مشرکین  کی گمراھیوں کی مختصر وضاحت اور ان کا رد

(۵)

نبی  ﷺ کی رسالت کو مستبعد سمجھنا

مشرکین نفس رسالت و نبوت کے قائل تھے  حضرت ابراھیم و اسماعیل اور موسی علیہم الصلوۃ والسلام کو نبی مانتے تھے لیکن نبی   ﷺ کی رسالت پر حیرت زدہ تھے وجہ اسکی یہ تھی کہ انہوں نے انبیاء کا صرف نام سنا تھا ان کے حالات کا کبھی بچشم خود مشاھدہ نہ کیا تھا  وہ  لوگ پیغمبر اور بھیجنے والے کے درمیان مماثلت و مشابہت کے قائل تھے اس لئے مختلف شبہات پیش کرتے تھے مثلا

(۱)

نبی کھانے پینے کا محتاج کیسے ھو سکتا ھے؟  ما          ھذا الرسول یاکل الطعام و یمشی فی الاسواق   (الفرقان

(۲)

اللہ نے فرشتوں کو رسول بنا کر کیوں نہ بھیجا؟ لو   لا انزل علیناالملائکۃ

(۳)

کبھی مختلف عجیب وغریب معجزات کی فرمائش کرتے

قالوا        لن نومن لک حتی تفجرلنا من الارض ینبوعا       ،او تکون لک جنۃ       من نخیل و عنب فتفجرالانہار خلا لھا تفجیرا،و لن نومن حتی تنزل علینا کتابا        نقرئوہ، لن نومن حتی نوتی مثل ما       اوتی رسل اللہ، لولاانزل علینا الملئکۃ او نری ربنا وغیرہ

کفار نے آپ  ﷺ کی تصدیق کیلئے یہ شرط رکھی تھی کہ ہمارے مطلوبہ چھ معجزات

میں سے کوئی ایک کرکے دکھائیں

(۱)

اس سنگلاخ زمین میں کسی مقام پر پانی کا ایک چشمہ جاری فرمادیں

(۲)

اپنے لئے اسباب و وسائل کے بغیر انگور اور کھجور کا ایک باغ رونما فرمائیں جس کے بیچ میں نہریں رواں ہوں

(۳)

ہم پر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں ، ہمیں ھلاک کروا دیں

(۴)

ہمیں اللہ تبارک و تعالی اور فرشتوں کی آمنے سامنے زیارت کروادیں

(۵)

اپنے لئے سونے کا مکان تعمیر کرالیں

(۶)

آسمان پر جا کر وھاں سے ہمارے لئے تصدیق نامہ لائیں

کفار کے ان مطالبات میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیں کیا گیا جس کی چند وجوہات درج

ذیل ہیں

(۱)

ان مطالبات سے پہلے کفار کئی معجزات کا مشاھدہ کر چکے تھے پھر بھی کفر پر اڑے ھوئے تھے۔ انکے لئے ہر قسم کے معجزات (فرمائشی و غیر فرمائشی)  بے فائدہ ہیں و ا     ن یروا کل ایۃ لا یومنوا بھا (الاعراف

(۲)

یہ مطالبات قرآن کے معجزہ اور اس کے چیلنج کے بعد پیش کئے گئے تھے

(۳)

یہ مطالبات نبی ﷺ سے کئے گئے تھے۔ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام  معجزات کے معاملہ میں بے بس و بے اختیار ہوتےہیں وہ صرف وہ معجزہ دکھا سکتے ہیں جو اللہ چاہے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے۔

وما  کان لرسول ان یاتی بایاتہ الا باذن اللہ (رعد

(۴)

اگر مطلوبہ معجزات پورے کر دیئے جاتے اور اس کے بعد بھی کفار اڑے رہتے اور ایمان نہ لاتے تو حالات بہت سنگین ہوجاتے ہیں۔ایسے موقع پر اللہ تعالی کی سنت یہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے معجزہ کا مطالبہ کیا اور پھر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود ایمان نہ لائی  تو وہ قوم عذاب و ہلاکت بھیج کر نیست و نابود کر دی گئی۔ لہذا اگر مطالبہ پورا کردیا جاتا تو عذاب کا آجانا یقینی تھا کیونکہ کفار کا مطالبہ انکے انکار کا ایک بہانہ تھا مطالبہ پورا ہونے کے باوجود بھی انہوں نے ایمان نہ لانا تھا ۔ اس لئے ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا کیونکہ اللہ تعالی کا ارادہ نبی  ﷺ کی امت کو محفوظ رکھنا تھا ۔ نیز ایک آیت میں یہ بھی ہے کہ نبی  ﷺ (رحمۃ للعلمین) ان میں موجود تھے اس لئے عذاب نہیں بھیجا گیا۔وما    کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم (الانفال

(۵)

ان مطالبات کا پورا کیا جانا مصلحت عامہ اور قومی مفاد کے خلاف تھا

(۶)

اللہ نے نبی ﷺ کو ہی رسول چنا کسی اور کو نہیں کیونکہ

اللہ          اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام

(۷)

کسی فرشتہ کو رسول بنا کر نہ بھیجا کیونکہ

لو انزلنا ملکا لقضی الامر ثم لا ینظرون ولو جعلناہ ملکا    لجعلناہ رجلا و للبسنا علیھم مایلبسون

نبی ﷺ کی رسالت کو بعید سمجھنے کا جواب :

(۱)

رسالت کوئی نئی چیز نہیں ،پہلی امتوں میں بھی رسول ہوئے ہیں

ویقول     الذین کفروا لست مرسلا قل کفی باللہ شہیدابینی وبینکم    و من  عندہ علم الکتب وما      ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیھم

(۲)

رسالت کا صحیح مفہوم:

رسالت کا مطلب ایسا نہیں جیسا بادشاہ کے سفیر ہوتے ہیں بلکہ رسالت کا مطلب اللہ تعالی کی طرف

سے کسی برگزیدہ انسان کے پاس وحی کا بھیجنا ہے اور وحی کوئی محال چیز نہیں ہے

(۳)

ان معجزات کے نہ ہونے کی وضاحت جس کا لوگ مطالبہ کرتے تھے

(یہ تفصیل سے اوپر بیان کر دیئے گئے ہیں)

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم