چار گمراہ  فرقوں سے بحث و مباحثہ اور ان کی تردید

یعنی مشرکین ، یہود، نصاری، منافقین

علم ا                          لجدل ؍ علم المخاصمہ

2

علماء واعظین کے

زمین و آسمان کی پیدائش ، بندوں کو حسب حال چیزوں کے الہام کی وضاحت، اللہ کی  صفات کاملہ کا بیان اور ان کے ذریعہ نصیحت

علم                              التذکیر

بآلآء اللہ

3

علماء واعظین کے

فرمانبرداروں کو ثواب و انعامات  اور مجرمین کو سزا دینے کے واقعات کے ذریعہ نصیحت

علم                                التذکیر بایام             اللہ

4

علماء واعظین کے

حشر نشر حساب میزان جنت دوزخ وغیرہ کے ذریعہ یاد دھانی و نصیحت

علم ا                                   لتذکیر

بالموت و ما بعدہ

5

نوٹ:

سورۃ فاتحہ (ام القرآن؍ خلاصۃ القرآن)  میں معمولی غور و فکر کرکے یہ جانا جا سکتا ھے کہ سورۃ فاتحہ میں یہ پانچوں مضامیں واضح طور پر موجود ھیں

ان پانچ علوم کے بیان میں قرآن کریم کا اسلوب

۱

متقدمین کے طرز پر ھے

۲

اختصارا ھے غیر ضروری قیودات  وغیرہ نہیں ھیں

۳

آیاتِ مخاصمت میں مشہورات مسلمہ اور خطابیاتِ نافعہ  کے ذریعہ تردید ھے

۴

مناطقہ کا طرز اختیار نہیں کیا

۵

وقت اور ضرورت کے مطابق بیان کیا گیا

۶

قرآن کا انداز خطابی ھے کتابی نہیں۔

۷

ہر طرح کے مضامین(جن کا بندوں کو بتانا اھم سمجھا) بکھرے ھوئے ہیں

ھرآیت کا سبب نزول ھونا ضروری نہیں

نزولِ قرآن کا مقصد

انسانی نفوس وارواح کا تزکیہ اور عقائد باطلہ کو مٹانا اور برے اعمال کی بیخ کنی

ہر آیت کو کسی قصہ کے ساتھ جوڑنا ضروری نہیں

آیاتِ مخاصمہ کا سبب نزول

مکلفین میں  عقائد باطلہ کا پایا جانا

آیاتِ احکام کا سبب نزول

برے اعمال  کا پایا جانا، آپس میں مظالم کا ھونا

آیاتِ تذکیر کا شان نزول

مکلفین کا بید ار نہ ھونا