اصلاحِ باطن اور اصلاحی تعلق سے متعلق ابتدائی باتیں

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اصلاحِ   باطن اور اصلاحی تعلق  سے متعلق

ابتدائی باتیں

اللہ تعالیٰ نے نظام کائنات میں امن وسکون کا مدار افراد اور اقوام کی صلاح پر رکھاہے، جن افراد اور اقوام میں قوٰی اور فطری صلاحیتیوں کو ٹھیک ٹھیک استعمال کیا جاتا ہے ان کا معاشرہ مثالی ہوتا ہے، دین اسلام تو ہے ہی سراپا امن وسکون اور راحت وآرام کا باعث، جس مسلمان نے بھی شر عی احکام کی پابندی کی، رذائل سے اجتناب کیا اور حسبِ استطاعت تحصیل فضائل میں لگارہا تو اس نے ایسا دلی سکون حاصل کیا  جس کی نظیر مشکل ہے    ؎

دلے دارم جواہر  خانۂ عشق است تحویلش

کہ دارد زیر گردوں میرسامانے کہ من دارم

اورتزکیۂ نفس کا خلاصہ بھی اصلاح رذائل وتحصیل فضائل ہے یعنی شہوت ونفس پرستی، کذب و غیبت، غضب، حقد، حسد، حب دنیا یعنی حب مال وجاہ ،بخل، حرص ، ریا، کبرو غرور، عجب ، بدگمانی، بغض و عداوت وغیرہ کی اصلاح ہوجائے اور توفیق توبہ واستغفار، رجاء وخوف، زہد وتقویٰ، صبروشکر،  توحید، محبت الہیہ، ذوق وشوق ، اخلاص، صدق ووفا، امانت ودیانت ، مراقبہ ومحاسبہ اور فکر آخرت جیسے فضائل حاصل ہوجائیں ، مذکورہ بالا دونوں شعبوں کے اسباب اختیار کرنا اور استقامت ودوام کے ساتھ ان پر عمل کرنا مطلوب ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

احبّ الاعمال الی اللّٰہ ادومھاوا ن قلّ(بخاری      : ۲/۸۷۱)

دائمی عمل اگرچہ کم ہو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے

اللہ تعالیٰ نے ترک معاصی ظاہرہ وباطنہ کے دوام کا حکم

وذروا ظاہر        الاثم و باطنہ  (انعام :120

کے الفاظ کے ساتھ فرمایا  ہے اور

دوام علی الطاعات کا حکم

فاستبقواالخیرات

جیسے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔

مندرجہ بالا تحریر میں دوچیزوں کا ذکر صراحۃً اور ایک چیز کا ذکر ضمناً کیا گیا

(1) اصلاح رذائل

(2)تحصیل فضائل

(3)اذکار واشغال

اول دونوں امور کا تعلق مقاصد سے ہے اور تیسری چیز معینِ مقاصد ہے اصل مقصود نہیں، اصل مقاصد کو چھوڑ کر زوائد ہی کو مقصد سمجھنا قرین قیاس نہیں، حضرت حکیم الامہ تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی غلطی کی نشاندہی فرمائی ہے، پہلی دونوں چیزیں دل کی رگڑائی کے بغیر حاصل نہیں ہوتیں

؎

آئینہ بنتا ہے رگڑے لاکھ جب کھاتا ہے دل

کچھ نہ پوچھو دل بڑی مشکل سے بن پاتا ہے دل

حضرت حکیم الامہ رحمہ اللہ تعالیٰ اور حضرت اقدس  حضرت مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی خانقاہوں میں سالک کی  رگڑائی کرکرکے سعادتمند بنایا جاتا تھا اس لئے اول الذ کر حضرت کا مقولہ بڑا مشہور ہے کہ

جو لوگ مجھ سے اصلاحی تعلق نہیں رکھتے ان میں  ننانوے خرابیاں ہوں اور ایک خوبی ہو تو میں اس کی خوبی کو دیکھتا ہوں عیوب کی طرف نظر نہیں جاتی  اس موقع پر اپنے عیوب سوچتا ہوں اور جو لوگ مجھ سے اصلاحی تعلق رکھتے ہیں ان کے اندر ننانوے  خوبیاں ہوں اور صرف ایک خامی ہو تو مجھے ان کی یہ خامی نظر آتی ہے محاسن پس پردہ چلے جاتے ہیں  پھر مختلف طرق اور تدابیر سے اس کا یہ عیب دورکرنے کی کوشش کرتا ہوں (اوکما قال)

ایک شیخ (جو اپنے مریدوں سے ذکر تو دو دو گھنٹے خوب جہر اور ضرب کے ساتھ کراتے لیکن   خلافِ شرع وضع اور دیگر افعال منکرہ سے منع نہ کرتے)کا حال سن کر فرمایا تھا کہ

دو گھنٹے ضربیں لگا لینا کیا مشکل ہے تھوڑی دیر محنت کرلی پھر دن بھر رات بھر آزاد، میرے یہاں تو وہ آئے جس کو رات دن اپنے نفس پر آرے چلانے ہوں، قدم قدم پر یہ فکر ہو کہ کونسا کام جائز ہےکونسا ناجائز۔(اشرف السوانح 28/2)

اسی موقع کے لئے حضرت مجذوب رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا

کاشانۂ مجذوب ہے منزل گہِ مستاں

جو کوئی یہاں آئے سمجھ سوچ کرآئے

فرزانہ جسے بننا ہو جائے وہ کہیں اور

دیوانہ جسے بننا ہو بس وہ اِدھر آئے

سو  بار   بگڑنا  جسے  منظور  ہو   اپنا

وہ آئے یہاں اور بچشمِ دلبر آئے

اسی رگڑائی، دھنائی اور روک ٹوک کانتیجہ تھا کہ حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص خواہ خواص میں سے ہو یا عوام میں سے پختہ کار متدین ہوتا تھا اور

بقول حضرت مجذوب رحمہ اللہ تعالیٰ:

احقر کا مدت سے یہ عقیدہ تھا کہ حضرت والا کا تو قریب قریب ہرمنتسب بفضلہ تعالیٰ مقتدٰی کی

حیثیت رکھتا ہے اور لوگ اس کے افعال سے تمسک کرتے ہیں۔ اس کی حال ہی میں خود حضرت والا سے بھی تصدیق سن کر مجھے خاص مسرت ہوئی۔ (اشرف السوانح: 29/2)

وہ تصدیق کیا تھی ذیل میں ملاحظہ ہو

-1

اور میرے نزدیک تو قریب قریب ہر شخص قابل اجازت ہے اور میں تو سب کو اجازت دے دیتا لیکن مصالحِ دینیہ کا مقتضا یہ ہے کہ صاحب اجازت میں کسی نہ کسی قسم کی کچھ ظاہری وجاہت بھی ہو دینی یا دنیوی مثلاً اہلِ علم ہو یا کسی معزز طبقہ کا ہوتا کہ اس کی طرف رجوع کرنے میں کسی کو عار نہ آئے اور طریق کی بے وقعتی نہ ہو۔

-2

ایک بار فرمایا کہ الحمدللہ میرے احباب میں ایسے ایسے موجود ہیں جو اصول اصلاح کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور مشہور مشہور مشایخ سے بھی اچھی تربیت باطنی کرسکتے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ آج کل لوگ بس شہرت کی بناء پر معتقد ہوتے ہیں کمال کو کوئی نہیں دیکھتا، طریق سے بیگانگی ہوگئی ہے۔ (اشرف السوانح : 29/2)

تزکیہ اور اصلاح نفس فرض ہے، قوا                    انفسکم اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب میں ویزکیکم جیسی نصوص اس کی شاہد ہیں اور اس سے بے اعتنائی ذلت ورسوائی کا باعث ہوگی۔

اب رہا یہ سوال کہ امراض باطنہ اور رذائل سے کیسے چھٹکارا حاصل کیا جائے اور محمود اوصاف کیسے اختیار کئے جائیں، اس کا کیا طریقہ ہوگا، کیا صورت ہوگی، اس کے لئے کیا کچھ کرنا ہوگا؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے بایں الفاظ ارشاد فرمایا ہے

یٰایّھا الذین آمنوا اتقوا اللّٰہ وکونوامع الصّادقین   ۔آیت: ۹-۱۹

اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور (عمل میں) سچوں کے ساتھ رہو۔ (بیان القرآن)

اہل اللہ کے ساتھ، اہلِ محبت کے ساتھ اہل دل کے ساتھ مصاحبت رکھنا لازم ہے

؎

صحبتِ صالح ترا صالح کند

صحبتِ طالح ترا طالح کند

ہرکہ خواہد ہمنشینی باخدا

گونشیند درحضورِ اولیاء

یک زمانہ صحبتِ بااولیاء

بہتر از زصد سالہ طاعت بے ریا

یک زمانہ صحبت بااہلِ دل

کرد عاصی را مسلمِ کامل

صحبتِ صالح اگر یک ساعت است

بہتر از صدسالہ زہدوطاعت است

اور حضرت سعدی رحمہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہی خوب فرمایا ہے، حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے تھے کہ حضرت سعدی رحمہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل اشعار مجھے بہت پسند ہیں اس لئے اکثر ان کو دہراتا رہتا ہوں، وہ اشعار یہ ہیں

گِلے خوشبوئے درحمام روزے

رسید از دستِ محبوبے بدستم

بدوگفتم کہ مشکی یاعبیری

کہ از بوئے دلآویزِ تو مستم

بگفتا من گِلے ناچیز بودم

ولیکن مدتے باگُل نشستم

جمالے  ہمنشیں  درمن اثر کرد

وگرنہ من ھما خاکم کہ ہستم

اہم فوائد

فائدہ نمبر-1:     چار سلسلے اور ان کے اکابر کے نام

سلسلۂ چشتیہ

حضرت خواجہ معین الدین اجمیری رحمہ اللہ تعالیٰ

سلسلۂ نقشبندیہ

حضرت شیخ بہاء الدین نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ

سلسلۂ سہروردیہ

حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی رحمہ اللہ تعالیٰ

سلسلۂ  قادریہ

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ تعالیٰ

نمبر -2 فائدہ

فقہ میں جس طرح چار سلسلے ہیں حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی، اسی طرح فن ِ تصوف میں بھی چار سلسلے ہیں، چشتیہ، نقشبندیہ،  قادریہ، سہروردیہ۔

پاک وہند، افغانستان، بنگلہ دیش ، برما وغیرہ ممالک میں فقۂ حنفی  کا عام دستور ہے اسی طرح ان ممالک میں سلسلۂ  چشتیہ کابھی غلبہ ہے ، دوسرے نمبر پر نقشبندی سلسلہ ہے۔

نمبر -3 فائدہ

فن علوم الحدیث میں حضرت شاہ ولی ا للہ رحمہ اللہ تعالیٰ ہمارے دیار میں مسند اور مدار الحدیث ہیں اسی طرح تصوف میں حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمہ اللہ تعالیٰ بھی مدار اور  مرکز ہیں۔

فائدہ نمبر-4

حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ چا روں سلسلوں میں بیک وقت بیعت فرماتے تھے ، ان کے بعد ان کے خلفاء اکابر امت بھی چاروں میں بیعت فرماتے رہے تا کہ ہر سلسلہ کا اد ب ملحوظ رہے اور سالک ومسترشد کی تربیت حسبِ طبیعت ورجحان کی جاسکے۔

فائدہ نمبر-5

مذکورہ سلاسل اربعہ اصولاً متحد ہیں اس  لئے کہ اصل غرض ومقصد اخلاقِ فاضلہ کی تحصیل اور تہذیب اخلاق ہے اور رضائے مالک اصل الاصول ہے البتہ مالک کی رضا حاصل کرنے کے طرق متعدد ہیں، حضرات چشتیہ تہذیبِ اخلاق کو مقدم رکھتے ہیں اور خاص توجہ اسی پر مرکوز کرتے ہیں اور باقی تینوں سلاسل کے حضرات اشغال واذکار کی طرف توجہ زیادہ فرماتے ہیں۔

فائدہ نمبر-6

چشتیت میں قلندرانہ رنگ غالب ہے جس کی خاص کیفیات شورش وجوش اور وجد وطرب وغیرہ ہیں جس کے تحت ہاؤ ہوکا حال قال ان پر زیادہ طاری رہتا ہے اور اس سے ان کی زندگی کا عنوان افروختن وسوختن وجامہ دریدن ہے، ادھر نقشبندیہ میں اخفاء وتستر، سکوت وصموت اور ضبط وتحمل کا غلبہ ہے۔ ایک موقع پر حضرت حکیم الامہ تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ

سلسلۂ چشتیہ توبس بجلی کا تار ہے ذرا ہاتھ لگایا نہیں کہ لپٹا نہیں۔اشراف السوانح 28/2

پرچۂ بیعت

(بعداز خطبہ)

میں توبہ کرتا ہوں کفر سے ،شرک سے ،بدعت سے ،ہرچھوٹے بڑے گناہ سے ،میں وعدہ کرتا ہوں فرض نماز پڑھوں گا ،زکوٰۃ فرض ہوئی تو اداکروںگا ،فرض روزے رکھوںگا،حج فرض ہوا تو اداکروںگا،  میں پوری زندگی شریعت کے مطابق گزاروں گا ،اللہ تعالیٰ کی راہ میںجان یا مال دینے کا موقع پیش آیا تو بخوشی دوں گا۔

میں داخل ہوتا ہوں سلسلۂ چشتیہ ،نقشبندیہ ،سہروردیہ ،قادریہ میں، یااللہ! اپنی رحمت سے میری توبہ اوربیعت قبول فرما،برزخ میں، حشر میں، جنت میں اپنے مقبول بندوں کا ساتھ نصیب فرما۔

ضروری وضاحت

حضرت رحمہ اللہ تعالیٰ ، بیعت ہونے والے کے ہاتھوں کو مصافحہ کی صورت میں اپنے ہاتھوں میں لیتے، پھر کچھ دیر تک دل ہی دل میں دعائیںمانگتے، پھر خطبہ پڑھتے جس میں آیتِ بیعت اِنّ     الذین یبایعونک (الآیۃ) تلاوت فرماتے، اس کے بعد درج بالا الفاظ مرید ہونے والے سے کہلواتے۔

مراقبۂ موت

کُوچ ہاں اے بے خبر ہونے کو ہے

تابہ کے غفلت سحر ہونے کو ہے

باندھ لے توشہ، سفر ہونے کو ہے

ختم  ہر  فردِ بشر  ہونے  کو     ہے

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

تجھ کو غافل فکر عقبی کچھ نہیں

کھانہ دھوکہ عیش دنیا کچھ نہیں

زندگی   چند   روزہ      کچھ نہیں

کچھ نہیں اس کا بھروسہ کچھ نہیں

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

ہورہی ہے عمر مثل برف کم

چپکے، چپکے، رفتہ، رفتہ دم، بدم

سانس ہے اک رہر و ملک عدم

دفعتاً اک روز یہ جائے گا تھم

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

بہرِ غفلت یہ تیری ہستی نہیں

دیکھ! جنت اس قدر سستی نہیں

رہ گذر    دنیا   ہے  یہ  بستی  نہیں

جائے عیش وعشرت ومستی نہیں

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

حسن ظاہر پر اگر تو جائے گا

عالم فانی سے دھوکہ کھائے گا

یہ منقش سانپ ہے ڈس جائے گا

رہ نہ غافل یاد رکھ پچھتائے گا

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

دفن خود صدہا کئے زیر زمیں!

پھر بھی مرنے کا نہیں حق الیقین

تجھ سے بڑھ کر بھی کوئی غافل نہیں

کچھ تو عبرت چاہئے نفس لعیں

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

یہ تیری غفلت ہے بے عقلی بڑی

مسکراتی ہے قضا سر پر کھڑی

موت کو پیش نظر رکھ ہر گھڑی

پیش آنے کو ہے یہ منزل کڑی

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

گرتا ہے دنیا پہ تو پروانہ وار

گو تجھے جلنا پڑے انجام کار

پھر یہ دعویٰ ہے کہ ہم ہیں ہوشیار

کیا یہی ہے ہوشیاروں کا شعار

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

حیف! دنیا کا تو ہو پروانہ تو

اور کرے عقبیٰ کی کچھ پروا نہ تو

کس قدر عقل سے ہے بیگانہ تو

اس پہ بنتا ہے بڑا فرزانہ تو

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

ترک اب ساری فضولیات کر

یوں نہ ضائع اپنے تو اوقات کر

رہ نہ غافل یادِ حق دن رات کو

ذکرو فکر ہاضم اللذات کر!

ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے

کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے

دیوبند

شادباش وشادزی اے سر زمینِ دیوبند

ہند میں تو نے کیا اسلا م کا جھنڈابلند

ملتِ بیضاکی عزت کولگائے چار چاند

حکمتِ بطحا کی قیمت کو کیاتو نے دوچند

اسم تیرا بامسمی ضرب تیری بے پناہ

دیوِاستبداد کی گردن ہے اورتیری کمند

تیری رجعت پر ہزار اِقدام سو جان سے نثار

قرنِ اول کی خبر لائی تری الٹی زقند

تو عَلَم بردارِحق ہے حق نگہبان ہے ترا

خیلِ باطل سے پہنچ سکتا نہیں تجھ کو گزند

ناز کر اپنے مقدر پر کہ تیری خا ک کو

کرلیا ان عالمانِ دینِ قیّم نے پسند

جان کردیں گے جو ناموس پیمبر ﷺ پر  فدا

حق کے رستہ میں کٹادیں گے جو اپنا بندبند

کفر نا چا جن کے آگے بارہا تگنی کا ناچ

جس طرح جلتے تو ے پر رقص کرتا ہے سپند

اس میں قاسم ہوں کہ انور شہ کہ محمود الحسن

سب کے دل تھے در د مند اور سب کی فطرت ارجمند

گرمیٔ ہنگامہ تیری ہے حسین احمد سے آج

جن سے پرچم ہے روایاتِ سلف کا سربلند

وضاحت

ظفر علی خان کی درج بالا نظم کے پہلے شعر میں حضرت فقیہ العصر مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی ترمیم وتضمین

شاد باد وشادزی اے سر زمینِ دیوبند

تو نے عالم میں کیا اسلام کا جھنڈا بلند

قوتِ فکر و عمل وہ سطوتِ زورِ کلام

ہے ثریا بھی ترے فرسان کے زیرِ کمند

چارسو آفاق میں ہے تیرے علم وفن کی دھاک

تیرے فرزندوں کے آگے بحرقطرہ کُہ سِپند

 

Facebook Comments