حیاتِ زندگی کا خلاصہ

 

حیاتِ زندگی کا خلاصہ

پیدائش:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے تیرہ سال بعد حضرت عمرؓ  پیدا ہوئے

نام:

عمر

سلسلہ نسب :

ساتویں پشت میں ان کا سلسلہ نسب بھی سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملتا ہے۔

والد کا نام :

خطاب

والدہ کا نام:

غنمۃ بنت ہشام ابن المغیرہ مخزومی

لقب:

فاروق

وفات:

27 ذی الحجہ 23ھ چہار شنبہ کے روز شام کے وقت

خلافت کی ابتدا

23جمادی الثانی13ھ مطابق23اگست634ء بروز سہ شنبہ آپ کی خلافت کی ابتدا ہوئی۔

مدت خلافت:

دس سال چھ مہینے اور چار دِن

شرف و اھم خدمات

1

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا

اے اللہ! عمرو بن ہشام (ابوجہل) اور عمرؓ بن خطاب میں سے کسی ایک سے اِسلام کو قوت و شوکت عطا فرما

یہ دعا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حق میں قبول ھوئی۔ گویا وہ مرادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تھے

2

حضرت عمرؓ  کے لئے یہ بات یقینا فخر کے قابل ہے کہ اذان کا فیصلہ ان کی رائے کے موافق ہوا۔

3

سنِ ہجری کی بنیادی ڈالی

4

سب تاریخیں متفق ہیں کہ حضرت فاروق اعظم ؓ کی خلافت کا زمانہ تاریخ اِسلام کا سنہرا زمانہ تھا

5

عوام کی حفاظت کے لئے پولیس اور خفیہ پولیس کا نہایت اچھا انتظام تھا۔ مجرموں کو سزا دینے کے لئے جیل خانے بنائے گئے تھے۔ اسلام میں بعض صورتوں میں جلاوطنی کی سزا آپ نے ہی مقرر فرمائی تھی۔

6

آپ کے عہد میں تعمیرات کا ایک مستقل شعبہ قائم تھا۔ جس کے ذریعے مسجدیں اور سڑکیں بنائی گئیں۔ پُل تعمیر ہوئے اور نہریں نکالی گئین۔ جن میں سے نہرابی موسیٰ اور نہر متصل بہت مشہور ہیں۔ ہر بڑے شہر میں سرکاری مہمان خانے تعمیر کرائے اور کئی نئے شہر بھی آباد کیے گئے۔

7

حضرت عمرؓ نے ہر صوبے اور ہر ملک میں ابتدائی مدارس قائم کر دئیے تھے۔ جن میں مذہبی تعلیم کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا۔

8

بیت الحرام اور مسجد ِ نبوی کو وسعت دی گئی۔ اوّل اوّل مسجد میں فرش اور روشنی کا انتظام آپ ہی کے حکم سے ہوا تھا۔

9

آپ رضی اللہ عنہ ان صحابہ میں سےھیں جن کو دنیا میں ھی جنت کی بشارت دی گئی

10

مردم شماری کا محکمہ الگ تھا۔ جس سے مُسلمانوں ذمیّوں ٗ غلاموں اور دیگر افراد کا پتہ چل جاا تھا۔ اِس کا سب سے بڑا مقصد یہ تھا کہ ذمیّوں کے حقوق کی پوری نگرانی کی جا سکے اور غلاموں کو آزاد کِیا جا سکے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جنابِ فاروق   کے عہد میں غلامی کا رواج بہت کم ہو گیا تھا۔

11

حضرت عمرؓ نے اِسلامی سکّہ جاری کیا۔ جس کے ایک طرف الحمد للہ اور دوسری طرف لا اِلٰہ الا اللہ وحدہ ٗ کے لفظ تھے اور بعض پر الحمد للہ کی جگہ محمد رسُولُ اللہ درج تھا۔

12

حضرت عمرؓ  قرآن شریف کے بہت بڑے عالم اور چوٹی کے محدث تھے۔ علم فقہ کی بنیاد اُنہوں نے ہی رکھی۔ فقہ حنفی میں تقریباً تمام مسئلے حضرت عمرؓ ہی کے رائج ہیں۔ عربی کے علاوہ عبرانی زبان میں بھی کافی مہارت رکھتے تھے۔ آپ آنحضرت ؐ  کو توریت سُنایا کرتے تھے۔

13

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب میں بہت سی احادیث ھیں۔ ایک حدیث میں ھے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ھوتا تو عمر ھوتا

 

Facebook Comments