مختلف خبروں کا سننا اور سنانا، اخبار بینی

 

مختلف خبروں کا سننا اور سنانا، اخبار بینی

اگر مندرجہ ذیل  قباحتیں نہ ہوں تو مختلف خبریں سننا سنانا  یا اخبار بینی جائز ہےیعنی یہ کہ میڈیا اسلام اور مسلمانوں کا حامی ہو ، تصاویر یا کوئی اور غیر شرعی مواد نہ ہو، تحقیق کے بعد خبریں شائع کی جائیں، منافرت وعصبیت کی بیخ کنی کا عنصر ہو،عوام میں انتشار اور بزدلی پھیلانے والی خبریں نہ ہوں، اشاعت اسلام کا پہلو غالب ہووغیرہ

فی زماننا مختلف خبروں کا سننا اور سنانا، اخبار بینی جائز نہیں۔ اس میں درج ذیل مفاسد ہیں:

اکثر خبریں فضول اور لا یعنی ہوتی ہیں، جن میں نہ دین کا کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ دنیا کا ، جو شخص لایعنی سے نہ بچے اللہ تعالی کو اس کا اسلام پسند نہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ

اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے علم سے پناہ مانگی ہے جس میں دین کا یا دنیا کا کوئی فائدہ نہ ہو۔

اللھم انی اعوذبک من علم لا ینفع

اکثر باتیں غیر محقق ہوتی ہیں، اور بعض یقینا غلط،  جن کا بیان کرنا اور پھیلانا جھوٹ میں داخل ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع

کئی خبروں میں افتراء اور غیبت بھی ہوتی ہے۔ غیبت زنا سے بدتر ہے اور افتراء غیبت سے بھی بدتر۔

الغیبۃ اشد من الزنا۔ الحدیث

(غیبت کہتے ہیں کسی کے بارے میں ایسی ناگوار بات کہنا جو واقعتا اس میں موجود ہو، جبکہ افتراء یا بہتان یہ ہوتا ہے کہ  کسی پر ایسے عیب کا الزام لگانا جو اس میں نہ ہو)

ان خبروں میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈا اور سازشیں ہوتی ہیں۔ حالات سے ناواقف سادہ لوح مسلمان غیر شعوری طور پر اس سے متاثر ہوتے ہیں اور دشمنانِ اسلام کے بیان کردہ خلاف واقع نقائص سے ان کے دلوں میں اسلام سے دوری اور نفرت پیدا ہوتی ہے۔ اخبار دیکھنے سے ان خلاف شرع باتوں کی اشاعت میں تعاون ہوتا ہے۔

مختلف طبقات اور مختلف علاقوں کے درمیان عصبیت اور منافرت پیدا ہوتی ہے ۔

طرح طرح کے فتنوں اور فسادات کی خبریں سن کر انتشار، خوف و ہراس اور بزدلی پھیلتی ہے ۔ قرآن مجید میں ایسی خبروں کا پھیلانا منافقین کی عادات قبیحہ میں ذکر کیا ہے۔

واذاجاءھم امر من الامن اوالخوف اذاعوابہ

دوسری جگہ فرمایا:

لئن لم ینتہ المنافقون والذین فی قلوبھم مرض والمرجفون فی المدینۃ لنغرینک بھم ثم لا یجاورونک فیھا الا قلیلا۔

اخبار تصویر سے خالی نہیں ہوتا اور تصویر کا بلا ضرورت دیکھنا رکھنایا تصویر والی جگہ جانا جائز نہیں بلکہ کبیرہ گناہ ہے۔اور آجکل کے اخبارات و رسائل میں تو اکثر نیم عریاں خواتین کی تصاویر ہوتی ہیں، جن کا دیکھنا حرام ہے۔

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

حوالہ: اس مسئلہ کی تفصیل میں احسن الفتاوی ج8 ص212 اورص 234 سے مدد لی گئی ہے

 

Facebook Comments