موجودہ  زمانہ میں مشرکین کا نمونہ

حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے مشرکین مکہ کی مثال کے طور پر موجودہ زمانہ کے جا ہلین کا حال پیش کرکے دونوں کا موازنہ فرمایا ہے

1

مشرکین نفس رسالت کے قائل تھے پھر بھی  نبی  ﷺ کی رسالت کے منکر تھے

جاھل عوام نفس ولایت کے قائل ہونے کے باوجود  اپنے دور میں اولیاء کی ولایت کے منکر ہیں

2

مشرکین بارگاہ خداوندی کے مقرب و مخصوص بندوں کو بعض خصوصی معاملات میں قادر و مختار مانتے تھے جس کی وجہ سے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اورقبروں کو سجدہ کرتے ہیں

جاھل عوام اولیا ء کرام کو خاص خاص معاملات میں بااختیار مانتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے سامنے سجدہ ریز ہوتے اورقبروں کو سجدہ کرتے ہیں

3

مشرکین ان کے نام پر ذبح کو جائز سمجھتے تھے انکے نام پر جانور آزاد کرتے تھے

جاھل عوام اولیاء کے نام پر ذبح کرتے اور جانور آزاد کرتے ہیں ، مزاروں پر بکرے مرغے اور نظرانے چڑھاتے ہیں

4

مشرکین نے ان کی وفات کے بعد ان کی شبیہ اور مورتیوں کو ان کی ارواح کے متوجہ کرنے کا ذریعہ بنایا اور پھر انہی مورتیوں کی پوجا شروع کردی

جاہل مسلمان قبروں کی زیارت کے بہانے ان بزرگوں کی ارواح سے رابطہ قائم کرنے لگے  پھر قبروں کو ہی سجدے شروع ہوگئے

5

مشرکین بتوں سے اولاد و شفا وغیرہ مانگتے تھے

جاہل مسلمان قبر والے سے اولاد اور شفاء و غنا مانگتے ہیں

6

مشرکین مکہ اللہ تعالی کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کرکے یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ امور عامہ میں خود اللہ تعالی کے اختیارات نافذ ہوتے ہیں جبکہ امور خاصہ میں اللہ کے مقرب بندے اپنے اختیار سے تصرف کرتے ہیں

جاھل عوام نے بھی اللہ کو امور خاصہ سے بے دخل اور اولیاء کو بااختیار مان لیا ہے

7

مشرکین دین میں تحریف کرکے بت پرستی میں گرفتار ھوگئے

جاہل مسلمان دین میں تحریف کرکے قبر پرستی میں گرفتار ہیں

نوٹ:

شرک کی وہ قسم جو مسلمانوں میں پائی جاتی ہے وہ مشرکین مکہ کے شرک سے بڑھی ہوئی ہے ۔ کیونکہ مشرکین بڑی مصیبتوں کےوقت خدائے واحد کو ہی پکارتے تھے

فاذا     رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین لہ الدین

جب کہ مسلمان جہلاء خوشحالی و بدحالی دونوں صورتوں میں مشائخ و اولیاء کو ہی پکارتے اور ان سے مدد کے طالب ہوتے ہیں

نوٹ:

ایک صحیح حدیث میں پیشین گوئی ہے کہ

لتتبعن     سنن من کان قبلکم حذوالنعل بالنعل۔۔ الخ

تم لوگ ضرور بہ ضرور ان لوگوں کی راہ چلو گے جو تم سے پہلے تھے جوتا کے ساتھ جوتا کی برابری کی طرح۔ ایک روایت میں ہے کہ گذشتہ امت میں سے اگر کسی فرد نے اپنی بیوی کے ساتھ برسرراہ مجامعت کی بے حیائی اختیار کی ہوگی تو اس امت میں بھی یہ بے حیائی ہوگی، ایک روایت میں ہے کہ اگر گذشتہ امت کے کسی فرد نے اپنی ماں کے ساتھ زنا کیا ہوگا تو یہ بے حیائی اس امت میں بھی ہوگے (اللہم اعاذنا منہم