Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

چند  اھم فقہی اصطلاحات

یہ اصطلاحات  پورے دین میں استعمال ہوتی ہیں  کل نو  اصطلاحات بیان کی جائیں گی

فرض (فرض عین اور فرض کفایہ

واجب

سنت موکدہ

سنت غیر موکدہ؍سنت زائدہ؍سنت عادیہ

نفل ؍ مستحب؍مندوب

حرام

مکروہ تحریمی

مکروہ تنزیہی

مباح

(۱)

فرض

اس کا درجہ احکامات میں سب سے اوپر ہوتا ہے اس کی دلیل سب سے قوی ہوتی ہے یہ دلیلِ قطعی سے ثابت ھوتا ھے۔ فرض کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے اگر کوئی انکار تو نہ کرے لیکن جان بوجھ کر چھوڑ دے توفاسق سخت گنہگار اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے عبادات میں فرض چیز کو چھوڑ دیں تو عبادت ادا نہیں ہوتی مثلا نمازکی ہررکعت میں دوسجدے فرض ہیں اگر ایک بھی چھوٹ گیا (خواہ بھولے سے ہی چھوٹا ہو) تو نماز ادا نہیں ہوئی گویا پڑھی ہی نہیں

فرض کی دو اقسام ہیں

فرض عین(جس کا کرنا ہر ایک پر ضروری ہے اور جو کوئی اس کو بغیر کسی عذر کے چھوڑے  وہ مستحقِ عذاب اور فاسق ھے جیسے نمازِ پنجگانہ اور نماز جمعہ وغیرہ) ،

فرض کفایہ(جس کا کرنا سب پرضروری نہیں بلکہ اگر چند لوگ اداکرلیں تو سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا اور اگر ایک نے بھی نہ کیا تو سب گنہگار ہونگے جیسے نمازِ جنازہ

(۲)

واجب

واجب وہ ھے جو دلیلِ ظنی سے ثابت ھو ، اس کا بلا عذر ترک کرنے والا فاسق اور عذاب کا مستحق ھے بشرطیکہ بغیر کسی  تاویل اور شبہ کے چھوڑے۔ واجب کا درجہ فرض سے تھوڑا سا نیچے ہوتا ہے لیکن عملی طور پر یہ فرض کے برابر ہوتا ہے  جتناثواب فرض کا ہوتا ہے اتنا ہی واجب کا ہوتا ہے جتنا گناہ فرض چھوڑنے کا ہوتا ہے اتنا ہی واجب چھوڑنے کا ہوتا ہے  جان بوجھ کر چھوڑ دے تو فاسق سخت گنہگار اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے فرق یہ ہے کہ فرض کا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے لیکن واجب کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوتا بلکہ سخت گنہگار ھوتا ہے جہنم کے جس درجہ میں فرض چھوڑنے والا جلے گا اسی درجہ میں واجب چھوڑنے والا جلے گا

(۳)

سنت موکدہ

وہ ہے جس کو نبی ﷺ یا صحابہؓ نے ہمیشہ کیا ہواور بغیر عذر ترک نہ کیا ہو ، لیکن ترک کرنے والے پر کسی قسم کا زجر اور تنبیہ نہ کی ھو۔ عملی طور پر یہ واجب کے برابر ہے بلاعذر چھوڑنے والااور چھوڑنے کی عادت بنالینے والا گنہگار اور فاسق ہےاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رھے گا ۔ سنت موکدہ چھوڑنے کا گناہ واجب چھوڑنے کے گناہ سے کم ہے

(۴)

سنت غیر موکدہ؍ سنتِ عادیہ ؍ سنتِ زائدہ

وہ ہے جس کو نبی ﷺ یا صحابہؓ نے کیا ہواور بغیر عذرکے کبھی ترک بھی کیا ہو۔ اسکو کرنا ثواب ہے چھوڑ نے والا عذاب کا مستحق نہیں

(۵)

مستحب؍نفل؍مندوب ؍تطوع

وہ فعل ہے جس کو نبی ﷺ یا صحابہؓ نے کیا ہولیکن ہمیشہ اوراکثر نہیں بلکہ کبھی کبھی ۔ اسکو کرنا ثواب ہے  نہ کرنے والے پر گناہ نہیں

(۶)

حرام

یہ بھی مضبوط دلیل (دلیل قطعی )سے ثابت ہوتا ہے  اسکا انکار کرنے والا کافر ہوتا ہے۔ اسکو کرنے والا سخت گنہگار اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے۔نفس کے تقاضا کا وقت اس کو چھوڑنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ اس کا کرنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے

(۷)

مکروہ تحریمی

یہ کبیرہ گناہ ہوتا ہے درجہ میں حرام سے تھوڑا سا نیچے ہے کیونکہ اس کا انکار کرنے والا کافر نہیں ہوتا لیکن عملی طور پر حرام کے برابر ہوتا ہے جتنا گناہ حرام کا ہوتا ہے اتنا ہی مکروہ تحریمی کا ہوتا ہے  جان بوجھ کر کرنے والا فاسق سخت گنہگار اور عذاب کا مستحق ہوتا ہے جہنم کے جس درجہ میں حرام کرنے والا جلے گا اسی درجہ میں مکروہ تحریمی کرنے والا جلے گا۔کتبِ فقہ میں اگر کسی جگہ لفظ مکروہ لکھا ہو اور یہ نہ لکھا ہو کہ یہ مکروہ تحریمی ہے یا مکروہ تنزیہی تو وہاں مکروہ سے مراد مکروہ تحریمی ہوتا ہے

(۸)

مکروہ تنزیہی

وہ فعل ہے جس کے نہ کرنے میں ثواب ہو۔ اور کر نے میں عذاب نہ ہو۔ اسکا درجہ مکروہ تحریمی سے کم ہے۔ اگر کوئی بار بار مکروہ تنزیہی کی عادت بنالے تو وہ مکروہ تنزیہی بھی مکروہ تحریمی بن  جاتا ہے ۔

(۹)

مباح

وہ فعل ہے جس کے کرنے میں ثواب ہو اور نہ کرنے میں گناہ نہ  ہو۔ اس کو عام الفاظ میں جائز بھی کہہ سکتے ھیں۔