سود

آل عمران آیت 130 تا 131 پارہ 4

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھاناچھوڑ دواور اللہ سے ڈرو ، امید ھے کہ فلاح پائو گے۔ اس آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ھے۔

البقرۃ آیت 39 پارہ 21

مگر جو لوگ سود کھاتے ہیں انکا حال اس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چھو کر بائولا کر دیا ہو ۔ اور اس حالت میں اسکے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:’’تجارت بھی تو آخر سود ہی جیسی چیز ہے‘‘، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سودکو حرام۔لہذا جس شخص کو اس کے رب کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لئے وہ سود خواری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا سو کھا چکا، اس کلا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے جہاں وہ ھمیشہ رھے گا۔

البقرۃ آیت 278۔279 پارہ 3

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو اور جو کچھ تمھارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر تم واقعی ایمان لائے ہو۔

لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہطجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمھارے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کرلو(اور سود چھوڑدو)تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حقدار ہو۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔

الروم آیت 39 پارہ 21

جو سود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا، اور جو زکوۃ اللہ کی خوشنودی کے واسطے تم دیتے ہو، اسی کے دینے والے درحقیقت اپنا مال بڑھاتے ہیں

البقرۃ آیت 276 پارہ 3

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا۔

النساء آیت 160۔161 پارہ 6

غرض ان یہودی بن جانے والوں کے اسی ظالمانہپ رویہ کی بناء پر اور اس بناء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور سود لیتے ہیںجس سے انہیں منع کیا گیا تھا، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لئے حلال تھیں ، اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے۔