Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انشورنس   ؍ بیمہ

احسن الفتاوی ج7 ص24 ،25کا  فتوی

بیمہ کی مختلف اقسام ہیں ، ان میں سے زندگی کا بیمہ ناجائز ہونے کی یہ وجوہ ہیں

( ۱ )

جو رقم بالاقساط ادا کی جاتی ہے وہ بیمہ کمپنی کے ذمہ قرض ہے اور اس پر جو زائد رقم ملتی ہے جس کو منافع سے تعبیر کرتے ہیں، وہ سود ہے۔کل      قرض جر نفعا فھو ربوا

اس لئے زندگی کا بیمہ قطعا ناجائز ہے ۔

(2)

بیمہ کا کاروبار مشروط بالشرط ہوتا ہے اور قرض مشروط حرام ہے۔

قال      الامام طاھر بن عبدالرشید البخاری رحمہ اللہ تعالی:  وفی کفالۃ الاصل فی الباب الاخیر القرض بالشرط حرام     والشرط لیس بلازم ۔  (خلاصۃ الفتاوی ص54 ج3

(3)

بیمہ مئوجل ہوتا ہے اور قرض میں تاجیل صحیح نہیں ۔

قال        الامام المرغینانی رحمہ اللہ تعالی :  فان تاجیلہ لا تصح (الی قولہ) وعلی اعتبار الانتہائ لا یصح لانہ یصیر بیع الدراھم بالدراھم نسیئۃ وھوالربوا۔ (ھدایۃ ص76 ج 3

(4)

کمپنی والے اس رقم سے لوگوں کے ساتھ سودی معاملہ کرتے ہیں تو بیمہ کرنے میں گناہ پرتعاون ہوگا۔

قال اللہ تعالی:وتعاونو  ا         علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔

و       اللہ سبحانہ وتعالی اعلم

گاڑی کا بیمہ

اگر قانونی طور پر بیمہ لازم ہوتوچونکہ گاڑی کے مالک کی طرف سے بیمہ کا معاھدہ بطیب خاطر نہیں بلکہ حکومت کی طرف سے یکطرفہ جبرو ظلم ہے  لہذا بوقت ضرورت گنجائش ہے لیکن بصورت حادثہ جمع کردہ رقم سے زائد واجب التصدق ہے۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

علاج کیلئے بیمہ کروانا بھی جائز نہیں۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

جامعہ اشرفیہ لاھور کا فتوی

بیمہ کی مختلف اقسام ہیں ، جو سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے حرام ہیں، اور بیمہ زندگی کے حرام ہونے کی کئی وجوہ ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں

(۱)

جو رقم بالاقساط ادا کی جاتی ہے وہ کمپنی کے ذمہ قرض ہے اور اس پر جو زائد رقم ملتی ہے (جس کو منافع سے تعبیر کرتے ہیں) وہ سود ہے۔ حضور   ﷺ  کا فرمان ہے

کل    قرض جر نفعا فھو ربوا

(۲)

کمپنی والے اس رقم سے لوگوں کے ساتھ سودی معاملہ کرتے ہیں تو بیمہ کرنے پر گناہ کا تعاون ہوگا۔ ارشادِ ربانی ہے

وتعاونوا   علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان

اگر اس مسئلہ کی تفصیل مطلوب ہوتو مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی کی کتاب ’’بیمہ زندگی‘‘ ملاحظہ فرما لی جائے۔

فقط واللہ اعلم

کتبہ شاہد عبید عفی عنہ


الجواب صحیح دارالافتاء ، جامعہ اشرفیہ ، لاہور

دائود احمد عفی عنہ ۲۹؍ ربیع الثانی ۱۴۳۱ھ ؍ ۱۴؍ اپریل۲۰۱۰ء