بسم اللہ الرحمن الرحیم

عدل کے متعلق چند آیات

(۱)

و اذ  ا قلتم فاعدلوا ولو کان ذا قربی وبعھد اللہ اوفوا ذلکم وصکم بہ لعلکم تذکرون ۔الانعام ۱۵۲

مفہوم  : اور جب تم بات کہو تو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو اور اللہ تعالی سے جو عہد کیا کرو اس کو پورا کیاکرو ان(سب) کا اللہ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو (اور عمل کرو

(۲)

یایھا      الذین امنوا کونوا قوامین بالقسط شھدآء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیا  او فقیرا فاللہ اولی بھما فلا تتبعوا       الھوی اَن تعدلوا  و ان تلوااوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا۔ النساء ۱۳۵

مفہوم  : اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین پر یا رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے ۔ لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔

(۳)

یایھا   الذین امنوا کونوا قوامین  للہ شھدآء بالقسط ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعدلوا  اعدلوا ھو اقرب للتقوی واتقوا اللہ ان اللہ خبیر  بما تعملون۔ المائدۃ ۸

مفہوم: اے ایمان والو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم  رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو ۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جائو۔ عدل کرو یہ تقوی سے زیادہ قریب ہے ۔ اللہ سے ڈر و، بے شک اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

(۴)

و ان  حکمت فاحکم بینھم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین۔ المائدۃ ۴۲

مفہوم: اور اگر فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ ان میں فیصلہ کرو بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

(۵)

فلا     تخشوا الناس واخشون ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکفرون        ۔المائدۃ ۴۴

مفہوم :  پس لوگوں سے نہ ڈرو (بلکہ) مجھ (اللہ) سے ڈرواور میری آیتوں کو تھوڑے ثمن(فائدے) کے بدلے نہ بیچو، اور جو (لوگ) اللہ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی کافر ہیں۔

(۶)

ومن     لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفاسقون۔ المائدۃ ۴۷

مفہوم: اور جو (لوگ) اللہ کے نازل کردہ (قانون) کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی فاسق ہیں۔

(۷)

لو لا ینھہم الربانیون و الاحبار عن قولھم الاثم و اکلھم السحت لبئس ماکانوا یصنعون ۔المائدۃ ۶۳

مفہوم  : ان کو مشائخ اور علماء گناہ کی بات کہنے سے اور حرام مال کھانے سے کیوں نہیں منع کرتے ،واقعی ان کی یہ عادت بری ہے۔

(۸)

ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینت و الھدی من بعد ما بینہ للناس فی الکتب اولئک یلعنھم اللہ ویلعنھم اللعنون الا الذین تابوا و اصلحوا  و بینوا فاولئک اتوب علیھم و انا التواب الرحیم۔البقرۃ ۱۵۹۔۱۶۰

مفہوم: جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں، درآں حالیکہ ہم انہیں سب انسانوں کی رہنمائی کیلئے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں ، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت کرتے ہیں۔ البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں، تو انکو میں معاف کردوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔

(۹)

ان     الذ ین یکتمون ما انزل اللہ  من الکتب ویشترون بہ ثمنا قلیلا اولئک ما یاکلون فی بطونھم الا النار ولایکلمھم اللہ یوم القیمۃ ولا یزکیھم       ولھم عذاب الیم اولئک الذین اشترواالضللۃ بالھدی والعذاب بالمغفرۃ فما اصبرھم علی النار۔ البقرۃ ۱۷۴۔۱۷۵

مفہوم: بے شک جو لوگ ان احکامات کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کئے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوںپر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں ، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۔ قیامت کے روز اللہ ہرگز ان سے بات نہ کرے گا ، نہ انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا ، اور انکے لئے دردناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی، اور مغفرت  کے بدلے عذاب مول لیا۔ کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔

اللہ  نے علماء سے وعدہ لیا ہے کہ وہ لوگوں کیلئے حق کو واضح کریں اور حق بات کو مت چھپائیں۔

ملاحظہ ہو

قال      اللہ تعالی: {الذین ینقضون عہد اللہ من بعد میثاقہ}سورۃ البقرۃ ۲۷

(۱)

التفسیر  للبیضاوی:

و قیل  عھود اللہ ثلثۃ عھد اخذہ علی جمیع ذریۃ ادم بان یقروا بربوبیتہ و عھد اخذہ علی النبیین  بان

یقیموا    الدین ولا یتفرقوا فیہ و عھد اخذہ علی العلماء بان یبینوا الحق     ولا یکتموہ (   ص۵۵ ، ط میر محمد کتب خانہ کراچی

(۲)

التفسیر    الکبیر:

۔۔۔۔۔و خامسھا  : عہد اللہ الی خلقہ ثلاثۃ عہود۔ العھد الاول: الذی     اخذہ علی جمیع ذریۃ آدم وھو اقرار  بربوبیتہ و ھو قولہ {و اذ اخذ ربک} و عھد خص بہ النبیین ان یبلغوا الرسالۃ و یقیموا الدین ولایتفرقوا فیہ وھو قولہ {و اذ   اخذنا من النبیین میثاقھم} و عھد خص بہ العلماء     ، وھو قولہ {و اذ اخذاللہ میثاق الذین اوتوا الکتاب لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ } الخ                        (ص۱۴۸ج۲