User Rating: / 0
PoorBest 

 

ٹی وی کے احکام

حوالہ:رسالہ‘‘ٹی وی کا زہر’’ مندرجہ احسن الفتاوی ج8 ص 306 سے اقتباس

ٹی وی اپنی موجودہ صورت میں ڈھول سارنگی اور بینڈ باجوں کی طرح لہوولعب کا ایک آلہ ہے بلکہ مفاسد کے لحاظ سے دیگر آلات معاصی سے بڑھ کر ضرر رساں وتباہ کن ہے ، اس لئے اس کا بیچنا، خریدنا، اجارہ پر دینا لینا، ہبہ کرنا، ہبہ میں قبول کرنا، مرمت کرنا، پاس رکھنا، اسکی تصویر دیکھنا دکھانا، یا ایسے مکان میں بیٹھناجس میں ٹی وی چل رہا ہو، یہ تمام کام حرام ہیں ۔

جس مسلمان کو اس کبیرہ گناہ سے توبہ کی توفیق ہو، وہ اسے توڑ پھوڑ کر ضائع کرے ، ہاں اس میں کوئی کل پرزہ اس قسم کا موجود ہو جو کسی دوسرے مباح کام میں آسکتا ہو تو اس کے نکال لینے میں مضائقہ نہیں۔ نیز جس شخص یا کمپنی سے ٹی وی خریدا تھا قیمت خرید یا اس سے کم پر اسے واپس بھی کیا جا سکتا ہے۔

( توڑنے کی بجائے اسے حفاظتی کیمرہ یا کمپیوٹر کے ساتھ جائز مقاصد کے لئے بھی استعمال کر سکتا ہے۔ البتہ اگر عامۃ الناس کی ترغیب کے لئے چوراہے کے بیچ  میں رکھ کر توڑ کر جلا دے تو انشا اللہ العزیز باعث ثواب ہوگا۔ راقم)

کوئی شخص کسی مسلمان کا ٹی وی توڑ دے تواس پر ضمان نہیں ، مگر فتنہ کا اندیشہ ہو تو توڑنا جائز نہیں۔

جو لوگ ٹی وی ، وی سی آر اور تصاویر کا کروبار کرتے ہیں ان کی کمائی حرام ہے، لہذا ان سے لین دین، ان کی دعوت کھانا، ہدیہ لینا، غرض کسی شکل میں بھی ان کے مال سے انتفاع جائز نہیں۔

چونکہ ٹی وی آلہ لہوولعب ہے ، اس لئے اس میں حج کے مناظر ، آذان ، تلاوت، حمدونعت اور دوسرے کسی قسم کے دینی پروگرام نشر کرنا ناجائز اور قطعی حرام ہے، اس گناہ کو نیکی تصور کرنے میں کفر کا اندیشہ ہے۔۔

جو شخص مذکورۃ الصدر گناھوں میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہو وہ فاسق ہے، لہذا اس کی آذان واقامت مکروہ(تحریمی۔راقم) ہے۔ اسے باختیار خود امام بنانا جائز نہیں، اگر بن گیا تو فرض نماز اس کی اقتداء میں ادا کرنا درست ہے، بشرطیکہ امامت کی دوسری شرائط اس میں پائی جاتی ہوں ۔

تراویح اور وتر اس کی اقتداء میں جائز نہیں۔ اس کی شہادت مردود ہے۔

ایسے مخصوص مقامات جہاں دور حاضر میں ٹی وی کا استعمال ناگزیر ہے، جیسے حفاظتی تدابیر، ایٹمی تنصیبات، سائنسی مراکز، ڈاکٹری کی مہارت کے لئے عملی تجربات، ایسے مواقع میں بوقت ضرورت بقدر ضرورت جائز ہے۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم