Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

بے دین معاشرہ کے دین داروں کےلئے فتوی نمبر 2

بسم             اللہ الرحمن الرحیم

استفتاء

محترمی ومکرمی حضرت !السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان دین متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں

سوال  1

میری ھمشیرہ کی  شادی ہونے والی ہے جس میں ہر طرح کی خرافات ہوںگی مثلاً  گانا‘ باجا ‘ تصویر سازی فلم سازی ‘ بے پردگی ‘ مردوں عورتوں کا آزادانہ اختلاط، فضول رسومات وبد عات وغیرہ جیسا کہ آجکل کی شادیوں میں ہوتا ہے۔ گھر میںسارا کام مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ میرے والدین بھی اصرار کریں گے اور نہ ماننے پر والدین کا نافرمان اور پتہ نہیں کیا کیا کہیں گے۔ پوچھنا یہ کہ کیا میرے لیئے اس شادی میں جانا شرعا جائز ہے؟اگر والدین حکم دیں تو کیا حکم ہے؟

سوال 2

میر ے تمام رشتہ دار دین سے دور ہیں۔ ان کے گھر وں میں ٹی وی‘ وی سی آر‘ جانداروں کی تصاویر وغیرہ ہیں عورتیں پردہ بھی نہیں کرتیں ‘ بعض نیم عریاں کپڑ ے اور چھنکتازیو ر پہنتی ہیں۔ بعض رشتہ دار بینک میں ملازم ہیں۔ بعض بینک میں رقم رکھ کر منافع کی رقم یعنی سودکھاتے ہیں۔ بعض کی کمائی حرام ہے جیسے بینک ملازم ۔ پوچھنا یہ ہے کہ ان کے گھروں میں جانے کا کیا حکم ہے؟میں ان کو اپنے گھر آنے سے نہیں روکتا مگر ان کے گھر نہیں جانا چاہتا کیونکہ کوئی نہ کوئی گناہ لازمی ہو گا مثلا بد نظری وغیرہ ۔ وہاں ٹی وی  بھی چلے گا‘ گانا بھی ‘ نامحرم مردوں عورتوں کا آزادانہ اختلاط بھی ہوگا۔ وہ ہنس ہنس کر باتیں بھی کریں گے اور مجھے غصہ بھی آئے گا۔ اگر میں نہیں جاتا تو والدین اور دوسرے رشتہ دار ‘ دوست احباب وغیرہ کہیں گے کہ یہ قطع رحمی ہے۔ اس پر قرآن کی آیات اور احادیث جو والدین اور رشتہ داروں سے صلح رحمی وقطعی رحمی کے متعلق ہیں،سنائی جاتی ہیں۔میں کہتاہوں کہ میں ان کو اپنے گھر آنے سے نہیں روکتا مگر ان کے گھر نہیں جاتاکہ ان کے گھر جانے میں طرح طرح کے گناہ ہیں مثلا بدنظری ‘ عورتوں سے اختلاط ‘ اگر ان کی کمائی حرام کی ہے جیسے بینک ملازم تو ان کے گھر جانے میں گھنٹی بجانے‘ پنکھا کی ہوا‘ کھانا وغیرہ سب حرام یا اگر وہ ہمارے گھر آئیں تو ان کے بیچ نہیں بیٹھتا ( کیونکہ نا محرم مردعورت آزادانہ ہنس ہنس کر باتیں کرتے اور اکٹھے بیٹھتے ہیں) کہ یہ جائز نہیں کیونکہ جو ڑ پیدا کرنے کیلئے اﷲ تعالیٰ اور رسول ﷺ کی نافرمانی جائز نہیں ۔ نہ میں ان کے گھر وں میں جانا چاہتا ہوں نہ کسی تقریب میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے لیئے یا کسی بھی شخص کیلئیے ایسے رشتہ داروں کے گھر وں یا تقریبات میں جانا شرعاجائز ہے؟ اگر والدین حکم دیں تو کیا حکم ہے؟ اگر کوئی نہیں جاتا تو یہ قطع رحمی میں تو نہیں آتا؟ مفصل جواب مرحمت فرماہیں۔

سوال 3

حوالہ امداد الفتاوی ص۱۹۶ ج ۴ مطبوعہ دارالعلوم کراچی۔ سرخی(ہیڈنگ) فاسق عورتوں کو گھر آنے سے روکنا۔

پوچھنا یہ ہے کہ اگر کسی کے رشتہ دار ،دوست وغیرہ فاسق ہوں مثلا ڈاڑھی ایک مٹھی سے کم کرنے والے، شرعی پردہ نہ کرنے والے، مرد ٹخنے ڈھانکنے والے، بلا ضرورت شرعی کسی جاندار کی تصویر کھینچنے،کھنچوانے، دیکھنے، رکھنے اور تصویر والی جگہ جانے والے۔گانا باجا سننے والے،ٹی وی دیکھنے والے، حرام کھانا جیسے بینک اورانشورنس وغیرہ کی کمائی کھانے یا ایسے لوگوں کی دعوت، تحفہ وغیرہ قبول کرنے والے،غیبت کرنے اور سننے والے وغیرہ وغیرہ۔ان لوگوں کو گھر میں آنے سے اس شرط سے روکنا کہ اگر شرعی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ملیں تو اجازت ہے ورنہ نہیں تو کیا یہ شرعا درست ہے ؟ صحبت کا اثر آپ بہتر جانتے ہیں۔ شرعی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنے سے مراد یہ ہے کہ شرعی لباس، پردہ وغیرہ کا خیال رکھیں۔نامحرم مرد و عورت آزادانہ ہنس ہنس کر باتیں کرنے اور اکھٹے بیٹھنے اور دوسری تمام غیر شرعی حرکات سے پرہیز کریں۔

واللہ  تعالی ہو الموفق وہوالمستعان ولا حول ولا قوۃ الا بہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب    باسم ملہم الصواب

(۱)

دارالافتاء والارشاد، ناظم آباد ۴ کراچی ؛ فتوی نمبر ۳۵۵؍ج ۴۱

(۱)

جب آپ کو معلوم ہے کہ بہن کی شادی میں مذکورہ حرام کام ہونگے تو آپ کے لئے اس میں شرکت کرنا جائز نہیں۔ اور آپ کے لئے والدین کی ایسی باتوں کاماننا بھی جائز ہیں ‘ البتہ ان کا  موںکا انتظام کرنے کے سوا اور ان خرافات میںشریک ہوئے بغیر آپ کوئی کام کرسکتے  ہوں تو والدین کا ہاتھ بٹا سکتے ہے۔

وفی   الدر المختار: دعی الی ولیمۃ وئمۃ لعب اوغناء اہ وفیہ :وان علم اولاً باللعب لا یحضرا    صلا سواء       کان ممن یقتدی بہ  اولا۔ (ج۶ص ۳۴۸

(۲)

جب آپ کے رشتہ دار بے دین ہیں اور آپ کو ان کے گھر جانے سے مذکورہ حرام چیزوں میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے تو آپ کے لئے وہاں پر جانا ( چاہے تقریب ہو یا بغیر تقریب کے) جائز نہیں۔ اس میں بھی والدین کی بات کو نہ مانیں‘ اس سے قطع رحمی کا گناہ نہ ہوگا۔ گھر سے باہر باہر ان رشتہ داروں کے ساتھ رویہ اچھا رکھیں۔

وفی       الھندیۃ : لا یجیب دعوۃ الفاسق المعلن؛  لیعلم انہ غیر راض بفسقہ‘ وکذا دعوۃ من کان غالب مالہ حرام مالم یخبر انہ حلال          ۔ و کذاآکل الربا و کاسب الحرام اہدی الیہ شی ء و غالب مالہ حرام لا یقبل (ج ۵ ص ۳۴۳

وفی               الشامیۃ: لودعی الی دعوۃ فالواجب الا جابۃ ان لم یکن ہناک معصیۃ ولا بد عۃ ‘ والا متناع اسلم فی زماننا الااذاعلم      یقیناً    ان           لا بد عۃ ولا معصیۃ اہ۔۔۔۔۔۔۔۔وفیہ ‘ واظا ہر حملہ علی غیر الولیمۃ  (ج۶ص۳۴۸

و فی  الحدیث: لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اللہ۔ (طبرانی ج۱۸ ص۱۶۵

(۳)

آپ پر فرض ہے کہ اپنے اورماتحت افراد کی دینداری کاخیال رکھیں‘ لہذا آپ کو یہ حق ہے کہ گھر میں آنے والے مہمان کے لئے مذکورہ شرط لگائیں ‘ لیکن اس میں حکمت اور نرمی وخیرخواہی کا پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہئے ۔

وفی          الدر المختار: ولا یکلم الا جنبیۃ الا عجوزا عطست او سلمت، فیشمتھا و یرد السلام علیھا، و الا لا۔ و کذا الخلوۃ با      لاجنبیۃ حرام (ج۶ص ۳۶۸

کتبہ عبید اللہ

الجواب صحیح    محمد

الجواب صحیح محمد شاہ

(۲)

جامعہ    اشرفیہ لاہور : فتوی نمبر ۱۲؍۱؍۸

۱۔۲

ایسی جگہوں یا تقریبات میں جانا جہاں پر بد عات ورسومات اور دیگر لھو ولعب کا پہلے سے علم ہو ،جائز نہیں

اگر چہ والدین کا حکم ہو۔

وان       کان ہناک لعب وغناء قبل ان یحضر فلا یحضر لانہ لا یلزمہ الا جابۃ اذکان ہناک منکر لماروی عن علی رضی اﷲ عنہ    قال           صنعت للنبی ﷺ  طعا ماً فد عوتہ لہ فحضر فرا یٰ فی البیت تصاویر فرجع وعن ابن عمر رضی اﷲ عنھما قال نھی النبی   ﷺ     عن مطعمین عن الجلوس علیٰ مائدۃ یشرب علیھا الخمر وان یا کل وہو منسطح رواہ ابو داؤد ( بحرالر ائق ص ۱۸۱ج۸) واما         اذاعلم قبل الحضور فلا یحضر لانہ لا یلزمہ حق الدعوۃ بخلاف مااذاہجم علیہ لانہ قدلزمہ کذافی السراج  الو ہاج(فتاوی  ہندیہ ۳۵۳ج۵

(۳)

اپنی یا دوسروں کی اصلاح کی غرض سے فاسق لوگوں سے ملنے پر پابندی لگا نا جائز ہے۔

کتبہ عبدالحنان

الجواب صحیح حمید اللہ جان

(۳)

دارالعلوم کبیر والہ؛ فتوی نمبر ۱۲۴۵۸

جہاں گناہ کو روکنے کا اختیار ہو وہاں تو منع کرے اور جہاں اختیار نہیں ہے تو اپنے آپ پر تو اختیار ہے ۔ لہذا گناہ کے مواقع پر شریک نہ ہوں۔ باقی رہا والدین کے حقوق یہ وہاں ہوتے ہیں ،جہاں شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو کیونکہ حدیث پاک میں ہے

لا    طاعۃ لمخلوق فی معصیۃا لخالق ۔

تاہم ان صبر آزما مواقع میں تحمل اور حکمت سے کا م لینا از حد ضروری ہے۔

کتبہ محمد افضل

الجواب صواب حامد حسن

(۴)

جامعہ دارالعلوم کراچی نمبر ۱۴؛ فتوی نمبر ۱۲؍۵۲۸

( ۱-۲-۳)

آپ کے سوالوں کو بغور پڑھا گیا آپ کا دینی جذبہ اور گنا ہوں سے بچنے کی فکر یقینا لائق تحسین ہے اﷲ تعالیٰ استقامت نصیب فرمائے۔

جہاں تک آپ کے ذکرکردہ مسائل کاتعلق ہے تو اس سلسلہ میں اصولی بات یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی کسی بھی صورت میں جائز نہیں اسلئے آپ اپنے والدین ‘ بھائی ‘ بہن اور دیگر اقارب واحباب کی خواہش پر کسی ایسے کام میں شرکت نہ کریں  جو شرعاً ناجائز ہو بلکہ ایسے موقع پر نہایت ادب واحترام کے ساتھ ان سے معذرت کرلیں البتہ یہ یاد رکھیں کہ قطع رحمی بھی ایک بڑا گنا ہ ہے جس سے بچنا ضروری ہے اس لئے گناہوں سے بچتے ہوئے جس قدران کی خوشیوں میں شریک ہو سکتے ہیں، ان کی خدمت کر سکتے ہیں بلکہ اسمیں کمی نہ کریں اور حدود شرع  کے اند رہتے ہوئے رشتہ داروں کے گھر میں بھی آمدو رفت جاری رکھیں اور بہن کی شادی کے انتظاما ت میں بھی جس حدتک جائز کاموں میں تعاون ممکن ہو گھر و الوں کے ساتھ تعاون کریں البتہ جہاں گناہوں میں مبتلا ہو نیکا قوی اندیشہ ہو اس سے پر ہیز کریں اور حکمت و دانشمندی کے ساتھ اپنے اعزہ،اقارب اور احباب کو گناہوں سے بچانے کی کوشش کرتے رہیں،کو ئی نہ مانے تو اس سے نہا لجھیں اور نہ غصہ میں آئیں بلکہ صرف سلیقہ کے ساتھ حق بات بتا کر خا موشی اختیار کرلیں اور اﷲ تعالی سے انکے حق میں اور ماحول کی بہتری کیلئے دعاء کریں۔

کتبہ ضیاء الرحمن

الجواب صحیح محمود اشرف

الجواب صحیح محمد عبدالمنان

(۵)

جامعہ دارالعلوم مدنیہ، بہاولپور

(۱-۲)

واضح رہے کہ اگر آپ مکمل شرعیت کی پابندی کرتے ہیں تو پھر دنیا کی اس تمام لغویات اورفواحشات کو ترک کرنا ضروری ہے۔ اس لیئے کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔ کہ ایک وقت آئے گا کہ دین پر چلنا آگ کے انگاروں کو مٹھی میں لینے سے زیادہ مشکل ہوگا۔ یہ وہی زمانہ ہے ۔جو شخص دوزخ کے انگاروں سے بچنا چاہتا ہے۔ اسے دنیا کے ان انگاروں پر لوٹنا ہوگا۔ اور جو شخص دنیا کے ان انگاروں سے گھبراتا ہے اسے دوزخ کے انگاروں کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ اسی طرح والدین کی فرما برداری ضروری ہے مگر اس وقت کہ جب اﷲ اور اﷲ کے رسول ﷺ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ ہوتی ہو ورنہ خدا  او ر رسولﷺ کی نافرمانی کرکے کسی کی اطاعت کرنا جائز نہیں؛ نہ ہی والدین کی اور نہ کسی اور کی۔

(۳)

رشتہ داروں کا آپس میں قطع تعلق کبھی تو ایک فریق کی بے دینی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور کبھی دنیوی مفادات کی وجہ سے ۔پس اگر قطع تعلق دین کی بنیاد پر ہے تو صرف وہ فریق گہنگار ہو گا جس کی بے دینی کی وجہ سے قطع تعلق ہوا۔ بشر طیکہ دوسرا فریق اس قطع تعلقی کے باوجودان کے ضروری حقوق ادا کرتا رہے۔  ہماری شرعیت کی تعلیم یہ ہے جو حدیث میں فرمائی گئی ہے۔

صل   من قطعک (مسند احمد ص۱۵۸ج۴ )

کہ جو شخص تم سے رشتہ داری کے حقوق ادا نہ کرے تم اس کے ساتھ بھی صلہ رحمی کروا اور سکے رشتہ کے حقوق بھی ادا کرو  ورنہ قطع رحمی کا وبال جس طرح اس پر پڑے گا تم پر بھی پڑے گا۔ بحوالہ آپکے مسائل اور انکا حل  ج۷ ص۲۰۷

کتبہ احمد سفیان

الجواب صحیح عطاالرحمن

(۶)

جامعۃ  العلوم الاسلامیہ،علامہ بنوری ٹاون کراچی

(۱)

مذکورہ استفتاء میں ذکر کردہ سوال اول کا جواب گزشتہ استفتاء کے جواب کے ذیل میں ذکر کیا جا چکا ہے مزید دہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی لہذا مذکورہ استفتاء میں صرف سوال دوئم وسوئم کے جوابات تحریر کئے جاتے ہیں۔

(۲)

واضح رہے کہ کسی بھی مسلمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ ایسے مقامات پر حاضر ہو جہاں بے پردگی بے دینی فحاشی بدنظری وغیرہ امور کا ارتکاب ہوتا ہو مئو من کی ایک صفت قرآن مجید میں یہ بھی بیان کی گئی ہے وہ لغوباتوں سے لغوامور سے اجتناب کرتا ہے اسلیئے صورت مسئولہ میں ایسے مقامات پر جانا جہاں مذکورہ بالا امور ہوتے ہوں شرعاً جائز نہیں ہے۔

اگر والدین اصرار کریں تو ادب واحترام کے ساتھ معذرت کرلی جائے جیسا کہ پہلے لکھا گیا ہے کہ گناہوں کے کام میں والدین کا کہنا ماننا ضروری نہیں اسی طرح ایسے رشتہ داروں کے گھر نہ جانا جو حرام کی کمائی سے گزر بسر کرتے ہیں قطع تعلق کے زمرے میں نہیں آئیگا۔

(۳)

جی ہاں ان لوگوں کو گھرمیں اس شرط پر اجازت دینے ہیں کوئی قباحت نہیں کہ وہ شرعی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے داخل ہوں لیکن یہ اس وقت جب سائل کو ان لوگوں کو روکنے کی طاقت ہو اور اگر سائل کو ان لوگوں کو روکنے کی طاقت نہ ہو مثلا والدین اجازت دیتے ہو جیسا کہ معلوم ہوتا ہے کہ سائل گھر کا سربراہ نہیں بلکہ والدین ہیں تو سائل پر کوئی گنا ہ نہیں ہو گا سائل ایک طرف ہو جائے۔

کتبہ گل بادشاہ مسعود

الجواب صحیح  محمد عبدالقادر

الجواب صحیح محمد عبدالمجید دین پوری

(۷)

جامعہ  فاروقیہ کراچی ؛ فتوی نمبر ب۷؍۵۲

(۱)

شریعت مطہر ہ میں والدین کیساتھ نیکی اور احسان کرنے کی جو تاکید آئی ہے کسی اور مذہب میں نہیں ہے اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں مختلف مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی تاکید  فرمائی ہے چنانچہ قرآن کریم میں ہے۔

و        اذا    خذنامیثاق بنی اسرائیل لا تعبدون الا اﷲ وبا لوالدین احساناً وذی القربیٰ  والیتمی والمسٰکین    وقولوللنا س حسناً           وا قمیوا    الصلوۃ         واتو الز کوٰۃ ۔۔۔  (الایۃ

ترجمہ:-

اور جب ہم نے لیا اقراربنی اسرائیل سے کہ عبادت نہ کرنا مگر اﷲ کی اور ماں باپ سے نیک سلوک کرنا اور کنبہ والوں سے اور مسکینوںاور محتاجوں سے اور کہو سب لوگوں سے نیک بات اور قائم رکھیو نماز اوردیتے رہو زکوٰۃ۔

صاحب تفسیرمعارف القرآن مذکورہ آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ احکام اسلام اور سابقہ شریعتوں میں مشترکہ ہیں جن میںتوحید‘ والدین اور رشتہ داروں اوریتیموں اور مسکینوں کی خدمت اور تمام انسانوں کیساتھ گفتگو میں نرمی دخوش کرنا اور نماز اور زکوۃ سب داخل ہیں‘‘۔

حضور اکرم ﷺ نے بھی مختلف احادیث میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔

قال    رسول اﷲﷺ ان اﷲ حرم علیکم عقوق الا مہات - ( مشکوۃ ج ۲/۴۱۹

ترجمہ :-

آپ ﷺ نے فرمایا۔بے شک اﷲ تعالی نے تم پر ماؤوں کی نافرمانی کوحرام کیاہے

لیکن ان تاکید ات  کے باوجود بھی اگر والدین کسی نافرمانی کا حکم دیں تو اس کو نہیں مانا جائے گا  جیسا کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

وان  جاہدک ان تشرک بی مالیس لک بہ علم فلا تعطعہما و صاحبھما فی الدینا معر وفاً (الایۃ

ترجمہ:- ’’اگر وہ دونوں تجھ سے اڑیں اس بات پر کہ شریک مان میرا اس چیز کو جو تجھ کو معلوم نہیں تو ان کا کہنا مت مان اور ساتھ دے ان کا دنیا میں دستور کے مطابق‘‘ ۔

معارف القرآن میں مذکورہ آیت کے تحت مذکورہے۔

’’ والدین کی شکر گزاری اور اطاعت فرض ہے مگر حکم الہٰی کے خلاف کسی کی اطاعت جائز نہیں‘‘

آپ ﷺ نے فرمایا ۔

لا       طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق۔ (فیض القدر : ج۱۲ ؍۶۴۸۵

ترجمہ:-

مخلوق کی اطاعت اﷲ کی نافرمانی میں جائزنہیں‘‘۔

لہذا آپ کیلئے  اس شادی میں جانا شرعاً درست نہیں ۔

(۲)

اسلام میں جس طرح کہ عورت کو پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اسی طرح مرد کو بھی نظرجھکانے اوراجنبیہ سے بلا ضرورت بات نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، ارشاد خداوندی ہے

قل        للمومنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم۔(الایۃ

ترجمہ:

اے نبیﷺمومنین سے کہ دیجئے کہ اپنی نظروں کو جھکائیں اور اپنے شرمگاہوں کی حفاظت کریں

وقال  العلامہ الحصکفیؒ: وفی الشرمنبلا لیۃمعز یا للجوھرۃ:’’ولا یکلم الاجنبیۃ الاعجوزااعطست اوسلمت۔۔۔         الخ (الشامیۃ،ج۱ص۲۷۲

لہذا جب ان کے گھروں میںجانے کی وجہ سے اگر بے  پردگی کی وجہ سے گناہ کا اندیشہ ہو تو اجتناب کیا جائے اور یہ شریعت کی رو سے قطع تعلق میں شمار نہ ہوگا۔

(۳)

شریعت کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ان لوگوں کو گھر میں آنے سے اس شرط سے روکیں کہ ’’اگر شرعی تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ملیں تو اجازت ہے ،ورنہ نہیں‘‘ شرعا درست اور جائز ہے۔

 

کتبہ روح الامین

الجواب صحیح منظور احمد مینگل

 

الجواب صحیح محمد یوسف


 

واللہ        سبحانہ وتعالی اعلم