Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انعامی بانڈز خریدنا

احسن الفتاوی ج7 ص 26 کا فتوی

جائز نہیں، سود اور جوا کا مجموعہ ھے  اور حرام در حرام ھے۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

تسہیل بہشتی زیور ص 176 ج  2، کا فتوی

انعامی نابڈز کی حقیقت یہ ھے کہ حکومت عوام سے قرض لیتی ھے اور بانڈز کے نام سے قرض کی رسید جاری کرتی ھے ، قرض دینے پر لوگوں کوآمادہ کرنے کیلئے  حکومے نے یہ اسکیم بنائی ھے کہ پرائز بانڈ خریدنے والوں کو  ان کی اصل رقم کی واپسی کے ساتھ کچھ اضافی رقم بھی بنام انعام دی جاتی ھے ،لیکن تمام قرض دھندگان کو نہیں بلکہ وہ رقم بذریعہ قرعہ اندازی بعض خریداروں کو دی جاتی ھے ، اس میں جو رقم ملتی ھے وہ یقینی سود ھے، اس لئے ایسا معاملہ کرنا حرام اور ناجائز ھے۔