مشرکین کی گمراھیوں کی مختصر وضاحت اور ان کا رد

(۲)

تشبیہ

اللہ کے حق میں انسانی صفات کو ثابت کرنے کا نام تشبیہ ہے ۔جیسے جسم و جثہ والا ہونا، سننے کیلئے کان کا، دیکھنے کیلئے آنکھ کا محتاج ہونا ، کسی مکان و مقام میں محدود ہونا ، اولاد ہونا  جیسے مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے

: تشبیہ کا جواب :

(۱)

دلیل کا مطالبہ

مثلا

اصطفی   البنات علی البنین مالکم کیف تحکمون افلا تذکرون  ام لکم سلطن مبین فاتوا بکتابکم ان کنتم         صادقین

(۲)

تقلید آباء سے استدلال کی تردید

مثلا

و ینذر الذین قالوا اتخذاللہ ولدا مالھم بہ من علم ولالابائھم (الکہف

(۳)

والد و مولود میں مجانست ہوتی ہے اور یہ مجانست یہاں ناپید ہے

مثلا

لم   یلد ولم یولد  ولم یکن لہ کفوا احد (الاخلاص) وقالوا اتخذاللہ ولدا سبحانہ۔وقالوا اتخذالرحمن ولدا سبحانہ بل عباد مکرمون

(۴)

مشرکین اپنے لئے لڑکیوں کی پیدائش بری سمجھتے تھے تو اللہ کیلئے کیوں بیٹی کی تجویز روا رکھتے ہیں مثلا

ام لہ    البنات ولکم البنون(الطور 38

ام        اتخذ مما یخلق بنات واصفاکم بالبنین واذا بشر احدھم بماضرب للر حمن مثلا ظل وجہہ مسودا وھو کظیم(          ا    الزخرف ع۲