ذکر المشرکین (مشرکین کا ذکر

۱۔

مشرکین اپنے آپ کو حنیف کہتے تھے اور ملت ابراھیمی علیہ السلام کے پیروکار ھونے کا دعوی کرتے تھے حالانکہ حنیف اسی کو کہا جاتا ھے جو ملت ابراھیمی علیہالسلام کو بحیثیت مذھب اختیار کرے اور اس کے شعائر کا التزام کرے

۲۔

ملت ابراھیمی علیہ السلام کے شعائر

(۱)

بیت اللہ کا حج کرنا

(۲)

نماز میں بیت اللہ کا استقبال کرنا

(۳)

غسلِ جنابت کرنا

(۴)

ختنہ کرانا

(۵)

اشہر حرم کا احترام کرنا

(۶)

مسجد حرام کی تعظیم کرنا

(۷)

نسبی و رضائی محرمات کو حرام جاننا

(۸)

عام جانوروں کا ذبح میں حلق کرنا

(۹)

اونٹ کا ذبح میں نحر کرنا

(۱۰)

ذبح و نحر کے ذریعہ اللہ کا قرب چاھنا

(۱۱)

خصائل ِ فطرت اپنانا

خصائلِ فطرت یہ ھیں

(۱)

ڈاڑھی بڑھانا

(۲)

مونچھیں کتروانا

(۳)

ناخن کاٹنا

(۴)

بغل کے بال اکھاڑنا

(۵)

موئے زیرناف مونڈنا

(۶)

استنجا کرنا

(۷)

کلی کرنا

(۸)

پانی سے ناک صاف کرنا

(۹)

مسواک کرنا

(۱۰)

انگلیوں کے جوڑوں اور اوپری حصہ کی صفائی کرنا

۳۔

ملتِ ابراھیمی کے اعمال

(۱)

وضو

(۲)

نماز

(۳)

طلوع صادق سے غروب آفتاب تک روزہ

(۴)

مسکینوں و یتیموں پر صدقہ کرنس

(۵)

مشکلات میں دوسروں کی مدد کرنا

(۶)

صلہ رحمی کرنا

(۷)

قتل ، چوری، سور، زنا، غصب وغیرہ کی حرمت

۴۔

مشرکین کی عقائد و شعائرِ ملتِ ابراھیمی علیہ السلام  سے بیزاری

مشرکین نے انکو ایسے چھوڑ رکھا تھا گویا ہیں ہی نہیں۔ نفس امارہ کی پیروی کرتے تھے۔ ان شعائر کو اچھا جانتے ھوئے بھی ان سے روگردانی کرتے تھے

۵۔

ملت ابراھیمی علٖیہ السلام کے وہ عقائد جو مشرکین کے ہاں بھی کسی درجہ میں مسلم تھے

۱۔

خالق سبحانہ و تعالی کے اثبات کا عقیدہ

۲۔

یہ عقیدہ کہ وہ آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ھے

۳۔

یہ عقیدہ کہ وہ بڑے بڑے حوادثات کا نظم کرنے والا ہے

۴۔

یہ عقیدہ کہ وہ پیغمبروں کو بھیجنے والا ہے

۵۔

یہ عقیدہ کہ وہ بندوں کو جزا و سزا دینے  پر قادر ہے

۶۔

یہ عقیدہ کہ وہ حوادثات کو ان کے وقوع سے پہلے متعین کرنے والا ہے

۷۔

یہ عقیدہ کہ فرشتے اس کے مقرب بندے ہیں جو تعظیم کے مستحق ہیں

۶۔

مشرکین کے شبہات کا سبب

عام مشرکین کو ان عقائد میں بہت سے اشکالات تھے جو ان امور کو مستبعد سمجھنے اور ان سے مانوس نہ ہونے کی وجہ سے تھے (مشرکین ہر چیز کو اپنی عقل سے سوچ کر اعتراض کرتے کہ عقلی طور پر تو یہ بات ایسے ہونی چاہیئے ۔ ناقل

۷۔

مشرکینِ مکہ کی گمراھیاں

(۱)

شرک

(۲)

تشبیہ

(۳)

تحریف

(۴)

آخرت کا انکار

(۵)

نبی ﷺ کی رسالت کو بعید سمجھنا

(۶)

آپس میں مظالم اور بد اعمالیوں کا عموم

(۷)

غلط رسوم کی ایجاد

(۸)

عبادتوں کو مٹانا