مشرکین    کی گمراھیوں کی مختصر وضاحت اور ان کا رد

(۳)

تحریف

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اپنے دادابزرگوارکی شریعت پر قائم تھی یہاں تک کہ عمرو بن لحی کا زمانہ آیا۔ یہ مکہ میں بیت اللہ کا دربان تھا اس نے بلاد شام میں سیاحت کی عمالقہ قوم تک پہنچا تو دیکھا کہ وہ لوگ خوبصورت مورتیوں کو پوجتے تھے اسکی مشرکانہ فطرت ان مورتیوں پر ریجھ گئی کیونکہ اس وقت تک عرب میں بے تراشے پتھروں کی پرستش کا رواج ہو چکا تھا اس نے وھاں کے لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے دیوتا ہیں ہماری حاجت روائی کرتے ہیں بارش برساتے ہیں ضروریات پوری کرتے ہیں اس نے ان سے ایک بت مانگ لیا  ان لوگوں نے ھبل نامی بت اس کے حوالہ کردیا جو اس نے لا کر مکہ میں نصب کردیا اس طرح بت پرستی کو فروغ ملا اسی طرح اس نے بحیرہ، سائبہ ، حام اور تیروں کے ذریعہ تقسیم حصص اور ان جیسی چیزیں ایجاد کیں۔ ان میں سے ہر ایک کی تشریح کے مختلف اقوال یہ ہیں:

بحیرہ:

وہ جانور جس کا دودھ بتوں کے نام نذر کردیا جاتا اور پھر کوئی شخص اسے استعمال نہ کر سکتا(جلالین بحوالہ بخاری عن سعید بن المسیب

یا

وہ اونٹنی جو پانچ بچے جن چکی ہو اور آخری بچہ نر پیدا ہوا ہو اس کا کان چیر کر آذاد کر دیتے پھر اس کی سواری بھی پاپ اسکا دودھ بھی حرام ہوجاتا اسے حق ہوتا کہ جس چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیئے (حاشیہ جلالین

سائبہ:

بقول حضرت سعید بن المسیب وہ جانور جو بتوں کے نام پر چھوڑے جاتے تھے

(۲)

وہ جانور جو منت پوری ہونے یا کسی بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرہ سے محفوظ ہونے پر شکرانے کے طور پر چھوڑا گیا ہو بتوں کے نام پر

(۳)

وہ جانور جسے مسلسل دس مادہ بچے جننے کی خوشی میں آزاد کیا گیا ہو

حام:

بقول حضرت سعید بن المسیب وہ اونٹ کو ایک خاص عدد (دس مرتبہ) تک جفتی کر لیتا اسے حام کہتے اور اسے آزادکرنے کا رواج تھا

(۲)

وہ اونٹ جس کا پوتا سواری کے قابل ہو جاتا اس کو بھی حام کہتے تھے

الاستسقام بالازلام:

اس کی دو صورتیں تھیں

(۱)

عمومی طریقہ:

یہ محض مشورہ کی غرض سے اختیار کیا جاتا تھا  اس کی صورت یہ ہوتی کہ کوئی بھی شخص ایک تھیلے میں رکھے ہوئے  تین تیروں میں سے ایک تیر نکالتا پھر امرنی والے تیر سے اجازت اور نہانی والے تیر سے ممانعت سمجھی جاتی تھی جبکہ سادہ اور خالی تیر نکلنے کی صورت میں قسمت آزمائی کا اعادہ کیا جاتا تھا

(۲)

خصوصی استسقام:

اس کامقصد محض مشورہ نہ ہوتا تھا بلکہ اس سے اہم امور کے متعلق فیصلہ کیا جاتا تھا مثلا دیت کا ضامن کون ہوگا؟ چندہ کی رقم سے خریدے مذبوحہ اونٹ میں کس کااور کتنا حصہ ہوگا ؟ وغیرہ ۔ اس استسقام کی صورت یہ ہوتی تھی کہ ھبل بت کے پاس رکھے سات تیروں میں سے ایک تیر نکال کر اس کے اشارے کے مطابق عمل کیا جاتا تھا اور کسی قسم کی خلاف ورزی جائز نہ سمجھی جاتی تھی۔

تحریف کا جواب :

(۱)

یہ تحریفات انبیاء کرام سے منقول وثابت نہیں

(۲)

یہ تحریفات خودساختہ ہیں

مثلا

ما              جعل اللہ من بحیرۃ      ولاسائبۃ ولا وصیلۃ ولاحام ولکن الذین کفروا  یفترون علی اللہ  الکذب                                   (الانعام