Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

بے دین معاشرہ کے دین داروں کےلئے فتوی نمبر 1

بسم         اللہ الرحمن الرحیم

استفتاء

محترمی ومکرمی حضرت !السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ ۔ کیا فرماتے ہیںعلمائے دین ومفتیان دین متین مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں

سوال  1

میں۔۔۔۔شہر میں پڑھتاہوں۔ میرا گھردوسرے شہر میں ہے۔ گھر میں کوئی کمرہ ایسا نہیں ہے جہاں کسی جاندار کی کوئی تصوریر نہ ہو۔ حتی کہ غسل خانے میں بھی جانداروں کی تصاویر کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔ گھر میں ٹی وی ‘ وی سی آر بھی ہیں جن میں گانے  اور دوسری خرافات سے آپ واقف ہیں۔ گھروالوں نے بغرض حفاظت کتا بھی رکھا ہوا ہے‘  مگر اسے اندر کمروں میں بھی لے آتے ہیں۔ گھرمیں آتے ہی مندرجہ بالا وجوہات کی نحوست کی وجہ سے میرے تمام دینی معمولات چھوٹ جاتے ہیں‘ جماعت کی نماز چھوٹ جاتی ہے۔ اور بعض اوقات  نماز قضا بھی ہو جاتی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا میرے لئے اس گھرمیں جانا شرعا جائز ہے؟ اگر والدین حکم دیں تو کیا حکم ہے؟ اگر گھر میں ایک کمرہ میرے لیئے مخصوص کر دیا جائے‘  جوان سب چیز وں سے پاک ہوتو کیا اس شرط سے میرے لیئے جواز ہے کہ میں اس کمرے کے علاوہ گھر کے دوسرے حصوںنہ جاؤں ؟

سوال 2

شرعاوالدین کو نساحکم ماننا اور کونسا حکم نہ ماننا ضروری ہے؟ مثلااگر والدین میں سے دونوں یا کوئی ایک گانے کی آواز بلند کرنے یاٹی وی ‘ وی سی آر لگانے ‘ مرمت کرنے یا کروانے کو کہے یا کسی ایسے عزیز ‘ رشتہ دار وغیرہ کے گھر جانے کو کہے جس کے گھر میں جانداروں کی تصادیر ‘ ٹی وی ‘ وی سی آر ہو یاجن کی کمائی حرام ہو جیسے بینک ‘ انشورنس ‘ رشوت کی کمائی یا ان کے گھر جانے میں بدنظری وغیرہ ہونے کا اندیشہ ہو۔ یا وہ والدہ ‘ بہن کو بازار وغیرہ لے جانے کو کہیں حالانکہ کوئی شرعی حجت یا مجبوری  نہ ہواور وہ پردہ بھی نہیں کرتیں تو کیا حکم ہے؟ یا وہ کہیں کہ نماز گھر پڑھ لو کہ ہم نے کسی کے گھر یا بازار یا ہوٹل وغیرہ جانا ہے تو کیا  جماعت چھوڑنے کی اجازت ہے جبکہ کوئی اور شرعی حجت یا مجبوری نہ ہو؟ اس پر قیاس کرکے ‘ اگر وہ کوئی بھی ایسا حکم دیں کہ جس کے جواز نہ ہونے پر فتوی ہو تو ایسے تمام کاموں یا باتوں میں ان کا حکم مانا جائے یانہ مانا جائے؟

سوال 3

حدیث شریف میں ہے کہ گناہ کو ہاتھ سے روکنا افضل درجے کے ایمان کی نشانی ہے۔ (جبکہ استطاعت ہو) اگر والدین کو ئی غیر شرعی کام کریں توکیا ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کو روک دیا جائے؟ مثلا والدین بیٹے کے ساتھ رہتے ہوں اور بیٹا گھر سے ٹی وی‘ وی سی آر وغیرہ نکال دیا ورگانا وغیرہ نہ سننے دے اور کوئی اس پر قیاس کرکے باقی باتوں میں بھی توا س کا کیا حکم ہے؟

واﷲ  تعالی ہوالموفق وہوا لمستعان ولا حول ولا قوۃ الابہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب                باسم ملہم الصواب

(۱)

دار  الافتاء والارشاد،ناظم آباد ۴ کراچی؛فتوی نمبر ۴۵۹؍ج ۴۱

(۱)

آپ پر خود مذکورہ منکرات سے بچنا اور اپنی استطاعت کے مطابق ان منکرات کو ختم کرنے کی کوشش کرنالازم ہے۔ والدین اگر منکرات کرنے کا حکم بھی دیں تو والدین کا یہ حکم ماننا جائز نہیں‘ البتہ اگر آپ کے والدین آپ کے لئے ایک کمرہ  مخصوص کرتے ہیں جو مذکورہ منکرات سے خالی ہوتو اس میں آپ رہ سکتے ہیں‘ بلکہ یہی صورت بہت بہتر ہے اس طرح آپ بالکل لاتعلق بھی نہیں رہیں گے کہ ان کو حسب استطاعت منکرات سے روکنے کا فریضہ چھوٹ جائے۔

عن        ابی سعید رضی اﷲ عنہ: ان رسول اﷲ ﷺ قال: من رای منکم منکر ا ‘ فلیغیرہ بیدہ ‘ فان لم یستطع ‘ فبلسانہ ‘ فان لم یستطع فبقلبہ        و ذلک اضعف الا یمان ( مسلم ج ا ص ۵۱

وفی             الا مربالمعروف والنھی عن المنکر: یشترط فی الآ مر بالمعروف والناھی عن المنکر ان یکون قادر اعلی الاء     مر بالمعروف والنھی عن المنکر ‘ فان کان عاجزاً ‘ فلایجب علیہ الا الا نکار بالقلب ۔ وفیہ : والحق العلماء بالعجز : الخوف       من اصابۃ المکروہ ‘ او ان یودی الامر والنھی الی منکر اشد ( للاامام                  الحافظ عبدالغنی بن عبدالواحد : ص۵۷

(۲)

اگر والدین کسی بھی شرعی حکم کے خلاف حکم دیں تو ان کاحکم ماننا جائز نہیں‘ لہذا آپ کے والدین اگر بغیر کسی شرعی حاجت ومجبوری کے گھر سے باہر جانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ تو آپ کے لئے ان کی خاطر جماعت کی نماز جوواجب ہے چھوڑنا جائز نہیں ۔ حدث میں ہے۔

لا       طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ اﷲ

یعنی اللہ تعالی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائزنہیں ( طبرانی ص ۱۶۵ ج ۱۸

وفی    التنویر وشرحہ : والجماعۃ سنت موکدۃللرجال ۔ قال الزاہدی: ا را دوابالتاکید الوجوب ۔ وفی الشامیۃ تحتہ : الجماعۃ       واجبۃ (ج اص ۵۵۲

(۳)

ادب واحترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے صرف زبان سے روک سکتے ہیں اگر وہ نہیں رکتے تو صبر کریں اور ان کے لئے دعا واستغفار کریں۔

وفی      الشامیۃ : اذارای  منکر امن والدیہ یا مرہما مرۃ ‘ فان قبلا‘ فبھا وان کرہا سکت عنھما واشتغل بالدعاء لھما۔(ج۴ص۷۸

کتبہ عبید اللہ

الجواب صحیح حبیب اللہ

الجواب صحیح محمد شاہ

(۲)

جامعہ اشرفیہ ،شارع فیروزبور لاہور؛ فتوی نمبر ۱۱؍۱؍۸

(۱)

آپکے لئے گھر میں سے ایک کمرے اپنے لیئے مخصوص کرنا جو تصاویر اور دیگر آلات لہوولعب سے پاک ہو ،ضروری ہے اور دوسرے کمروں میں جانے سے اجتناب کرنا چاہیئے جن کے اندر یہ چیزیں موجود ہوں۔

قال            النبی ﷺ لا تدخل الملا ئکۃ بیتا فیہ کلب ولا تصاویر متفق علیہ ( مشکوۃ شریف ص ۳۲۹

(۲)

ناجائز امور میں والدین کا حکم ماننا جائز نہیں ۔

لا    طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخاق ( مشکوۃص ۳۲۱

(۳)

ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے والدین کو غیر شرعی کام سے روکنا جائز ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو غیر اللہ کی عبادت اور اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی اور شیطان کی اطاعت سے منع کیا۔

کتبہ عبدالحنان

الجواب صحیح حمید اللہ جان

(۳)

جامعہ دارالعلوم کراچی نمبر ۱۸ ؛ فتوی نمبر13؍528

(۱)

مذکورہ صورت میں آپ اپنے گھر والوں کو سمجھائیں کہ تصویریں رکھنا جائز نہیں ‘ گناہ کبیرہ ہے اور انہیں احادیث میں تصویروں کے متعلق واردہونے والی وعیدیں سنائیں اس کے باوجود بھی اگر وہ اپنے اس عمل پر قائم  رہیں اور گھر سے تصاویرنہ ہٹائیں تو اس صورت میں آپ پرکوئی گناہ نہیں اور آپ کیلئے ایسے گھر میں جانا بھی جائز ہے۔ البتہ اگر الگ کمرہ میں رہنا ممکن  ہو تو اس صورت کواختیارکر لیا جائے۔

(۲)

نبی پاک ﷺ کا ارشاد ہے

لا        طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق

یعنی اﷲتعالیٰ کی نافرمانی کر کے مخلوق کی اطا عت جائز نہیں

اس حدیث کی روسے آپ کیلئے گناہ کے کاموں میں والدین کی اطاعت جائز نہیں چاہے وہ ناراض ہوں لیکن جب وہ کسی ناجائز کام کاحکم دیں  توآپ انہیں احسن طریقہ سے ٹال دیا کریں تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی ذہن سازی بھی کرتے رہیں۔ مگر ہر حال میں ان کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں اور ان  کے ساتھ بد تمیزی بدتہذیبی سے مکمل اجتناب کریں۔

(۳)

اگر چہ حدیث شریف میں ہاتھ سے نہی عن المنکر کو افضل کہا گیا ہے لیکن یہ اس وقت ہے جبکہ فتنہ کا کوئی اندیشہ نہ ہو اور جہاں فتنہ کا اندیشہ ہو وہاں یہ افضل نہیں ہے اس لیئے مذکورہ صورت میں اگر والدین کے ادب واحترام کو ملخوظ رکھ کر انہیں گناہ کے کاموں سے روکنا ممکن ہو تو انہیں روک دیا جائے لیکن اس کیلئے کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس کی وجہ سے گھروالوں کے درمیان آپس میں منافرت پیدا ہو جائے یا ان کی بے ادبی ہو تو اس سے احتراز کرنا لازم ہے ہاں شرعی  حدود اور ادب کے دائرہ میں رہتے ہوئے انہیں  راہ راست پر لانے کی اپنی سی کوشش کی جائے ۔ باقی ہر شخص اپنے عمل کا خود ذمہ دار ہے آپ ان کے گنا ہ کے شرعاً ذمہ نہیں ہیں۔

کتبہ زکریا اشرف

الجواب صحیح اصغر علی ربانی

الجواب صحیح محمود اشرف

(۴)

دارالعلوم کبیروالہ؛ فتوی نمبر۱۲۴۵۷

جہاں تک آپ ان غیر شرعی امور کو روک سکتے ہیں تو روکیں اگر قدرت نہیں تو آپ معذور ہیں آپ پر گرفت نہ ہو گی البتہ خود کو گنا ہوں سے بچانے کی  کوشش کریں والدین سے محبت اور پیار سے ان مفاسد کو دور کرنیکی کوشش کریں۔

کتبہ محمد افضل

الجواب صواب حامد حسن

(۵)

جامعۃ    العلوم الاسلامیہ،علامہ بنوری ٹاون کراچی؛ فتوی نمبر ۶۶۹

واضح رہے کہ والدین کے بہت زیادہ حقوق ہیں قرآن مجید میں اﷲ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ احسان اور نیک  سلوک کاحکم فرمایا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجیدمیں ہے۔

وقضی         ربک الا تعبد والا ایاہ وبا لوالدین احسانا ( سورۃ بنی اسرائیل  پ ۱۵

لیکن والدین کی خدمت کے ساتھ ساتھ حضور اکرم ﷺ کا یہ بھی ارشادہے۔

وعن       النواس بن سمعان قال قال رسول اﷲﷺ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق  (مشکوۃ شریف                     ص ۳۲۱

یعنی خالق کی ناراضگی والے امور میں کسی کی اطاعت کرنا جائز نہیں۔

اسلئے اگر والدین  برائی کا حکم کریں تو شرعاً والدین کا یہ حکم ماننا ضروری نہیں چاہے برائی کا کوئی بھی حکم ہو اور کسی بھی صورت ہو۔ چاہے وہ گانا سننے کاہو یا ٹی وی ‘ وسی آر بنانے کا ہو یا حرام کی کمائی والے شخص کے گھر کھانا کھانے کاہو یا بغیر ضرورت جماعت کی نماز چھونے کا ہو یا بہن کی شادی کے موقع پر خرافات وغیرہ کا انتظام سنبھالنے کا ہو اور والدین کا حکم نہ  ماننے کیوجہ سے اس صورت میں نافرمان بھی شمار نہیں ہونگے۔

اسلئے صورت مسئولہ میں اولاً والدین کو حکمت کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کریں اگروالدین سمجھانے کےباوجود بھی نہ مانیں تو گھر میں الگ کمرہ میں رہنے کی اجازت ہوگی ۔ لیکن الگ کمرہ میں رہنے کے بعد بھی والدین کی ضروریات کا خیال رکھنا اور انکی خبر گیری کرنا پھر بھی ضروری ہوگا۔ اگر آپ کو قدرت ہوکہ ٹی وی ‘ وی سی آر وغیرہ گھر سے دور کردی جائے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں ہے بلکہ درست فعل ہوگا۔

کتبہ گل بادشاہ مسعود

الجواب صحیح  محمد عبدالقادر

الجواب صحیح محمد عبدالمجید دین پوری

(۶)

جامعہ  فاروقیہ کراچی؛ فتوی نمبر ۶؍۵۲

آپ گھر والوںسے غلط اثر لینے کی بجائے ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں ۔ حتٰی الوسع با جماعت نماز کو نہ چھوڑیں اور فرض نماز کو تو کسی صورت میں قضا نہ کریں اگرچہ آپ کے گھر میں منکرات موجود ہیں تاہم آپ اپنے گھر جاسکتے ہیں۔ کوشش کریں اپنے گھر سے ہر قسم کی منکرات کو ختم کریں اور اگر زیادہ نہیں ہو سکتا تو کم سے کم اپنے لیے ایک کمرہ خاص کر یں جو ہر قسم کے منکرات کے سے پاک ہو ۔

ہر قسم کے جائز اور مباح امور میں والدین  کی اطاعت لازم ہے۔ لیکن غیر شرعی امور میں اطاعت جائز نہیں مذکورہ تمام امور غیرہ شرعی اور ناجائز ہیں۔ اس لیے ان میں والدین کی اطاعت درست نہیں۔ادب کا تقاضہ تو یہ ہے اگر والدین کوئی ممنوع کام کرہے ہوں تو خود منع کرنے کی بجائے کسی اور کہا جائے ۔وہ ان کو منع کرے تاہم ناجائز امور کے ارتقاب سے ان کو منع کرسکتے ہیں۔

عن    النواس بن سمعان قال قال رسول اﷲﷺ لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق  (مشکوۃ شریف ج ۲ ؍۳۲۱

کتبہ  محمد عمر

الجواب صحیح  محمد یوسف

الجواب صحیح  منظور احمد مینگل

(۷)

جامعہ دارالعلوم مدنیۃ بہاولپور

(۱)

واضح رہے کے ایسے امور جن کی وجہ سے گھر میں عبادات چھوٹتی ہو یا قضا ہوتی ہوں تو ایسی صورت میں اپنے لیے گھر میں ایک کمرہ مخصوص کرلیں اور اسی میں ہی اپنی رہائش اختیار کریں اور گھر کے دوسرے حصوں میں نہ جائیں

(۲)

والدین کا ہر وہ حکم جو اﷲ اوراﷲ کے رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہواسکا نہ ماننا ضروری ہے ۔ اس لئے کہ حدیث مبارک ہے ۔

لا  طاعۃ لمخلوق فی       معصیۃ  الخالق ۔

یعنی خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت ضروری نہیں۔

نیز یہی حکم ہمشیرہ وغیر کو بازار لے جانے کا ہے آپ شرعی عذر بتادیں۔

(۳)

اگر ادب کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے انکو  روک سکتا ہے تو ان کو اچھے احسن طریقے سے روک دے اگر

روک نہیں سکتا تو دل میں ہی ان کو برا جانے اور ان کے لیے ہدایت کی دعا کرتا رہے ۔ جیسا کے حدیث مبارکہ میں ہے۔

من         رای منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ فان لم یستطع فبلسانہ فان لم یستطع فبقلبہ وذالک اضعف

الا یمان۔

کتبہ احمد سفیان

الجواب صحیح عطا الرحمن

واللہ            سبحانہ و تعالی اعلم