مشرکین   کی گمراھیوں کی مختصر وضاحت اور ان کا رد

(۱)

شرک

شرک یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ سبحانہ و تعالی کے علاوہ کیلئے ان صفات میں سے کوئی صفت ثابت کرے جو اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں

مثلا

(۱)

کائنات میں ارادہ کے ذریعہ تصرف کرنا

(۲)

علم ذاتی کا حاصل ھونا

(۳)

بیمار کو شفا دینا

(۴)

کسی پر ایسا مہربان ہونا کہ اس کے لئے رزق کی وسعت پیدا کردی جائے اور اس کا جسم صحتمند اور وہ سعادتمند ہوجائے

(۵)

کسی پر لعنت کرنا اور اس پر ایسا غضبناک ہونا کہ اس ناراضگی کی وجہ سے اس کی روزی تنگ کردی جائے یا بیماری میں مبتلا کردیا جائے یا بدبخت ومحروم کر دیا جائے

نوٹ

مشرکین بھی یہی عقیدہ رکھتے تھے کہ جب اللہ جل جلالہ کسی چیز کا ارادہ فرمالیتا ہے تو

پھر اس کے نفاذ میں کو ئی بڑی سے بڑی طاقت بھی حائل نہیں ہوسکتی اور سارہ مخلوق

اس کے ارادہ  و فیصلہ کے سامنے عاجز ہے لیکن اسی کے ساتھ ان کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ

اللہ تعالی اپنے مخصوص بندوں کو بعض شخصی معاملات کا اختیار سونپ دیتا ہے (مثلا کسی

فرد معین کی صحت و شفاء ) پھر ان امور اختیاریہ میں وہ بندے اپنی مرضی سے تصرف

کرتے ہیں

مثال

جیسے دنیاوی سلاطین نظام سلطنت چلانے کیلئے اپنے مقرب و معتمد لوگوں کو ملک کے مختلف علاقوں میں اپنا نائب بنا کر بھیجتے ہیں پھر ان نائبین کو جزئی معاملات میں تصرف کرنے کا پورا اختیار ہوتا ہے ، اعتماد کی وجہ سے ان کی سفارش قبول کی جاتی ہے ، ان کے واسطے سے آنے والی درخواستین قابل سماعت اور لائق التفات ہوتی ہیں ۔ اسی طرح مشرکین ان پر قیاس کرتے تھے کہ اللہ نے بھی اپنے مخصوص بندوں کو اختیارات سونپ رکھے ہیں  لہذا بارگاہ الہی تک پہنچنے کیلئے  اسکے ان مقرب بندوں کا واسطہ ضروری ہے تاکہ خواص کی سفارشات سے اپنی ضرورتیں پوری ہو سکیں

انہی خیالات کی وجہ سے  مشرکین  یہ جائز سمجھتے تھے کہ انکو سجدہ کیا جائے ، ان کے لئے جانور ذبح کئے جائیں ، ان کی قسمیں کھائی جائیں ، ضرورت میں ان سے مدد مانگی جائے وغیرہ ۔ چناچہ مقربین کی وفات کے بعد ان کی ارواح کو متوجہ کرنے کے لئے ان کے مجسمے تیار کئے جانے لگے ۔ آھستہ آھستہ وہ دن بھی آگئے کہ جہالت کی وجہ سے انہی بتوں کو معبودِ حقیقی  سمجھا جانے لگا۔ مشرکین ان اعمال پر بطور استدلال اپنے آباء کا عمل پیش کرتے تھے

شرک کا رد :

قرآن نے شرک کا جواب دینے کیلئے پانچ طریقے استعمال کئے ہیں

(۱)

دلیل کا مطالبہ

مثلا

قل      ھل عندکم من علم فتخرجوہ لنا (الانعام)

قل ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین (النمل)

ام اتخذوا   من دونہ الھۃ قل ھاتوا۔۔ الخ (الانبیاء)

ارونی ماذاخلقوا من الارض،

ام لہم     شرک فی السموات ایتونی      بکتاب من قبل  ھذا او اثارۃ من علم ان کنتم صادقین

(۲)

آباء کی تقلید سے استدلال کا رد

مثلا

و اذ ا قیل لھم اتبعوا ما انزل اللہ قالوا بل نتبع ما وجدنا علیہ اباء نااو لو کان ا     باء ھم لا یعقلون                                               شیئا ولا یھتدون

ا  ن تتبعون الاالظن وان انتم الا تخرصون (الانعام

(۳)

اللہ تعالی اور بندوں میں مماثلت و مساوات کا فقدان

اور غایت تعظیم کے استحقاق میں اللہ کی انفرادیت کا بیان

مثلا

لیس کمثلہ شی

ایشرکون مالایخلق شیئا وھم یخلقون(الاعراف)

ا فمن یخلق کمن لا یخلق(النمل)

ھل من خالق غیر اللہ یرزقکم  من السما       ء والارض لاالہ الا ھو فانی توفکون (فاطر

(۴)

بتوں کی نااھلی اور بت پرستی کی مذمت

مثلا

و  من اضل ممن یدعوا من دون اللہ من لا یستجیب لہ الی یوم القیمۃ وھم عن دعائھم   غافلون(پ ۲۶) و ا ن یسلبھم الذباب شیئا لا یستنقذوہ منہ ضعف الطالب والمطلوب  (الانبیاء)

(۵)

مسئلہ توحید پر تمام انبیاء کے اتفاق و اجماع کا بیان

مثلا

وما    ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لا الہ الا انا فاعبدون

واسئل من ارسلنا من قبلک من رسلنااجعلنا من دون الرحمن الھۃ یعبدون

و لقد   بعثنا فی کل امۃ رسولا   ان عبدوااللہ و اجتنبوا الطاغوت (النحل