Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پراویڈنٹ فنڈ پر زکوۃ اور سود کا حکم

احسن الفتاوی ج7 ص  37 کا فتوی

(1)

پراویڈنٹ فنڈ کی رقم وصول ھونے سے قبل اس پر زکوۃ فرض نہیں۔

وصول ھونے کے بعد بھی گذشتہ سالوں کی زکوۃ فرض نہیں۔

آئندہ کیلئے یہ تفصیل ھے

اگر یہ شخص پہلے سے صاحب نصاب ھے تو اس نصاب پر سال پورا ھونے سے اس کے ساتھ اس رقم کی بھی زکوۃ ادا کرنا فرض ھو جائے گا۔

اور اگر پہلے سے صاحب نصاب نہیں مگر پراویڈنٹ فنڈ کی رقم ملنے سے صاحب نصاب ھو گیا تو تو قمری مہینہ کی جس تاریخ میں یہ رقم ملی ھے اس کے بعد ایک سال گزرنے پر زکوۃ ادا کرنا فرض ھے ۔

(2)

پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی جمع شدہ تنخواہ سے زائد ملنے والی رقم حلال ھے ، جو ماھانہ کٹوتی میں جمع کی جاتی ھے وہ بھی اور جو مجموعہ پر سود کے نام سے جمع ھوتی ھے وہ بھی،  یہ شرعا سود نہیں۔

(3)

اگر پراویڈنٹ فنڈ کی رقم کسی بیمہ کمپنی کے حوالہ کر دی گئی تو اس پر زکوۃ فرض ھوجائے گی، اس تفصیل کے مطابق جو اوپر نمبر 1 میں فنڈ وصول ھونے کے بعد سے متعلق لکھی گئی ھے۔

اس صورت میں بیمہ کمپنی سے ملنے والا سود حرام ھے۔