Print
PDF
User Rating: / 0
PoorBest 

 

اسلامی بنکاری

آج کل بہت سے بنکوں نے اسلامی بنکاری کی نام سے ایک نظام شروع کیا ھے۔ لیکن اکثر علماء کرام اس کے جوازکے قائل نہیں  ھیں اور بہت سی خرابیوں کی نشان دھی کرتے ھیں ۔

اول تو معاملات کی شقوں کے جواز میں ھی اختلاف ھے،

دوم ۔ اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ تمام معاملات کی تمام شقیں شرعی حدود کے اندر ھیں اور جائز ھیں،  تو بھی اس بات کا کیاثبوت ھے کہ بینک کے ملازمین ان شقوں کی مکمل پاسداری کرتے ھیں۔

عام طور پر بینک کے ملازمین ڈاڑھی منڈے، فاسق، فاجر  ھیں جس طرح کہ آج کل کی اکثر عوام ھے۔ اگر خواتین ھیں تو بے پردہ ھیں۔ اگر ان کے دل میں دین کی اھمیت ھوتی تو کم از کم اپنا ظاھر تو دین کے مطابق بناتے۔ لہذا جس کے دل میں دین کی اھمیت ھی نہیں وہ ان باریک باریک شقوں پر کیسے عملدرآمد کرے گا۔ لہذا غالب گمان یہی ھے کہ شاید صرف کاغذی کاروائی ھوتی ھو۔ اصل میں عملی طور پر شق پر عمل نہیں ھوتا۔

جب تک  کامل یقین نہ ھو کہ تمام معاملات کی تمام شقوں کا خیال رکھا جاتا ھے، اس وقت تک  کیسے جواز کا فتوی دیا جا سکتا ھے۔

 

لہذا ھماری رائے تو یہی ھے کہ موجودہ اسلامی بنکاری،مکمل طور پر اسلامی نہیں۔

 

اگر جائز مان بھی لیں تو بھی اس میں شک ضرور ھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ

دع ما یریبک الی ما لا یریبک

ایک اور حدیث میں ھے

ان الحلال بین والحرام بین      وبینھما مشتبھات لایعلمھن کثیر من الناس۔ فمن اتقی الشبھات استبرا لدینہ و عرضہ ومن وقع فی الشبھات وقع فی الحرام     ۔۔۔ الخ

حلال بھی ظاہر ہے اور بلاشبہ حرام بھی ظاہر ہے اور دونوں کے درمیان شبہ کی چیزیں ہیں جن کو بہت سے لوگ نہیں جانتے سو جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنے دین اور آبرو کو محفوظ کر لیا اور جو شخص شبہات میں پڑ گیا وہ حرام میں پڑ جائیگا

لہذا احتیاط کا تقاضا یہی ھے کہ اسلامی بنکاری کے تحت معاملات کرنے سے بھی اجتناب کیا جائے۔

البتہ بعض علماء کرام اس کے جواز کے قائل ھیں۔ بعض بینک علماء کرام کی زیر نگرانی کام کر رھے ھیں۔ اگر وہ علماء کرام مکمل گارنٹی دیں کہ

بینک میں تمام معاملات شرعی ھیں اور

تمام شقیں شرعی ھیں اور

تمام ملازمیں باریک سے باریک شرط کی بھی مکمل پابندی کرتے ھیں اور

سارا کام مفتیان کرام کی زیر نگرانی ھوتا ھے

تو عام عوام ان کے فتوی پر عمل کر سکتی ھے۔ البتہ مقتدٰی حضرات کو پھر بھی احتیاط کرنی چاھیئے۔

لیکن یہ ان حضرات کی رائے ھوگی ۔ ھماری  رائے عدم جواز کی ھی ھے۔

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

 

ملحوظہ

 

 

دارالعلوم کراچی  کے متعلق سنا ھے کہ میزان بینک ان کی زیر نگرانی کام کر رھا ھے۔ جو حضرات  میزان بینک کی متعلق پوچھنا چاھیں وہ ان سے تفصیلی فتوی حاصل کر سکتے ھیں۔ان کا پتہ یہ ھے

 

دارالافتاء

دارالعلوم کورنگی

کورنگی ایریا، کراچی نمبر 14